منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کھانے میں کون سا کوکنگ آئل استعمال کریں ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

آج کے دور میں جب بازار طرح طرح کے صاف شدہ تیل اور بناوٹی روغنیات سے اٹے پڑے ہیں، باورچی خانے میں تیل اور گھی کا انتخاب ایک ایسا سلگتا ہوا سوال بن چکا ہے جس پر ہر گھر میں بحث ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات اور روایتی طبی حکمت کے امتزاج سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ہماری مجموعی صحت، دل کی کارکردگی، ہاضمے کا نظام اور یہاں تک کہ ذہنی توازن بھی براہِ راست اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنے کھانوں میں کس قسم کی چکنائی کا استعمال کرتے ہیں۔ صحت مند زندگی کا سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک ہی تیل پر اندھا دھند انحصار کرنے کے بجائے کچن میں تنوع کو اپنایا جائے، کیونکہ انسانی جسم کو چکنائی کی مختلف اقسام کی ضرورت ہوتی ہے جو کوئی ایک اکیلا تیل فراہم نہیں کر سکتا۔


روزمرہ زندگی کے معمولات میں اگر ہم اپنے روغنیات کے انتخاب کا بغور جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ روایتی ہانڈی اور سالن کے لیے خالص سرسوں کا تیل ایک بہترین اور آزمودہ انتخاب ہے۔ ہمارے خطے کے مزاج، موسم اور آب و ہوا کے مطابق سرسوں کا تیل دل کی شریانوں کو صاف رکھنے، خراب کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے اور جسم کے اندرونی قوتِ مدافعت کے نظام کو طاقت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ یہ تیل کیمیکلز سے پاک، خالص اور روایتی طریقے سے نکالا گیا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ روٹی چپپانے، دال میں تڑکا لگانے یا روایتی پکوانوں کے ذائقے کو دوبالا کرنے کے لیے خالص دیسی گھی کا اعتدال میں استعمال صدیوں سے صحت کی ضمانت رہا ہے۔ دیسی گھی میں پائے جانے والے خاص اجزاء اور قدرتی وٹامنز نہ صرف ہاضمے کے نظام کو درست رکھتے ہیں بلکہ جسم کو پائیدار توانائی بھی عطا کرتے ہیں۔ اسی طرح سلاد پر چھڑکنے، ہلکے سوپ یا کم آنچ کے پکوانوں کے لیے زیتون کا تیل استعمال کرنا خلیات کی حفاظت اور جسم میں اندرونی سوجن کو کم کرنے کے لیے انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔


تاہم، اس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کون سا تیل ہمارے جسم کے لیے نقصان دہ ہے اور جسے فوری طور پر باورچی خانے سے باہر کر دینا چاہیے۔ بازار میں فروخت ہونے والے عام صاف شدہ پلانٹ آئلز، جیسے سویا بین کا تیل، سورج مکھی کا تیل اور عام مکئی کا تیل، فیکٹریوں میں تیار ہونے کے دوران انتہائی سخت اور پیچیدہ کیمیائی مراحل سے گزرتے ہیں۔ ان تیلوں کو بیجوں سے نکالنے کے لیے زہریلے کیمیکل حل کرنے والے مادوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور پھر ناپسندیدہ بو اور رنگت ختم کرنے کے لیے انہیں بہت زیادہ درجہ حرارت پر صاف کیا جاتا ہے۔ اس ظالمانہ صنعتی عمل کے نتیجے میں تیل کے اندر موجود تمام قدرتی وٹامنز، اینٹی آکسیڈنٹس اور مفید اجزاء تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان صاف شدہ تیلوں میں کچھ ایسے عناصر کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہے، جو جسم میں داخل ہو کر توازن کو یکسر بگاڑ دیتے ہیں اور نتیجے میں جوڑوں کے درد، اندرونی سوجن، موٹاپے اور دل کی سنگین بیماریوں کا جڑ پکڑنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تیلوں کے استعمال کو یا تو بالکل ترک کر دینا چاہیے یا پھر انتہائی مجبوری کی حالت میں کم سے کم رکھنا چاہیے۔


