خالی ہاتھوں سے لفظوں کی سلطنت تک،تحریر:عامر زریں
نقطہ نظرسلیم کوثر: ایک شاعر، ایک عہد اور زندگی سے کشید کیے ہوئے لفظوں کی داستان

کچھ لوگ شہر میں آتے ہیں تو شہر انہیں جگہ دیتا ہے، اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شہر میں آکر اپنے لیے جگہ بناتے ہیں۔ ان کے پاس نہ دولت ہوتی ہے، نہ سفارش، نہ کسی بڑے نام کی پشت پناہی؛ بس ایک خواب ہوتا ہے، چند لفظ ہوتے ہیں اور زندگی سے لڑنے کا حوصلہ۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہی لوگ شہر کی پہچان بن جاتے ہیں۔
سلیم کوثر بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔
ایک ایسا شاعر جس نے زندگی کو دور کھڑے ہو کر نہیں دیکھا بلکہ اسے قریب سے جھیلا، اس کے دکھ سہے، اس کی تلخی چکھی، اس کی بے وفائیوں سے گزرا اور پھر انہی تجربات کو شعر بنا کر اردو غزل کے دامن میں ڈال دیا۔ ان کی زندگی کا سفر پانی پت سے شروع ہوتا ہے، خانیوال اور کبیروالا سے گزرتا ہے، کراچی کی گلیوں میں اپنی جگہ بناتا ہے اور پھر شعر و ادب کے اس افق تک پہنچتا ہے جہاں لفظ شاعر کی شناخت بن جاتے ہیں۔
سلیم کوثر کا اصل نام محمد سلیم ہے۔ 24 اکتوبر 1947ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو ان کا خاندان بھی ان لاکھوں خاندانوں کی طرح ہجرت کے تجربے سے گزرا جنہوں نے ایک نئی مملکت میں نئی زندگی کی بنیاد رکھنے کے لیے اپنا گھر، اپنا شہر اور اپنی یادیں پیچھے چھوڑ دیں۔ خاندان خانیوال آکر آباد ہوا، بعدازاں کبیروالا میں قیام رہا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب سلیم کوثر کی شخصیت میں وہ حساسیت پیدا ہونا شروع ہوئی جو آگے چل کر ان کی شاعری کا بنیادی وصف بنی۔
بچپن اور نوجوانی کی زندگی کسی آرام دہ شاہراہ کا نام نہیں تھی۔ گھر کے حالات میں اتار چڑھاؤ تھا۔ ان کے والد انجینئر تھے اور مختلف مقامات پر کام کرنے کے بعد اپنی ورکشاپ بھی قائم کی، مگر زندگی ہمیشہ ایک ہی رفتار سے مہربان نہیں رہتی۔ سلیم کوثر نے ابتدائی عمر ہی میں یہ سیکھ لیا کہ خواب دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں ہوتیں، انہیں حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل جدوجہد بھی درکار ہوتی ہے۔
کبیروالا میں رہتے ہوئے ان کا رشتہ شعر و ادب سے مضبوط ہوا۔ ادبی انجمن قائم کی، مشاعروں میں شرکت کی اور اہلِ سخن کی صحبت اختیار کی۔ ان کی شعری تربیت کسی ایک استاد کے آستانے پر نہیں ہوئی۔ انہوں نے مطالعے، مشاہدے، سماعت اور مسلسل مشق سے اپنا راستہ بنایا۔ شاید اسی لیے ان کے ہاں شعر کسی مصنوعی صنعت گری کا نتیجہ کم اور زندگی سے براہِ راست کشید کیا ہوا تجربہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
پھر وہ وقت آیا جب ایک نوجوان شاعر اپنے خوابوں کا بوجھ اٹھائے کراچی پہنچا۔
کراچی اس زمانے میں بھی ایک ایسا شہر تھا جو آنے والے ہر شخص سے اس کی قابلیت کا ثبوت مانگتا تھا۔ سلیم کوثر بھی یہاں کسی تیار شدہ راستے پر نہیں آئے تھے۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق وہ تقریباً 1970ء یا 1971ء میں ایک سامان بردار ٹرک پر بیٹھ کر کراچی پہنچے۔ شہر میں قیام کے لیے مستقل ٹھکانہ نہیں تھا، روزگار کی تلاش تھی اور جیب میں محدود رقم۔
