بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ماں باپ کی لڑائی میں بچوں کی ذہنی حالت،تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

آج کے دور میں بچوں کی تربیت والدین کے لیے ایک بڑی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کہ بہت سے والدین اپنی گھریلو زندگی کے مسائل میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنے بچوں کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کا احساس ہی نہیں رہتا۔ میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کے اس دور میں بچے اپنے اردگرد ہونے والے ہر واقعے کو دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں۔ والدین شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے جھگڑوں کا بچوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ماں باپ کی لڑائی بچوں کے ذہنوں پر ایسے اثرات چھوڑ سکتی ہے جو ان کی شخصیت، سوچ اور مستقبل کو متاثر کر سکتے ہیں۔


جن گھروں میں والدین کے درمیان محبت، احترام اور ہم آہنگی کے بجائے ہر وقت تلخ کلامی اور جھگڑوں کا ماحول رہتا ہے، وہاں بچے خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ والدین جب آپس میں محبت کی باتیں کرنا چاہتے ہیں تو بچوں کو وہاں سے جانے کا کہہ دیتے ہیں، لیکن جب ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، اونچی آواز میں بولتے ہیں اور تلخ جملوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ ان کے بچے بھی قریب بیٹھے سب کچھ سن رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کے الفاظ بچوں کے معصوم ذہنوں میں کیا سوالات پیدا کر رہے ہیں اور ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے۔


بچے اپنے والدین دونوں سے محبت کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گھر میں سکون ہو، ماں باپ ایک دوسرے سے پیار سے بات کریں اور انہیں بھی محبت بھرا ماحول میسر آئے۔ لیکن جب روزانہ کے جھگڑے ان کی زندگی کا حصہ بن جائیں تو وہ ایک عجیب ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کبھی وہ ماں کو روتا دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں اور کبھی باپ کے غصے سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھ نہیں پاتے کہ کس کا ساتھ دیں، کس سے اپنے دل کی بات کریں اور کس کے سامنے اپنے آنسو بہائیں۔ یوں ان کا اپنا گھر، جہاں انہیں سب سے زیادہ تحفظ ملنا چاہیے، ان کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بننے لگتا ہے۔


سب سے زیادہ افسوس ناک صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچوں کو اپنے ہی گھر میں محبت، توجہ اور اپنائیت میسر نہیں آتی۔ وہ اپنے والدین سے بات کرنا چاہتے ہیں، اپنی پریشانیاں بتانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں توجہ سے سنے، مگر والدین اپنی باہمی رنجشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے میں بعض بچے اپنی جذباتی ضروریات پوری کرنے کے لیے گھر سے باہر لوگوں میں محبت اور اپنائیت تلاش کرنے لگتے ہیں۔ انہیں کوئی ایسا شخص اچھا لگنے لگتا ہے جو ان کی بات سنتا ہو، ان کی تعریف کرتا ہو اور انہیں اہمیت دینے کا احساس دلاتا ہو۔


یہیں سے ایک حساس مسئلہ جنم لیتا ہے۔ ہر شخص جو محبت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کی نیت بھی اچھی ہو۔ بعض لوگ بچوں کی جذباتی محرومی کو سمجھ کر ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ میٹھی باتوں، جھوٹی ہمدردی اور توجہ کے ذریعے انہیں اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ محبت اور تحفظ کے متلاشی بچے کبھی کبھی یہ فرق نہیں کر پاتے کہ کون واقعی ان کا خیرخواہ ہے اور کون ان کی معصومیت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ نتیجتاً وہ ایسے لوگوں کے اثر میں آ سکتے ہیں جو انہیں غلط فیصلوں، نامناسب تعلقات اور نقصان دہ حالات کی طرف لے جائیں۔


ایسے بچوں کو بعد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو والدین اکثر حیران ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایسا کیسے کر سکتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ کہیں ان کی اپنی بے توجہی اور گھر کے کشیدہ ماحول نے بچے کو باہر محبت تلاش کرنے پر تو مجبور نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کے ہر غلط فیصلے کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے، بلکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بچوں کو جذباتی تحفظ اور درست رہنمائی نہ ملے تو وہ بعض حالات میں دوسروں کے بہکاوے میں زیادہ آسانی سے آ سکتے ہیں۔


والدین کے مسلسل جھگڑوں کے اثرات بچوں کی تعلیم، خود اعتمادی اور سماجی زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔ کچھ بچے غصے اور ضد کا اظہار کرنے لگتے ہیں، کچھ معمولی باتوں پر رونے لگتے ہیں اور بعض اپنی ذات میں سمٹ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی پڑھائی متاثر ہو سکتی ہے، دوسروں پر اعتماد کم ہو سکتا ہے اور مستقبل میں رشتے نبھانے کے حوالے سے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہر بچے کا ردِعمل مختلف ہوتا ہے، اس لیے والدین کو ان کے رویّوں میں آنے والی تبدیلیوں کو محض بدتمیزی یا نافرمانی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔


میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہونا غیر معمولی بات نہیں، لیکن اختلافات کو حل کرنے کا طریقہ بہت اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے مسائل بچوں کے سامنے اچھالنے، ایک دوسرے کی تذلیل کرنے اور بچوں کو کسی ایک کا ساتھ دینے پر مجبور کرنے سے گریز کریں۔ بچوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے انہیں یقین دلائیں کہ وہ دونوں کے لیے عزیز ہیں اور والدین کی باہمی ناراضی میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ اگر گھریلو حالات کے باعث بچوں میں مسلسل خوف، بے چینی یا رویّوں میں نمایاں تبدیلی نظر آئے تو کسی ماہرِ نفسیات سے رہنمائی لینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔


یاد رکھیے! بچوں کی تربیت صرف انہیں اچھے اسکول میں داخل کروانے، مہنگے لباس پہنانے اور ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں۔ ان کی ذہنی صحت، جذباتی ضروریات اور احساسِ تحفظ کا خیال رکھنا بھی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بچوں کو ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ بلاخوف اپنی بات کہہ سکیں، اپنی پریشانیاں بیان کر سکیں اور یہ یقین رکھیں کہ ان کے والدین انہیں سننے اور سمجھنے کے لیے موجود ہیں۔


کیونکہ ماں باپ کی لڑائی شاید ان کے لیے چند لمحوں کا غصہ ہو، لیکن بچوں کے لیے یہی جھگڑے ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے باہمی اختلافات کی سزا بچوں کو نہیں ملنی چاہیے۔ اگر وہ اپنے بچوں کو ایک محفوظ، پُرسکون اور محبت بھرا گھر نہیں دے سکتے تو کم از کم انہیں اپنے جھگڑوں کی نذر بھی نہ کریں۔ بچوں کو صرف زندگی دینا کافی نہیں، انہیں ایسی زندگی دینا بھی ضروری ہے جس میں محبت، اعتماد، احترام اور تحفظ کا احساس موجود ہو۔