روغنیات کے اس روزمرہ استعمال میں کچھ ایسی احتیاطی تدابیر اور سنہری اصول ہیں جن سے چشم پوشی کرنا ہماری صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر تیل کا ایک خاص حدِ حرارت یا جلنے کا نکتہ ہوتا ہے، یعنی وہ درجہ حرارت جہاں پہنچ کر تیل کی کیمیائی ساخت ٹوٹ جاتی ہے اور اس سے دھواں اٹھنے لگتا ہے۔ زیتون کے تیل، خاص طور پر خالص ترین زیتون کے تیل کا یہ نکتہ بہت کم ہوتا ہے، اس لیے اسے کبھی بھی تیز آنچ پر کڑاہی میں تلنے یا فرائنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ تیز آنچ پر جلنے والا تیل اپنے اندر موجود تمام افادیت کھو دیتا ہے اور اس سے ایسے زہریلے عناصر اور کینسر کا سبب بننے والے اجزاء خارج ہوتے ہیں جو موذی امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔ تیز فرائنگ، سموسے، پکوڑے یا پوریوں جیسی چیزیں بنانے کے لیے ہمیشہ بلند درجہ حرارت کو برداشت کرنے والے روغنیات جیسے سرسوں کا تیل یا دیسی گھی ہی زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔


اس کے علاوہ سب سے سنگین اور عام غلطی جو ہمارے گھروں میں دہرائی جاتی ہے وہ تیل کو بار بار گرم کرنا یا ایک بار فرائنگ کے کام آنے والے تیل کو سنبھال کر بار بار سالن میں استعمال کرنا ہے۔ جب کسی تیل کو ایک بار تیز گرم کر کے اس میں اشیاء تل لی جاتی ہیں، تو اس کی اندرونی ساخت مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ صحت بخش چکنائی کے بجائے زہریلے مرکبات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ ایسے جلے ہوئے یا بار بار گرم کیے گئے تیل کو دوبارہ استعمال کرنا خون کی نالیوں کو سخت کرتا ہے، بلڈ پریشر بڑھاتا ہے اور دل کے دورے کا خطرہ کئی گنا بڑھا بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے یہ پختہ عزم کر لینا چاہیے کہ فرائنگ کے بعد بچ جانے والے تیل کو کسی بھی صورت میں دوبارہ باورچی خانے کے استعمال میں نہیں لایا جائے گا بلکہ اسے فوری طور پر ضائع کر دیا جائے۔


چکنائی کے معاملے میں اعتدال کا دامن تھامنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ خالص چیز کا انتخاب کرنا۔ چاہے وہ دیسی گھی ہو جو طاقت کا مخزن ہے یا سرسوں کا تیل جو شفاء کا ذریعہ ہے، اگر ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو وہ موٹاپے اور جگر پر چربی چڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔ انسانی جسم کو ایک متوازن مقدار میں ہی چکنائی کی ضرورت ہوتی ہے جو دن بھر کے روزمرہ کاموں اور توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ خریداری کرتے وقت کھلے اور مشکوک تیلوں سے گریز کیا جائے اور ہمیشہ اس بات کی تسلی کی جائے کہ جو اشیاء ہم خرید رہے ہیں وہ ملاوٹ سے پاک اور اعلیٰ معیار کی ہیں۔


خلاصہ کلام یہ ہے کہ صحت مند اور تووان زندگی گزارنے کا راز کسی مہنگے ترین درآمدی تیل میں پوشیدہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے اپنے روایتی اور فطری اصولوں کی پاسداری میں ہے۔ جب ہم اپنے کچن سے کیمیکل زدہ صاف شدہ تیلوں کو رخصت کر کے سرسوں کے تیل، دیسی گھی اور زیتون کے تیل کو ان کے درست اور متعین مقام پر بحال کرتے ہیں، اور تیل کو دوبارہ گرم کرنے یا حد سے زیادہ استعمال کرنے جیسی غفلتوں سے توبہ کرتے ہیں، تو ہم نہ صرف اپنے پورے خاندان کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں بلکہ بہت سی خاموش بیماریوں سے بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ صحت کا یہ شعوری سفر ہی دراصل ایک خوشحال اور پرسکون زندگی کا حقیقی ضامن ہے۔