یہاں سے ان کی زندگی کا وہ باب شروع ہوتا ہے جسے پڑھتے ہوئے ان کی شاعری کے کئی مصرعوں کا پس منظر سمجھ میں آنے لگتا ہے۔
روزگار کی تلاش انہیں لیاقت آباد لے گئی جہاں واشنگ پاؤڈر پیک کرنے کا کام کیا اور فی گھنٹہ چند روپے اجرت حاصل کی۔ بعدازاں روزنامہ اعلان میں پروف ریڈر کی ملازمت ملی۔ اخبار کے دفتر کی دنیا نے انہیں لفظوں کے ایک اور جہان سے روشناس کرایا۔ پھر روزنامہ آغاز سے وابستگی ہوئی جہاں کالم نگاری، کتابت اور قطعہ نگاری کے فرائض انجام دیے۔ "چراغِ ادب" کے عنوان سے ادبی تحریریں لکھیں اور روزانہ قطعہ کہنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
یہ معمولی ملازمتیں نہیں تھیں؛ یہ دراصل ایک شاعر کی عملی تربیت تھی۔ دن بھر روزگار کی مشقت، رات کو لفظوں کی دنیا۔ ایک طرف معاشی ضرورتیں اور دوسری طرف تخلیقی بے قراری۔ شاید یہی امتزاج بعد میں ان کے لہجے میں وہ صداقت لے آیا جس نے انہیں محض مشاعروں کا شاعر نہیں رہنے دیا۔
صحافت کے بعد ان کی زندگی کا ایک اہم پڑاؤ پاکستان ٹیلی وژن تھا۔
ایک مشاعرے میں ان کے کلام کو ملنے والی پذیرائی نے معروف شاعر عبید اللہ علیم کی توجہ ان کی طرف مبذول کی۔ پھر سلیم کوثر کو پاکستان ٹیلی وژن میں کاتب کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت وہ اسکرپٹ نقل کرنے کا کام کرتے تھے۔ بعدازاں ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا اور وہ پروڈکشن سے بھی وابستہ ہوئے۔ ان کے مطابق 1975ء سے 2007ء تک پی ٹی وی سے تعلق رہا اور ملازمت کے آخری دور میں پروڈیوسر کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔
یہاں سلیم کوثر کی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے؛ وہ لفظ کے ساتھ کام کرنے والے ایک ایسے تخلیق کار تھے جو صحافت، کتابت، کالم نگاری، ٹیلی وژن اور شاعری—سب کے تجربات اپنے اندر جمع کرتے گئے۔
اور پھر وہ شاعر سامنے آیا جسے اردو غزل کے قارئین نے اپنے دل میں جگہ دی۔
سلیم کوثر کی شاعری میں محبت ہے مگر صرف محبت نہیں۔ ہجر ہے مگر صرف محبوب کی جدائی نہیں۔ تنہائی ہے مگر صرف ایک شخص کی تنہائی نہیں۔ ان کے ہاں انسان اپنی پوری داخلی شکست و ریخت کے ساتھ موجود ہے۔ رشتوں کی پیچیدگیاں، اپنی ذات سے مکالمہ، زمانے کی بے اعتنائی، روح کی بے قراری اور امید کی ہلکی سی کرن—سب ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
ان کا ایک شعر ان کی شعری شناخت کا استعارہ بن گیا:
"میں خیال ہوں کسی اور کا
مجھے سوچتا کوئی اور ہے"
یہ صرف دو مصرعے نہیں، انسانی تعلقات کی ایک پوری الجھن ہے۔ محبت میں موجود فاصلہ، شناخت کا سوال اور اس احساس کی کسک کہ انسان کسی کے قریب ہوتے ہوئے بھی شاید اس کے ذہن میں وہ شخص نہیں جو وہ خود کو سمجھتا ہے۔
