جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاص ہونے کا وہم،تحریر:دانیال حسن چغتائی

نقطہ نظر
danial hassan

کبھی کبھی ہم کسی کی زندگی میں اپنی اہمیت کو ضرورت سے زیادہ سمجھ بیٹھتے ہیں، پھر وقت ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس کی ضرورت تھے، ترجیح نہیں۔

انسانی تعاملات کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ نہیں کہ کوئی ہمیں چھوڑ کر چلا جائے، بلکہ تلخی اس لمحے میں پوشیدہ ہوتی ہے جب ہمارے خاص ہونے کا وہم ٹوٹتا ہے۔ ہم انسان فطرتاً محبت، توجہ اور مان کے طلب گار ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص ہمیں اپنے الفاظ، رویے یا عارضی قربت سے یہ محسوس کرواتا ہے کہ ہم اس کے لیے سب سے مختلف ہیں، تو ہم بسا اوقات اس کی اس توجہ کو اپنی دائمی اہمیت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہم ایسا خول اپنے گرد بن لیتے ہیں جس میں ہم خود کو اس کی کہانی کا مرکزی کردار ماننے لگتے ہیں۔ لیکن وقت۔جو ہر حقیقت کو بے نقاب کرنے میں ذرا بھی رعایت نہیں برتتا آہستہ آہستہ وہ چہرہ دکھاتا ہے جس کے لیے ہم تیار نہیں ہوتے۔

پھر ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ جسے ہم نے اپنی دنیا کی ترجیح بنا رکھا تھا، ہم اس کے لیے ضرورت سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھے۔

ضرورت کا تعلق سہولت، وقت گزاری اور اپنے کسی مقصد یا خالی پن کو بھرنے سے ہوتا ہے۔ جب انسان تنہا ہو، جب اسے کسی ہمدرد کی تلاش ہو، یا جب اس کے پاس کوئی اور بہتر انتخاب نہ ہو، تو وہ آپ کے پاس آتا ہے۔ وہ آپ سے محبت بھری باتیں بھی کرے گا، آپ کو وقت بھی دے گا اور ایسا تاثر قائم کرے گا جیسے آپ کے بغیر اس کی زندگی ادھوری ہے۔ مگر جیسے ہی اس کا کام نکل جاتا ہے یا اس کی زندگی میں نیا اور بہتر متبادل آتا ہے، اس کے رویے کا گراف یکلخت نیچے گرنے لگتا ہے۔

ترجیح اس کے بالکل برعکس ہے۔ جو شخص آپ کو اپنی ترجیح بناتا ہے، وہ مصروفیت کے باوجود آپ کے لیے وقت نکالتا ہے۔ وہ آپ کو اپنے خالی اوقات کی تسکین کے لیے استعمال نہیں کرتا، بلکہ اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوں اور لمحات میں آپ کی موجودگی کو لازمی سمجھتا ہے۔

ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہوتی ہے کہ ہم کسی کی وقت گزاری کو اس کی محبت سمجھنے کا دھوکا کھا جاتے ہیں۔

جب یہ وہم ٹوٹتا ہے تو انسان کے اندر بہت کچھ مر جاتا ہے۔ وہ لمحہ بے حد دردناک ہوتا ہے جب آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ جن باتوں، جن مسکراہٹوں اور جن یادوں کو آپ اپنے لیے خاص سمجھ رہے تھے، وہ سامنے والے کے لیے عارضی شغل تھیں جن پیغامات کا آپ گھنٹوں انتظار کرتے تھے، وہ اس کے لیے فالتو وقت کی مصروفیت کا نتیجہ تھے۔

انسان اپنے آپ سے سوال کرنے لگتا ہے: کیا میری محبت اتنی سستی تھی؟ کیا میری توجہ کی کوئی قیمت نہیں تھی؟

اس لمحے انسان کا مان ٹوٹتا ہے اور مان کا ٹوٹنا ہڈیوں کے ٹوٹنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے جذباتی اثاثے کسی ایسے تاجر کے پاس گروی رکھ دیے تھے جو صرف اپنا فائدے کا حساب کتاب کر رہا تھا۔

خاص ہونے کا یہ وہم دراصل ہماری اپنی بنائی ہوئی دنیا ہوتی ہے۔ ہم خود ہی کسی کو اپنی زندگی کا محور بناتے ہیں اور پھر اس سے وہی معیار طلب کرتے ہیں جو ہم اسے دے رہے ہوتے ہیں۔ مگر جب حقیقت کھلتی ہے، تو وہ انسان کو سخت دھچکا دیتی ہے، لیکن ساتھ ہی عظیم سبق بھی دے جاتی ہے۔

یہ تجربہ اگرچہ تلخ ہے، مگر بے حد ضروری ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی کی عارضی توجہ کو اپنی مستقل قیمت نہ سمجھیں۔ اپنے جذباتی وجود کو ہر ایک کے لیے اتنا آسان اور دستیاب نہ بنائیں۔ لوگوں کے الفاظ پر نہیں، بلکہ ان کے رویوں اور فیصلوں پر نظر رکھیں۔

جب وقت آپ پر یہ حقیقت ثابت کر دے کہ آپ کسی کی صرف ضرورت تھے، تو اس پر غصہ کرنے یا اس سے التجا کرنے کے بجائے خاموشی سے اپنا مان سمیٹ کر پیچھے ہٹ جانا ہی بہترین ردِعمل ہے۔ جس دن آپ اپنے خاص ہونے کا وہم ختم کر دیتے ہیں، اسی دن سے آپ کے اندر نیا ضبط اور خود داری جنم لیتی ہے۔

زندگی میں اگر آپ کو کسی کی ترجیح بننا ہے، تو سب سے پہلے اپنے آپ کی ترجیح بننا سیکھیے۔ کسی دوسرے کی نظر میں خاص بننے کی حسرت میں اپنے وجود کی نفی مت کیجیے۔ جو آپ کو ضرورت سمجھے، اسے خوبصورت سبق سمجھ کر آگے بڑھ جائیے کیونکہ جس دل میں آپ کے لیے احترام اور ترجیح کی جگہ نہ ہو، وہاں رہنا اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