لفظوں کی روشنی سے معاشرے کی تاریکیوں تک،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
نقطہ نظر
معاشرے کی تاریکیاں ہمیشہ اندھیروں سے پیدا نہیں ہوتیں، بعض اوقات یہ روشنی کے دعوے کرنے والوں کے رویّوں، خاموش تماشائیوں کی بے حسی اور سچ بولنے والوں کی مصلحتوں سے جنم لیتی ہیں۔ جب لفظوں کی حرمت پامال ہونے لگے، قلم ضمیر کے بجائے مفادات کا تابع ہو جائے اور علم محض نمائش کا ذریعہ بن جائے تو پھر معاشرے میں روشنی کے چراغ تو دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی لو میں کردار کی گرمی باقی نہیں رہتی۔
لفظ محض حروف کا مجموعہ نہیں ہوتے، یہ سوچ کی ترجمانی، کردار کی پہچان اور انقلاب کی بنیاد ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ایوانوں کی بنیادیں تلواروں سے پہلے لفظوں نے ہلائی ہیں۔ قلم نے غلام ذہنوں کو آزادی کا شعور دیا، کتابوں نے قوموں کو بیدار کیا اور سچائی پر مبنی تحریروں نے ایسے سوالات اٹھائے جن کے جواب طاقت ور حکمرانوں کے پاس بھی نہیں تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج جب ہمارے پاس اظہار کے بے شمار ذرائع موجود ہیں تو ہمارے معاشرے میں اخلاقی زوال، عدم برداشت، ناانصافی، جھوٹ اور خود غرضی کیوں بڑھ رہی ہے؟
کیا ہمارے لفظوں کی روشنی کم ہو گئی ہے، یا ہم نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں؟
قلم ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کے ذہن میں سوال پیدا کرتی ہے، دل میں احساس جگاتی ہے اور اسے اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرتی ہے۔ ایک سچا لکھاری معاشرے کے دکھوں کو الفاظ دیتا ہے، مظلوم کی آواز بنتا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں اکثر لوگ دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔
لیکن قلم کی اصل عظمت صرف خوب صورت جملے لکھنے میں نہیں، بلکہ سچ لکھنے کی جرأت میں ہے۔ اگر کوئی قلم کار معاشرتی برائیوں پر تو لکھے، مگر اپنے مفادات کے سامنے خاموش ہو جائے؛ اگر وہ دوسروں کی غلطیوں پر تنقید کرے، مگر اپنے کردار کا احتساب نہ کرے؛ اگر وہ انصاف کے نعرے لگائے، مگر اپنے حلقۂ احباب کی ناانصافیوں پر پردہ ڈالے تو اسے اپنے قلم کے مقصد پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
تحریر کی تاثیر اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب لکھنے والے کے الفاظ اور عمل کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ معاشرے کو صرف لکھنے والوں کی نہیں، ایسے اہلِ قلم کی ضرورت ہے جن کے کردار سے ان کے الفاظ کی سچائی ثابت ہوتی ہو۔
آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں، مگر ان کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔ سفارش کا کلچر میرٹ کو نگل رہا ہے، جھوٹ وقتی فائدے کے لیے سچائی پر غالب آ رہا ہے، دولت کو عزت کا پیمانہ سمجھا جا رہا ہے اور رشتوں کی مضبوطی بھی مفادات کے ترازو میں تولی جانے لگی ہے۔
ایک مستحق نوجوان ملازمت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے، جبکہ سفارش رکھنے والا شخص اہلیت کے بغیر منصب حاصل کر لیتا ہے۔ ایک غریب شہری اپنے جائز کام کے لیے دفتروں کے چکر لگاتا رہتا ہے، جبکہ بااثر شخص کے لیے راستے خود بخود ہموار ہو جاتے ہیں۔ ایک ایماندار انسان اپنی اصول پسندی کی قیمت ادا کرتا ہے اور ایک چالاک شخص اپنی مکاری کو کامیابی کا نام دے دیتا ہے۔
یہ محض انفرادی واقعات نہیں، بلکہ اس اجتماعی سوچ کی علامات ہیں جس میں اصولوں سے زیادہ تعلقات، قابلیت سے زیادہ سفارش اور کردار سے زیادہ ظاہری حیثیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جب غلط کام مسلسل ہوتے رہیں تو معاشرہ انہیں غلط سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔ رشوت معمول بن جائے، جھوٹ چالاکی کہلانے لگے، بدتمیزی کو بے باکی سمجھا جائے اور حق تلفی کو طاقت کی علامت بنا دیا جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ تاریکی صرف نظام میں نہیں، ہماری اجتماعی سوچ میں بھی اتر چکی ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اظہار کا موقع دیا ہے۔ اب کسی عام شہری کی آواز بھی چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک بڑی طاقت ہے، لیکن طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہوتی ہے۔
افسوس کہ ہم نے اس طاقت کو اکثر سنجیدہ شعور کے بجائے الزام تراشی، کردار کشی، جھوٹی خبروں، ذاتی دشمنیوں اور دکھاوے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ چند لائکس اور شہرت کی خاطر ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں جن کی حقیقت جاننے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی۔
