وہ شام بھی دوسری شاموں جیسی تھی مگر اس کے اندر جیسے کچھ ٹھہرا ہوا تھا۔ ہوا حویلی کے صحن میں لگے بوڑھے نیم کے پتوں کو چھو کر گزری اور آنگن میں رکھی لکڑی کی کرسی پر بیٹھی لڑکی کے دوپٹے کو ہلایا۔ اس کا نام ہانیہ تھا۔ عمر چھبیس برس، آنکھوں میں بے تحاشا سوال اور ہاتھوں میں ایک پرانی ڈائری تھی۔ سامنے کمرے کی دیوار پر اس کے والد، ریحان احمد کی تصویر لگی تھی۔ ریحان احمد جو تیس برس تک اسی شہر کے کالج میں اردو پڑھاتا رہا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے بولنا کم کر دیا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ تھک گیا ہے مگر ہانیہ جانتی تھی کہ اس کے والد کی خاموشی تھکن نہیں تھی، ایک احتجاج تھی۔
حویلی کے دوسرے کونے میں اس کا بھائی، زاویان کھڑا تھا۔ زاویان جو اب ایک بڑی کمپنی میں ملازم تھا۔ وہ جلد ہی اس حویلی کو بیچ کر اپارٹمنٹ میں شفٹ ہونا چاہتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ان پرانی دیواروں میں صرف نمی اور یادیں ہیں، مستقبل نہیں۔ "ہانیہ، تم اب بھی اس ڈائری کو پکڑے بیٹھی ہو۔ بابا اب نہیں رہے، ان کی باتیں بھی اب کہانی بن گئی ہیں۔" زاویان نے کہا۔
ہانیہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے ڈائری کا ایک صفحہ کھولا، جہاں ریحان احمد کے کانپتے ہاتھوں سے لکھا تھا۔ "جب لفظ بے معنی ہو جائیں تو خاموشی بولتی ہے۔"
اسی لمحے صحن کے بیچوں بیچ ایک دروازہ تھا وہاں پر دستک ہوئی۔ آنے والی اس کی بچپن کی دوست، عائلہ تھی۔ عائلہ جو اب اسی شہر میں ایک اسکول چلاتی تھی۔ وہ ہانیہ کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ "میں تمہارے والد کی لائبریری دیکھنے آئی ہوں۔ سنا ہے تم اسے ختم کر رہی ہو؟" عائلہ نے پوچھا۔
ہانیہ مسکرائی۔ "ختم نہیں، میں اسے زندہ رکھنا چاہتی ہوں۔ بابا کہتے تھے کہ کتابیں بولتی ہیں، بس سننے والا چاہیے۔"
زاویان ہنسا۔ "یہ کتابیں کون خریدے گا؟ آج کی دنیا ڈیجیٹل ہے، ہانیہ۔ یہاں ہر چیز اسکرین پر ہے۔ تم ان کاغذوں سے مستقبل نہیں بنا سکتی۔" ہانیہ کی آنکھیں بھر آئیں مگر وہ روئی نہیں۔ وہ اٹھی اور لائبریری کا دروازہ کھولا۔ اندر لاکھوں کتابیں تھیں، گرد سے اٹی ہوئی مگر ہر کتاب میں ریحان احمد کی لکھی ہوئی چھوٹی چھوٹی پرچیاں تھیں۔ کسی پر لکھا تھا "یہ صفحہ میری بیٹی کے لیے" اور کسی پر "یہ نظم ہانیہ جب اداس ہو تو پڑھے۔"
عائلہ نے ایک کتاب اٹھائی اور پڑھا۔ اس کی آواز کمرے میں گونجی۔ باہر نیم کے درخت سے ایک کوا اڑا۔ اس لمحے ہانیہ کو لگا کہ اس کے والد کی خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔
رات گہری ہوئی۔ زاویان جا چکا تھا۔ ہانیہ اور عائلہ لائبریری میں فرش پر بیٹھی تھیں۔ درمیان میں لالٹین جل رہی تھی۔
"جانتے ہو عائلہ، بابا آخری دو سال بالکل خاموش ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر کہتے تھے کہ یہ ڈپریشن ہے؛ مگر میں جانتی تھی کہ وہ ناراض تھے۔ وہ اس معاشرے سے ناراض تھے جہاں ہر شخص بہت بولتا تھا لیکن سنتا کوئی نہیں تھا۔ جہاں سچ کی قیمت نہیں تھی۔ اس لیے انہوں نے خاموشی کو اپنا ہتھیار بنا لیا تھا۔"
عائلہ نے کہا، "تو تم کیا کرو گی؟"
ہانیہ نے ڈائری بند کی اور کہا، "میں اس خاموشی کو آواز دوں گی۔ میں اس حویلی کو بیچوں گی نہیں۔ میں یہاں ایک چھوٹی سی کتب گاہ بناؤں گی۔ جہاں بچے آ کر کہانیاں سنیں گے۔ جہاں کوئی اسکرین نہیں ہوگی، صرف لفظ ہوں گے۔ بابا کی خاموشی یہاں بولے گی۔"
اگلی صبح، جب سورج نیم کے پتوں سے چھن کر صحن میں آیا، ہانیہ نے دروازے پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگایا، جس پر لکھا تھا "ریحان کتب گاہ، جہاں خاموشی بولتی ہے۔"
زاویان دور کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا۔ اسے پہلی بار لگا کہ اس کی بہن نے حویلی نہیں، اپنے والد کو بچا لیا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا آیا اور بورڈ کو سیدھا کیا۔
اس کے بعد حویلی کی فضا بدل گئی۔ ہانیہ نے الماریوں سے کتابیں نکال کر جھاڑیں، شیلفوں کو ترتیب دیا اور فرش پر دری بچها دی۔ عائلہ اپنے اسکول کے چند بچوں کو لے آئی۔ وہ بچے جو موبائل کی روشنی میں پلے بڑھے تھے، پہلی بار کاغذ کی خوشبو سے آشنا ہوئے۔ ریحان احمد کی کرسی اب بھی وہیں رکھی تھی، خالی مگر باوقار لگ رہی تھی۔ جب کوئی بچہ اٹک کر لفظ پڑھتا تو ہانیہ کو لگتا جیسے اس کے والد کی مسکراہٹ دیواروں میں لوٹ آئی ہو۔ زاویان بھی شام کو دفتر سے لوٹ کر وہیں بیٹھنے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ ترقی عمارتوں سے نہیں، ان رشتوں سے ناپی جاتی ہے جو لفظوں میں زندہ رہتے ہیں۔
ہانیہ کی آنکھوں میں اب آنسو نہیں تھے، ایک نیا خواب تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کتب گاہ میں جب بچے آئیں گے، کتابیں کھلیں گی اور ایک بوڑھے استاد کی برسوں کی خاموشی، ان ننھے دلوں میں دوبارہ بولنے لگے گی۔ وہ جانتی تھی کہ یہی اس کے والد کی سب سے بڑی جیت تھی کیونکہ خاموشی کبھی ختم نہیں ہوتی، وہ صرف بولنے کا نیا ڈھنگ سیکھ لیتی ہے۔
مزید پڑھیں




