ماحولیاتی آبی آلودگی اور سمندری حیات، تحریر:پروفیسر عامر زیرں
نقطہ نظر
دُنیا میں جنگیں عموماً سرحدوں، عسکری تنصیبات، بحری راستوں اور سیاسی مفادات کے تناظر میں دیکھی جاتی ہیں۔ میزائلوں کی تعداد، تباہ ہونے والے جہازوں اور فوجی کارروائیوں کی خبریں سرخیاں بنتی ہیں، لیکن اِن جنگوں کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو اکثر نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے: قدرتی ماحول کی تباہی۔ جب بارود سمندر میں گرتا ہے، تیل بردار جہاز شعلوں کی نذر ہوتے ہیں اور بحری راستوں پر حملوں کے نتیجے میں خام تیل پانی میں پھیلتا ہے تو اس جنگ کی قیمت صرف انسان نہیں، بلکہ سمندری حیات اور آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے ساحلوں کے قریب تیل کے پھیلاؤ کی حالیہ اطلاعات اسی خطرے کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ یورپی یونین کے کوپرنیکس سیٹلائٹ نظام سے حاصل کردہ 24 اکتوبر 2026ء کی تصاویر میں اُم القوین کے قریب تیل کے پھیلاؤ میں وسعت دکھائی دی ہے۔ اِس صورتِ حال کے پیش نظر اَمارات کے متعدد شمالی ساحلی علاقوں میں عوام کی آمدورفت محدود یا ساحل بند کیے گئے۔ یہ محض ایک ساحل کی صفائی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس سوال کا پیش خیمہ ہے کہ جنگی کارروائیوں کے ماحولیاتی نقصانات کی ذمہ داری کون اٹھائے گا اور سمندر کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کیسے ہوگی؟
………………………………………………
جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ماحولیاتی نگرانی کے طریقے بدل دیے ہیں۔ اَب سمندر کے دور دراز حصوں میں تیل کے پھیلاؤ، اِس کی سمت اور ساحلوں کے قریب پہنچنے کے اِمکانات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ کوپرنیکس سینٹینل-2 کی تصاویر نے اُم القوین کے قریب تیل کے پھیلاؤ کی وسعت نمایاں کی، جبکہ اماراتی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے آلودگی کی نگرانی اور ماحولیاتی اثرات کے جائزے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع نے تباہ شدہ تیل بردار جہاز Gem-2 Noکو اس اخراج کا ممکنہ ذریعہ قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جہاز کو ستمبر میں ایک نامعلوم نوعیت کے حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم، واقعے کی مکمل وجہ اور ذمہ داری کے تعین کے لیے احتیاط ضروری ہے؛ ممکنہ ذریعے کی شناخت اور کسی فریق کے خلاف حتمی الزام ایک ہی بات نہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر ہمیں آلودگی دکھا سکتی ہیں، مگر سمندر کی مکمل کہانی جاننے کے لیے پانی، ریت اور آلودہ مواد کے نمونے، سمندری دھاروں کا تجزیہ اور ماہرین کی تحقیقات بھی ضروری ہیں۔
…………………………………………
سمندر بظاہر ایک وسیع اور طاقت ور قدرتی نظام ہے، لیکن اس کی قدرتی قوت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انسانی سرگرمیوں سے ہونے والی آلودگی کو ہر بار بے ضرر بنا سکتا ہے۔ خام تیل پانی کی سطح پر پھیل کر ایک ایسی تہہ بنا سکتا ہے جو سمندری جانداروں اور ان کے مساکن کو متاثر کرتی ہے۔مچھلیوں کے انڈوں اور لاروا کی نشوونما، سمندری کچھوؤں کی زندگی، ساحلی پرندوں کے پروں کی قدرتی حفاظتی تہہ اور مرجانی چٹانوں کے ماحول کو تیل سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر تیل ساحلی دلدلی علاقوں، مینگرووز اور سمندری گھاس کی پناہ گاہوں تک پہنچ جائے تو صفائی کے بعد بھی کچھ اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ خلیج کے پانیوں میں مچھلیوں کی سینکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں، اس لیے اس آلودگی کا دائرۂ اثر ایک محدود ساحلی مقام سے کہیں وسیع ہو سکتا ہے۔
تیل کی آلودگی کا خطرہ صرف پانی میں تیرتے ہوئے سیاہ دھبوں تک محدود نہیں رہتا۔ بعض اِجزا ء پانی اور تلچھٹ میں باقی رہ سکتے ہیں، جبکہ ان کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والے طریقے بھی احتیاط چاہتے ہیں۔ اسی لیے فوری طور پر تیل کو روکنا، آلودہ ساحلوں کی صفائی اور متاثرہ جانداروں کی نگرانی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
………………………………
یہ سوال پاکستانی قارئین کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ بحیرہ عرب پاکستان کی معیشت، ماہی گیری، بندرگاہوں اور ساحلی آبادیوں کی زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ خدشہ محض نظریاتی نہیں۔ جون 2026ء میں گوادر کے مغربی ساحل پر خام تیل کی موٹی تہہ جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ڈان اور انادولو کی رپورٹوں کے مطابق تقریباً 15 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہوئی، صفائی کا کام شروع کیا گیا اور تیل کے ممکنہ ماخذ کی تحقیقات کی گئیں۔ اس واقعے کو خطے میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے قریب بحری واقعات سے جوڑے جانے کے امکانات زیرِ غور آئے، لیکن اس کے اصل ماخذ کا تعین فوری طور پر نہیں ہو سکا تھا۔
