Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاموشی بھی ایک زبان ہے،تحریر:انعم عباسی

anam abbasi

کبھی کبھی انسان بہت کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر کہہ نہیں پاتا۔

لفظ دل میں آتے ہیں، ہونٹوں تک پہنچتے ہیں اور پھر وہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہر بات کہنے کے لیے نہیں ہوتی، اور ہر شخص سننے کے قابل نہیں ہوتا۔

ہم اپنے اردگرد نہ جانے کتنے ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو بظاہر بالکل مطمئن، پرسکون اور معمول کی زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مسکراتے ہیں، دوسروں کی بات سنتے ہیں، اپنے فرائض نبھاتے ہیں اور زندگی کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ان کے اندر کیا چل رہا ہے۔

کسی کے چہرے کی مسکراہٹ کو اس کی مکمل خوشی سمجھ لینا بھی شاید ہماری ایک بڑی غلطی ہے۔

کچھ لوگ اپنے دکھ دوسروں کے سامنے رکھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ انہیں شکایت کرنا اچھا نہیں لگتا۔ وہ اپنے مسائل کا تذکرہ اس لیے بھی نہیں کرتے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص آپ کی تکلیف کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بعض اوقات انسان بہت کچھ صرف اس لیے برداشت کرتا رہتا ہے کہ اسے ڈر ہوتا ہے کہیں اس کی کہانی لوگوں کے لیے محض ایک تماشہ نہ بن جائے۔

ایسے لوگ خاموش ضرور ہوتے ہیں، مگر بے حس نہیں۔

وہ محسوس کرتے ہیں۔ انہیں بھی دکھ ہوتا ہے، انہیں بھی کسی کے ایک اچھے لفظ کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں بھی کبھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی بغیر پوچھے ان کے دل کا حال سمجھ لے۔

مگر زندگی نے انہیں شاید اتنا سکھا دیا ہوتا ہے کہ ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔

ہم کتنی جلدی دوسروں کے بارے میں فیصلے کر لیتے ہیں۔ کوئی کم بولے تو کہتے ہیں مغرور ہے، کوئی تنہا رہے تو اسے عجیب سمجھ لیتے ہیں، کوئی اپنے معاملات میں مداخلت پسند نہ کرے تو اسے خود پسند قرار دے دیتے ہیں۔

حالانکہ ممکن ہے اس شخص نے زندگی میں اتنا کچھ دیکھا ہو کہ اب اسے خاموشی شور سے زیادہ اچھی لگتی ہو۔

مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو سمجھنے کے لیے اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے رویے کو دیکھنا چاہیے۔ بعض لوگ محبت کا اظہار نہیں کر پاتے، مگر ان کے عمل میں محبت ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنی پریشانی نہیں بتاتے، مگر دوسروں کی پریشانی میں سب سے پہلے کھڑے ہوتے ہیں۔

اور بعض لوگ خود ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں، مگر دوسروں کو حوصلہ دیتے رہتے ہیں۔

شاید ہمیں ایسے لوگوں کے لیے صرف ایک چیز کرنی چاہیے—فیصلہ کرنے سے پہلے تھوڑا سا سمجھنے کی کوشش۔

کسی کی بات سن لینا، کسی کی محنت کی تعریف کر دینا، کسی کے خواب کا مذاق نہ اڑانا، کسی کی ناکامی کو اس کی پہچان نہ بنا دینا… یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، مگر انسان کے دل میں بہت دیر تک رہ جاتی ہیں۔

زندگی میں ہر شخص کسی نہ کسی جنگ سے گزر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنی جنگ کا اعلان کر دیتے ہیں اور کچھ لوگ خاموشی سے لڑتے رہتے ہیں۔

خاموش لوگوں کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔

ہو سکتا ہے وہ خاموشی ان کی کمزوری نہیں، ان کا شعور ہو۔

ہو سکتا ہے وہ جواب دے سکتے ہوں، مگر جواب دینا ضروری نہ سمجھتے ہوں۔

ہو سکتا ہے وہ بہت کچھ کہنا چاہتے ہوں، مگر وقت کو اپنا جواب دینے دینا چاہتے ہوں۔

کیونکہ بعض اوقات الفاظ صرف بات ختم کرتے ہیں، جبکہ وقت پوری کہانی سمجھا دیتا ہے۔

ہمیں اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لیے تھوڑا نرم ہونا چاہیے۔ ہر شخص کو مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی صرف ایک ایسا انسان چاہیے ہوتا ہے جو اس کی بات بغیر فیصلہ کیے سن لے۔

اور شاید یہی انسان ہونے کی سب سے خوبصورت علامت ہے۔

کسی کے خاموش چہرے کے پیچھے چھپی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔

کیونکہ ہر خاموشی خالی نہیں ہوتی۔

کچھ خاموشیوں میں برسوں کے تجربے ہوتے ہیں،

کچھ میں ادھورے خواب،

کچھ میں چھپی ہوئی دعائیں،

اور کچھ میں ایسے لفظ…

جو شاید کبھی زبان پر نہ آ سکیں۔


انعم عباسی، کراچی