ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پھول کے رس میں نچوڑی یہ غزل لائی ہوں،شاعرہ:شبنم مرزا

نقطہ نظر

غزل

پھول کے رس میں نچوڑی یہ غزل لائی ہوں

سو محبت سے بھرا دیکھ میں دل لائی ہوں



خواہشِ زر کی تمنا ہے نہ شہرت کی مجھے

تیری خاطر میں دعاؤں کا محل لائی ہوں



میرے لفظوں میں چھپے ہجر کے جلتے موسم

مسکراتی ہوں مگر آنکھ میں جل لائی ہوں




اس کو تنہائی کے کمرے میں کہیں پڑھنا تم

اپنے زخموں کی انوکھی سی غزل لائی ہوں



دیکھے جو پیاس کی صورت میں سلگتے صحرا

اپنی آنکھوں میں سمندر کے جل لائی ہوں



دل بچھایا ہے سرِ راہِ تمنا میں نے

یوں مری جانِ جگر درد کا حل لائی ہوں



ہونٹ چپ چاپ نگاہوں میں طلب باقی ہے

اپنے اشکوں سے پرو کر یہ غزل لائی ہوں



جو مُعطر ہی بنا ڈالے فضا کو شبنم

وہ محبت کی حسیں یاد کے پل لائی ہوں

شبنم مرزا لاھور