سلیم کوثر کے کلام کی مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ان کے اشعار نے کتاب سے نکل کر آواز کا سفر کیا۔ معروف گلوکاروں نے ان کے کلام کو گایا اور یوں ان کی شاعری مشاعروں اور ادبی محفلوں سے نکل کر عام سامع کے دل تک پہنچی۔ یہ کسی شاعر کے لیے غیر معمولی کامیابی ہے کہ اس کا شعر پڑھا بھی جائے، سنا بھی جائے اور گایا بھی جائے۔
ان کے شعری مجموعوں میں "خالی ہاتھوں میں ارض و سما"، "یہ چراغ ہے تو جلا رہے"، "ذرا موسم بدلنے دو"، "محبت اک شجر ہے" اور "دنیا مری آرزو سے کم ہے" نمایاں ہیں۔ ان کی کلیات "جنہیں راستے میں خبر ہوئی" بھی شائع ہوچکی ہے، جس میں ان کے شعری سفر کے مختلف ادوار کو یکجا کیا گیا ہے۔
سلیم کوثر کی تخلیقی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی نعتیہ شاعری بھی ہے۔ "میں نے اسمِ محمدؐ کو لکھا بہت" ان کے عقیدتی اور روحانی کلام کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں محبت کا جو تصور ہے، وہ محض رومانوی دائرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات عقیدت، روحانیت اور انسانی باطن کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے۔
ان کا ادبی سفر پاکستان تک بھی محدود نہیں رہا۔ امریکا، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، قطر، مشرقِ وسطیٰ اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں مشاعروں میں شرکت نے ان کے کلام کو عالمی اردو حلقوں تک پہنچایا۔ 1985ء میں بھارت کا سفر بھی ان کے ادبی سفر کا ایک اہم حوالہ ہے۔
اور پھر وہ دن آیا جب ریاست نے بھی ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔
2015ء میں سلیم کوثر کو صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کے کئی دہائیوں پر محیط ادبی سفر کی سرکاری سطح پر پذیرائی تھی۔
مگر شاید کسی شاعر کے لیے اصل اعزاز کوئی تمغہ نہیں ہوتا۔ اصل اعزاز یہ ہے کہ اس کا شعر کسی اجنبی کے دل میں اتر جائے۔ کسی تنہا شخص کو اپنے دکھ کی آواز مل جائے۔ کسی عاشق کو اپنے احساس کے لیے لفظ مل جائیں۔ کسی قاری کو کتاب بند کرنے کے بعد بھی شاعر کا ایک مصرع یاد رہ جائے۔
سلیم کوثر کی زندگی کو اگر ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے زندگی سے وہ کچھ حاصل کیا جو زندگی نے انہیں آسانی سے نہیں دیا۔
پانی پت کا بچہ، ہجرت کا مسافر، خانیوال اور کبیروالا کا نوجوان، کراچی میں روزگار کی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک شخص، اخبار کا پروف ریڈر، کاتب، قطعہ نگار، کالم نویس، ٹیلی وژن کا کارکن اور بالآخر اردو غزل کا معروف شاعر—یہ سفر محض ایک شخص کا سفر نہیں، ہمارے عہد کی ایک ایسی داستان ہے جس میں محنت بھی ہے، محرومی بھی، خواب بھی اور لفظ کی طاقت بھی۔
سلیم کوثر نے شاید اسی لیے کہا تھا:
"خالی ہاتھوں میں ارض و سما"
کیونکہ بعض اوقات خالی ہاتھ ہی سب سے بڑی دولت کا آغاز ہوتے ہیں۔
جب ہاتھوں میں کچھ نہ ہو تو انسان لفظ جمع کرتا ہے، خواب جمع کرتا ہے، تجربے جمع کرتا ہے۔ پھر ایک دن وہی لفظ ایک ایسی دنیا بنا دیتے ہیں جس میں آنے والی نسلیں بھی اپنے دل کی آواز سن سکتی ہیں۔
سلیم کوثر نے بھی اپنے خالی ہاتھوں سے ایسی ہی ایک دنیا آباد کی ہے—
لفظوں کی دنیا۔
مزید پڑھیں




