ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کسی کی پیاس نے دریا کو بھی پکارا ہے،شاعرہ: یاسمین اختر طوبیٰ

نقطہ نظر

غزل


کسی کی پیاس نے دریا کو بھی پکارا ہے

'کسی کا قرض کسی اور نے اتارا ہے'


چراغِ شب نے ہوا سے نباہ ایسے کیا

کہ اپنے آپ کو جلنا بھی اب گوارا ہے


وہ جس نے بانٹ دیے دھوپ میں شجر اپنے

اسی کے حصے میں موسم کا گرم دھارا ہے


عجیب رسم ہے اس شہرِ بے مروّت کی

جو سچ کے ساتھ ہے اس کا یہاں خسارا ہے


کسی کی آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر بھی

کسی کے واسطے ہنسنے کا اک اشارہ ہے


میں اپنے زخم زمانے سے کیا چھپاؤں اب

مرے لہو نے تجھے آج پھر پکارا ہے


یہ اور بات کہ منزل پہ ہم نہ پہنچے مگر

ہمارے ساتھ ابھی حوصلہ ہمارا ہے


کسی نے ریت پہ تحریرِ آرزو لکھی

کسی کی موج نے ساحل کا روپ دھارا ہے


یہ اپنا عشق ہے اک قرضِ بے صدا طوبیٰ

جسے نبھایا ہے ہم نے، وہی ہمارا ہے