پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میں اپنی ذات میں مکمل ہوں،تحریر:ماہ نور کنول

نقطہ نظر

کبھی مجھے اپنی شخصیت کی ایک عادت بہت عجیب محسوس ہوتی تھی۔ میں لوگوں سے جلدی گھل مل نہیں پاتی تھی، کسی سے گفتگو کا آغاز کرنا، بات کو آگے بڑھانا اور نئے تعلقات قائم کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ محفل میں موجود ہونے کے باوجود اکثر خاموش رہتی، بہت کچھ سوچتی مگر ہر بات زبان پر نہیں لا پاتی تھی۔ مجھے لگتا تھا شاید یہ میری شخصیت کی کوئی کمی ہے، شاید مجھے بھی دوسروں کی طرح بے تکلف ہونا چاہیے، ہر کسی سے بات کرنی چاہیے اور لوگوں کے درمیان اپنی جگہ بنانی چاہیے لیکن وقت نے مجھے اپنی ہی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو دکھائے جن سے پہلے میں واقف نہیں تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ ہر انسان سے تعلق قائم کرنا ضروری نہیں ہوتا، ہر گفتگو کو دوستی میں بدلنا لازم نہیں ہوتا اور ہر ملنے والی شخصیت کو اپنے اندرونی معاملات تک رسائی دینا دانش مندی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ہم کسی سے محض اچھے رویے کی توقع رکھتے ہیں مگر بدلے میں ایسی مایوسی ملتی ہے جس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ کچھ باتیں جنھیں ہم اعتماد سمجھ کر کسی کے سامنے رکھتے ہیں، وہی بعد میں ہمارے لیے تکلیف کا سبب بن جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے اب مجھے اپنی محدود دنیا پہلے جیسی اجنبی محسوس نہیں ہوتی۔

میں نے یہ سیکھا ہے کہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں جگہ دینا اور ہر شخص کو اپنے دل تک رسائی دینا دو مختلف باتیں ہیں۔ میں لوگوں سے اچھے طریقے سے مل سکتی ہوں، ان کی عزت کر سکتی ہوں، ان کے لیے اچھا سوچ سکتی ہوں لیکن اس سب کے لیے ضروری نہیں کہ میں اپنی ذات کے دروازے بھی ہر کسی کے لیے کھول دوں۔ مجھے اب خاموش رہنے پر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔کسی محفل میں اگر بات کرنے کو دل نہ چاہے تو میں خود کو بولنے پر مجبور نہیں کرتی۔ کسی گفتگو میں اگر شامل ہونے کی خواہش نہ ہو تو محض لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی طبیعت کے خلاف نہیں جاتی۔ میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ میری شخصیت کا پیمانہ یہ نہیں کہ میں کتنے لوگوں سے بات کرتی ہوں، بلکہ یہ ہے کہ میں اپنے وجود کے ساتھ کتنی مطمئن ہوں۔

البتہ میں یہ دعویٰ بھی نہیں کرتی کہ مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔ انسان ہوں، مجھے بھی کبھی کسی کی بات سننے کی خواہش ہوتی ہے، کبھی دل چاہتا ہے کہ کوئی میری خاموشی کو سمجھے، کبھی کسی سے بے تکلف ہو کر بات کرنے کو جی چاہتا ہے مگر اب میں نے اپنی ہر خواہش کو کسی دوسرے انسان کی موجودگی سے وابستہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میں اپنے ساتھ وقت گزار سکتی ہوں، اپنے خیالات میں رہ سکتی ہوں اور اپنی خاموشی میں بھی خوشی تلاش کر سکتی ہوں۔ ایک وقت تھا جب مجھے لگتا تھا کہ شاید میرا لوگوں سے کم تعلق رکھنا میری کمزوری ہے مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ اپنی حدود پہچاننا بھی ایک خوبی ہے۔ البتہ میں اس فاصلے کو اپنی ضد یا دوسروں کے لیے بدگمانی نہیں بنانا چاہتی۔ میں آج بھی اچھے لوگوں کی قدر کرتی ہوں، خلوص کی عزت کرتی ہوں اور خوب صورت تعلقات پر یقین رکھتی ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب میں ہر تعلق کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ نہیں سمجھتی۔ میں نے یہ بھی جانا ہے کہ تنہائی ہمیشہ محرومی نہیں ہوتی اور لوگوں کے درمیان رہنا ہمیشہ خوشی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ کبھی انسان ہجوم میں بھی خود کو غیر ضروری محسوس کرتا ہے اور کبھی اپنی چھوٹی سی دنیا میں رہ کر مکمل سکون محسوس کرتا ہے۔ اب مجھے اپنی شخصیت کو دوسروں کے مزاج کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ میں جیسی ہوں، اپنی خامیوں اور خوبیوں سمیت خود کو قبول کرنا سیکھ رہی ہوں۔ مجھے ہر کسی کی پسندیدہ بننے کی خواہش نہیں، نہ ہی ہر تعلق میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

شاید میری شخصیت کا یہ پہلو کبھی میرا مائنس پوائنٹ تھا مگر اب میں اسے اپنی ذات کی ایک خوب صورت خوبی سمجھتی ہوں۔ میں نے لوگوں سے تعلق ختم نہیں کیے، بس اپنی ذات تک رسائی کو غیر ضروری طور پر آسان بنانا چھوڑ دیا ہے کیوں کہ اب مجھے یہ سمجھ آ گئی ہے کہ خود کو محدود رکھنا اور خود کو محروم رکھنا ایک بات نہیں۔ میں دنیا سے ناراض نہیں، بس اپنے وجود کے سکون کو دنیا کی ہر عارضی وابستگی پر ترجیح دینا سیکھ رہی ہوں۔