کسی کی عزت اچھالنا آسان ہے، مگر اس کے کردار پر لگنے والے داغ کو مٹانا مشکل۔ کسی خبر کو آگے بڑھانا چند سیکنڈ کا کام ہے، لیکن اس خبر سے کسی خاندان کو پہنچنے والا نقصان برسوں میں بھی پورا نہیں ہوتا۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہر وائرل ہونے والی بات سچ نہیں ہوتی اور ہر بلند آواز رکھنے والا شخص حق پر نہیں ہوتا۔ باشعور معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں ہر شخص بولتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہاں لوگ بولنے سے پہلے سوچتے اور لکھنے سے پہلے تحقیق کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ڈگریاں حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی پہلے سے بہتر ہے۔ اس کے باوجود اخلاقی تربیت کا سوال اپنی جگہ موجود ہے۔
اگر ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے ماتحت کی تذلیل کرتا ہے، کسی کمزور کا حق مارتا ہے، قانون کو اپنے لیے غیر ضروری سمجھتا ہے یا اختلافِ رائے برداشت نہیں کر سکتا تو اس کی تعلیم معاشرے کے لیے کس قدر مفید ہے؟
تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کو بہتر انسان بنانا بھی ہے۔ علم انسان کو عاجزی، برداشت، دیانت، انصاف اور خدمتِ خلق کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر علم انسان کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا نہیں کرتا تو اس علم کی تکمیل ابھی باقی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونے کا ہنر نہیں، اچھا انسان بننے کا شعور بھی دینا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ کامیابی دوسروں کو پیچھے دھکیلنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے۔
کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ نوجوان اگر شعور، کردار اور مقصد سے آراستہ ہوں تو معاشرے کی سمت بدل سکتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں مایوسی، بے روزگاری، منفی سرگرمیوں اور بے مقصد مقابلے کی طرف دھکیل دیا جائے تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہونے لگتی ہیں۔
آج نوجوانوں کو محض نعروں کی نہیں، عملی مواقع کی ضرورت ہے۔ انہیں میرٹ پر تعلیم، روزگار کے منصفانہ مواقع، مثبت رہنمائی اور فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔ ان کی آواز کو سننا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تاہم نوجوانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی ذات سے تبدیلی کا آغاز کریں۔ کتاب سے تعلق جوڑیں، تحقیق کی عادت اپنائیں، اپنے حقوق کے ساتھ فرائض کو بھی سمجھیں اور اختلاف کے باوجود دوسروں کے احترام کو برقرار رکھیں۔
تبدیلی ہمیشہ بڑے ایوانوں سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی ایک طالب علم کا سچ بولنا، ایک استاد کا دیانت داری سے پڑھانا، ایک تاجر کا ایمانداری سے کاروبار کرنا، ایک افسر کا میرٹ پر فیصلہ کرنا اور ایک نوجوان کا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا بھی معاشرے میں روشنی پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔
معاشرے کی اصلاح صرف تقریروں، کالموں، سیمیناروں اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے ممکن نہیں، جب تک ان الفاظ کو عملی زندگی کا حصہ نہ بنایا جائے۔ ہم روزانہ دیانت داری کی بات کرتے ہیں، مگر خرید و فروخت میں دھوکا دینے سے گریز نہیں کرتے۔ ہم انصاف کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر اپنے حق میں فیصلہ نہ آئے تو اصولوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم صفائی کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہیں، مگر اپنے گھر کے باہر کوڑا پھینکنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔
ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی عادت پیدا کرنا ہوگی۔ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح، دوسروں کے احتساب سے پہلے اپنا احتساب اور دوسروں کے حقوق کا مطالبہ کرنے سے پہلے ان کے حقوق ادا کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔
اگر ہر شخص یہ طے کر لے کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گا، رشوت نہیں دے گا، کسی کا حق نہیں مارے گا، بغیر تحقیق کے خبر نہیں پھیلائے گا اور اپنے اختیار کو کسی کمزور کے خلاف استعمال نہیں کرے گا تو معاشرے کی بہت سی تاریکیاں خود بخود کم ہونے لگیں گی۔
لفظوں کی روشنی اس وقت حقیقی روشنی بنتی ہے جب وہ ذہنوں کو بیدار کرنے کے ساتھ کرداروں کو بھی سنوارے۔ قلم کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ مظلوم کے لیے آواز بلند کرے، ظالم کو اس کی ذمہ داری یاد دلائے، نوجوان کو امید دے اور معاشرے کو اس کے اجتماعی فرائض کا احساس دلائے۔
مزید پڑھیں





