جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کتابوں کی خوشبو اور استاد کی رفاقت،تحریر: محمد احسان ثانی

نقطہ نظر

دنیائے ادب میں نام پیدا کرنا ایک الگ پہلو ہے، جبکہ فروغِ زبان و ادب کے لیے دو دہائیوں تک مسلسل کام کرنا ہرگز آسان نہیں۔ استادِ محترم محمد ساجد وہ ادبی شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف اردو ادب کی مختلف اصناف میں شاندار کام کیا بلکہ پنجابی ادب کے فروغ کا چراغ بھی روشن کیا۔ میری خوش بختی ہے کہ میں گزشتہ ایک دہائی سے ان کے زیرِ سایہ اپنا ادبی سفر جاری رکھے ہوئے ہوں۔ اس دوران کئی اسفار میں مجھے ان کا دستِ راست بننے کا شرف حاصل ہوا، جن میں علمی و ادبی مجالس میں شرکت کے علاوہ روحانی سفر بھی قابلِ ذکر ہیں۔


۱۵، ۱۶ اور ۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو جامعہ پنجاب میں تین روزہ کتاب میلہ سجایا گیا تھا۔ میں اور میرے استادِ محترم موٹر سائیکل پر کتاب میلے میں پہنچے۔ یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو وہاں کا علمی، ادبی اور رومانوی ماحول ہمیں اپنی جانب کھینچتا ہوا محسوس ہوا۔ ڈھلتی شام کی مدھم روشنی ایک خوب صورت منظر پیش کر رہی تھی، جو آنکھوں کو ایک نئی روشنی عطا کر رہی تھی۔


ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے پارکنگ میں موٹر سائیکل کھڑی کرکے ہم تیز قدموں کے ساتھ واک تھرو گیٹ سے گزرے اور کتاب میلے کے پہلے اسٹال پر جا پہنچے۔ وہاں ایسی شاندار کتابیں نظر آئیں کہ ہم مٹھی سے سرکتی ریت کی طرح گزرتے وقت کے احساس سے ہی بے نیاز ہوگئے۔


اسی اسٹال پر استادِ محترم نے میرے مطالعے کے لیے ایک کتاب تجویز کی، جس کا نام ’’جنت کی تلاش‘‘ ہے۔ اس کے مصنف رحیم گل ہیں، جو پاکستان کے مایہ ناز ناول نگار، افسانہ نگار اور فلم ساز تھے۔ یہ ناول ۱۹۸۱ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس کی کہانی تین اہم کرداروں کے گرد گھومتی ہے، جن میں امتل کا کردار نمایاں ہے، جبکہ عاطف اور وسیم بھی ناول کو دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رحیم گل نے خود اس ناول کے بارے میں لکھا ہے:


’’جنت کی تلاش ایک بے چین روح کا سفر ہے۔‘‘


’’جنت کی تلاش‘‘ خریدنے کے بعد ہم دھیرے دھیرے اگلے اسٹالز کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ چند اسٹالز پر خاصا رش تھا۔ خوب صورت چہرے، خوب صورت لوگ اور دل کش مناظر قابلِ دید تھے۔ تاہم، ہم نے اپنی توجہ کتابوں پر مرکوز رکھی۔ آخری اسٹال پر رکھے بند ڈبوں میں موجود کتابوں پر بھی نظر دوڑائی اور پھر واپسی کے لیے پلٹ پڑے۔


واپسی پر ایک اسٹال پر رکے، جہاں ہماری نظر جاوید چوہدری صاحب کے کالموں کے مجموعے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ کی پانچویں اور چھٹی جلد پر پڑی۔ جاوید چوہدری پاکستان کے ممتاز کالم نگار، مصنف، تجزیہ کار اور نیوز اینکر ہیں۔ وہ ۱۹۹۰ء سے صحافتی میدان میں سرگرم ہیں۔ ان کے کالموں کے مختلف مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔


بہرحال، دونوں جلدوں کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد ہم نے انہیں خریدنے کا ارادہ کیا اور مطلوبہ رقم ادا کردی۔ پانچویں جلد استادِ محترم نے خریدی، جبکہ چھٹی جلد میرے حصے میں آئی۔


گھر پہنچتے ہی میں نے چھٹی جلد اٹھائی، ایک ہائی لائٹر لیا اور بالائی کمرے میں جاکر مطالعہ شروع کردیا۔ یہ جاوید چوہدری صاحب کی تحریروں سے میری پہلی باقاعدہ آشنائی تھی۔ اس سے پہلے میں نے انہیں صرف ٹی وی اسکرین پر روانی سے بولتے ہوئے سنا تھا، لیکن آج جب ان کے کالم پڑھنے بیٹھا تو ان کی تحریروں میں خاصی دل چسپی محسوس ہوئی۔


مطالعے میں اس قدر محو ہوا کہ ایک ہی نشست میں ۸۰ صفحات پڑھ ڈالے۔ رات کے ۱۱ بج چکے تھے۔ کتاب کی دل چسپی بدستور برقرار تھی، لیکن نیند کے غلبے نے مطالعہ جاری رکھنا مشکل بنا دیا۔ چنانچہ نئے دن میں دوبارہ مطالعہ کرنے کے عزم کے ساتھ کتاب سرہانے رکھی اور خمارِ شب کی آغوش میں چلا گیا۔