جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاموش چیخیں،تحریر: بینا علی

نقطہ نظر
bina ali

چائلڈ لیبر عام زبان میں اسے کہتے ہیں کہ بچوں سے ایسے کام کروائے جائیں جو ان کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہوں۔ پاکستان میں 5 سے 17 سال کی عمر کے بچوں میں چائلڈ لیبر کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے اور یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے لاکھوں بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد ڈھائی کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک معصوم چہرہ، ایک ادھورا خواب اور ایک خاموش چیخ دفن ہے۔ یہ بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں، رنگ اور کھلونے ہونے چاہیےتھے آج اینٹیں اٹھانے، برتن مانجھنے اور مشینوں کے شور میں اپنی سانسیں گننے پر مجبور ہیں۔ ہوٹلوں میں برتن دھوتے ننھے ہاتھ، ورکشاپوں میں گریس اور دھوئیں سے سیاہ ہوتے چہرے، بھٹہ کی آگ میں جلتی بچپن کی مسکراہٹیں، اور گھروں میں "کام والی "کہہ کر پکاری جانے والی کم سن بچیاں یہ سب ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایسا بدنما داغ ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔غربت یقیناً ایک بہت بڑا المیہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا غربت اتنی بے رحم ہو سکتی ہے کہ والدین اپنے جگر گوشوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں؟ کئی والدین چند ہزار روپوں کے عوض اپنے بچوں کو ایسے گھروں، دکانوں اور فیکٹریوں میں بھیج دیتے ہیں جہاں ان کی معصومیت روز کچلی جاتی ہے۔ وہ بچے جو ماں کی گود میں سکون ڈھونڈنے کے حق دار تھے انہیں اجنبی لوگوں کے غصے، گالیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بچے معمولی غلطی پر بدترین مار کھاتے ہیں، کئی بھوک اور تھکن سے نڈھال ہو جاتے ہیں، اور کئی اپنی پوری زندگی کے لیے معذور بنا دیے جاتے ہیں۔اس سے بھی زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ چائلڈ لیبر صرف مشقت تک محدود نہیں رہتی۔ ان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، ذہنی اذیت اور بہیمانہ تشدد کے ان گنت واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ کتنے ہی بچے خاموشی سے ظلم سہتے سہتے اندر سے مر جاتے ہیں۔ کئی ننھی جانیں تشدد کے دوران اپنی سانسیں ہار بیٹھتی ہیں اور پھر چند دن بعد ان کی لاشیں خاموشی سے قبر کے حوالے کر دی جاتی ہیں۔ کچھ خاندان انصاف مانگنے کے بجائے دیت کے نام پر رقم وصول کر لیتے ہیں، گویا غربت نے احساسِ زیاں بھی چھین لیا ہو۔ذرا تصور کیجیے ایک بچہ جو رات کو بھوک اور درد سے کراہتے ہوئے یہ سوچ کر سو جاتا ہو کہ شاید کل اسے کم مار پڑے گی۔ ایک معصوم بچی جو اپنے کھلونوں کی عمر میں کسی گھر کے کچن میں جلتے چولہے کے سامنے کھڑی ہو۔ ایک ننھا مزدور جو سردیوں کی یخ راتوں میں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اپنے چھالوں بھرے ہاتھ سہلاتا ہو۔ یہ مناظر صرف کہانیاں نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی زندہ حقیقت ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہم ان بچوں کو روز دیکھتے ہیں مگر ان کی تکلیف محسوس نہیں کرتے۔ ہم چائے پیتے ہوئے ان چھوٹے ویٹروں کو آواز دیتے ہیں، گاڑی ٹھیک کرواتے ہوئے ان کم سن مکینک بچوں کو نظر انداز کر دیتے ہی، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ان کی عمر تو اسکول کی گھنٹی سننے کی تھی مشینوں کی آواز سننے کی نہیں۔

چائلڈ لیبر کا خاتمہ صرف نعروں، سیمیناروں یا سوشل میڈیا پوسٹس سے ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔۔ حکومت کو ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم یقینی بنانی ہوگی تاکہ کوئی بچہ کتاب کی جگہ اوزار نہ اٹھائے۔ ایسے خاندانوں کے لیے مالی معاونت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ والدین اپنے بچوں کی کمائی پر انحصار کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر کے خلاف موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ جو لوگ بچوں سے مشقت کرواتے ہیں ان پر صرف جرمانے نہیں بلکہ سخت سزائیں ہونی چاہییں تاکہ کوئی بھی معصوم بچپن کا سودا کرنے کی جرات نہ کرے۔ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں صرف بلند عمارتیں اور روشن بازار ہوں بلکہ مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں ہر بچہ محفوظ ہو، تعلیم یافتہ ہو، اور اپنے خواب پورے کرنے کا حق رکھتا ہو۔ کیونکہ جب کسی قوم کے بچے مزدوری پر مجبور ہو جائیں، تو دراصل اس قوم کا مستقبل زنجیروں میں جکڑ جاتا ہے۔جب تک ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب، چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں خواب نہیں ہوں گے تب تک ہمارا معاشرہ مکمل نہیں کہلا سکتا۔