گوادر کے واقعے اور امارات کے حالیہ تیل کے اخراج کو ایک ہی واقعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم، دونوں واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ خلیج اور بحیرۂ عرب کے درمیان بحری آمدورفت اور سمندری دھاروں کے تناظر میں ماحولیاتی خطرات کو سرحدوں تک محدود سمجھنا مناسب نہیں۔اگر تیل سمندری دھاروں اور ہواؤں کے ذریعے پاکستانی ساحلوں کی جانب بڑھے تو اس کے ممکنہ اثرات کا انحصار اخراج کے مقام، تیل کی نوعیت، مقدار، موسمی حالات اور سمندری دھاروں پر ہوگا۔ اس لیے پاکستان کے ساحلی حکام کو افواہوں یا غیر مصدقہ پیش گوئیوں کے بجائے سیٹلائٹ نگرانی، پانی کے نمونوں اور مستند سمندری ماڈلز پر انحصار کرنا چاہیے۔
………………………………
سمندری آلودگی کا ایک اہم انسانی پہلو ماہی گیروں کا روزگار ہے۔ جب کسی ساحلی علاقے میں تیل پھیلتا ہے تو ماہی گیری محدود کرنا پڑ سکتی ہے، کشتیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور بازار میں مچھلی کی فروخت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ساحل پر تیل جمع ہونے سے سیاحت اور تفریحی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔پاکستان میں گوادر، پسنی، اورماڑہ اور کراچی کے ساحلی علاقوں کے متعدد خاندانوں کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ سمندر سے وابستہ ہے۔ کسی بڑے آلودگی کے واقعے کی صورت میں نقصان صرف مچھلی کے شکار تک محدود نہیں رہتا، بلکہ نقل و حمل، مقامی کاروبار اور گھریلو آمدنی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔اِس لیے ضروری ہے کہ سمندری آلودگی کی نگرانی کے ساتھ ماہی گیروں کے لیے بروقت اِطلاع، متبادل روزگار یا ہنگامی مالی امداد اور آلودگی سے متاثرہ علاقوں کی سائنسی جانچ کا نظام بھی موجود ہو۔
جنگ کے دوران تیل بردار جہازوں اور توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان ایک اہم قانونی اور اخلاقی سوال پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی حملے کے نتیجے میں تیل سمندر میں پھیلتا ہے تو اس کے اثرات ان لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں جو اس جنگ میں فریق ہی نہیں ہوتے۔بین الاقوامی ماحولیاتی قانون اور سمندری آلودگی سے متعلق ضوابط کے تحت مختلف حالات میں ریاستوں، جہازوں کے مالکان اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ تاہم، کسی خاص واقعے میں قانونی ذمہ داری کا تعین شواہد، قابلِ اطلاق قوانین اور تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
جنگی حکمتِ عملی کے فیصلوں میں ماحولیاتی نقصانات کو نظرانداز کرنا مستقبل کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ تیل کا اخراج روکنے کے لیے فوری اقدامات، شفاف تحقیقات اور متاثرہ ماحول کی بحالی کے اخراجات کے بارے میں واضح ذمہ داری ضروری ہے۔
…………………………………………
پاکستان سمیت خطے کے ممالک کو مشترکہ سمندری نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے۔ سیٹلائٹ تصاویر، ساحلی نگرانی، پانی اور ریت کے نمونوں اور سمندری دھاروں کے اعدادوشمار کا تبادلہ اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جہاں تیل پھیلنے کا خدشہ ہو وہاں اسے ساحل تک پہنچنے سے پہلے روکنے کے لیے مناسب تیرتے ہوئے حفاظتی بند، تیل جمع کرنے کا سامان اور تربیت یافتہ امدادی ٹیمیں تیار رکھنا ضروری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ماہی گیری اور ساحلی سرگرمیوں سے متعلق فیصلے مقامی حکام اور ماحولیاتی ماہرین کی ہدایات کے مطابق ہونے چاہییں۔عوام کو بھی ساحل پر ملنے والے تیل یا مشتبہ مادوں کو ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہیے اور متعلقہ حکام کو اطلاع دینی چاہیے۔ آلودگی کی موجودگی کا مطلب ہر علاقے میں یکساں خطرہ نہیں، اس لیے صحت اور خوراک سے متعلق ہدایات مستند جانچ کی بنیاد پر جاری ہونی ہوں۔
امارات کے ساحلوں پر تیل کے پھیلاؤ کی اطلاعات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جدید جنگوں کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایک تباہ شدہ جہاز، سمندر میں بہنے والا تیل اور ساحل پر جمع ہونے والی سیاہ تہہ بظاہر الگ الگ مناظر ہیں، مگر ان کے پیچھے انسانی زندگی، قدرتی توازن اور معاشی تحفظ کا مشترکہ سوال موجود ہے۔
سمندر قومی سرحدوں کو نہیں پہچانتا۔ اِس کی لہریں آلودگی کو اپنے ساتھ لے جا سکتی ہیں، جبکہ سمندری حیات اور ساحلی آبادیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے جنگی تنازعات کے حل کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی عالمی ترجیحات میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔جنگ کا اختتام صرف اس وقت مکمل سمجھا جا سکتا ہے جب اس کے انسانی اور ماحولیاتی زخموں کو بھرنے کی سنجیدہ کوشش بھی کی جائے۔ ورنہ ممکن ہے کہ توپوں کی آوازیں خاموش ہو جائیں، مگر آلودہ ساحلوں، متاثرہ ماہی گیروں اور زخمی سمندری حیات کی کہانی برسوں تک باقی رہے۔
مزید پڑھیں




