منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مغرب کا تصور، پاکستانی حقیقت اور ریاست کی ذمہ داری،تحریر: سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

مغرب کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد تصورات پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف وہاں کے خاندانی نظام، اخلاقی اقدار اور معاشرتی رویوں پر تنقید کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہاں کے معیارِ زندگی، قانون کی حکمرانی، روزگار کے مواقع اور عوامی سہولتوں کو قابلِ رشک قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقت ان دونوں تصورات کے درمیان ہے۔ کسی بھی معاشرے کو چند واقعات، سنی سنائی باتوں یا نظریاتی وابستگیوں کی بنیاد پر پرکھنے کے بجائے مستند اعدادوشمار، زمینی حقائق اور شہریوں کے تجربات کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔

اصل سوال مغرب نہیں، پاکستانی شہری کی زندگی ہے۔

کیا پاکستان میں ایک عام محنت کش اپنی آمدن سے باعزت رہائش، مناسب خوراک، علاج، تعلیم، بجلی، گیس اور اپنے بچوں کے مستقبل کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اس مسئلے کو محض تقدیر، صبر یا ذاتی ناکامی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اجرتوں، مہنگائی، روزگار، ٹیکسوں اور عوامی خدمات کے معیار کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔

یورپ اور شمالی امریکا کے متعدد ممالک میں سماجی تحفظ، پبلک ٹرانسپورٹ، بلدیاتی خدمات اور شہری حقوق کے حوالے سے قابلِ ذکر نظام موجود ہیں۔ تاہم تمام مغربی ممالک میں تنخواہیں، ٹیکس، علاج، تعلیم اور رہائش کی سہولتیں یکساں نہیں۔ کہیں سرکاری صحت کی سہولتیں وسیع ہیں، کہیں نجی انشورنس پر انحصار زیادہ ہے، جبکہ مہنگی رہائش اور زندگی کے اخراجات وہاں کے شہریوں کے لیے بھی بڑے مسائل ہیں۔ اس لیے کسی معاشرے کی کامیابی کا پیمانہ محض اس کی دولت نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے ثمرات عام شہری تک کس حد تک پہنچتے ہیں۔

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 37 اور 38 سماجی انصاف، معاشی بہبود اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے حوالے سے ریاستی رہنما اصول بیان کرتے ہیں۔ ان آئینی تقاضوں کو عملی شکل دینا حکومتوں، متعلقہ اداروں اور قانون سازوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ محض آئینی دفعات کا موجود ہونا کافی نہیں؛ ان کے مطابق مؤثر پالیسیاں، مناسب بجٹ، شفاف نگرانی اور قابلِ احتساب نظام بھی ضروری ہیں۔

اسی طرح شہری کو تھانے، عدالت، سرکاری دفتر یا کسی بلدیاتی ادارے سے رجوع کرتے وقت غیر ضروری رکاوٹوں، امتیازی سلوک اور رشوت جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ ڈیجیٹل نظام، شفاف طریقۂ کار اور شکایات کے مؤثر ازالے سے عوام کا وقت، پیسہ اور اعتماد بچایا جا سکتا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتیں، موٹرویز یا بڑے منصوبے نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ عام آدمی کو انصاف، محفوظ روزگار، صاف پانی، بہتر علاج اور باوقار زندگی میسر ہو۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے: صبر اور شکر کا مطلب ناانصافی کو قبول کر لینا نہیں۔ شہریوں کو اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا، پرامن اور آئینی طریقوں سے آواز اٹھانا، سوال کرنا اور حکمرانوں سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ جمہوری معاشرے میں عوام حکمرانوں کے تابع محض رعایا نہیں بلکہ حقوق رکھنے والے شہری ہوتے ہیں۔ ریاستی اختیار عوامی فلاح اور قانون کے تابع ہونا چاہیے۔

پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور انسانی صلاحیتیں یقیناً امکانات رکھتی ہیں، لیکن امکانات خودبخود خوش حالی میں تبدیل نہیں ہوتے۔ اس کے لیے معیاری تعلیم، ہنرمندی، پیداواری معیشت، آزاد اور ذمہ دار صحافت، مؤثر اداروں اور قانون کی یکساں عمل داری کی ضرورت ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کے معاشروں کے بارے میں مبالغہ آمیز دعووں کے بجائے اپنی حقیقت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں۔ سوال یہ نہیں کہ مغرب مکمل طور پر مثالی ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کے لیے بہتر زندگی، انصاف اور مواقع پیدا کرنے میں کتنی پیش رفت کر رہا ہے۔

کیونکہ کسی ملک کی اصل کامیابی اس کے نقشے، نعروں یا دعووں سے نہیں، بلکہ اس کے عام شہری کی زندگی، عزت، تحفظ اور مستقبل سے پہچانی جاتی ہے۔