Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شطرنج کی نئی بساط اور معیشت کی پرانی چالیں،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

دنیائے سیاست اس وقت ایک ایسے پُراسرار ڈرامے کی مانند ہے جہاں بظاہر ہر اداکار روشنیوں کے ہجوم میں اپنے حفظ کیے ہوئے مکالمے دہرا رہا ہے جبکہ پسِ پردہ اصل داستان اقتدار کی ہوس اور معیشت کی باریک ڈوریوں کے تابع جاری و سارِی ہے۔

ذرا غور کیجیے اقوام متحدہ کا عالیشان ہال ہو روس اور یوکرین کی سرحد پر اڑتے ڈرونز ہوں یا پھر مشرقِ وسطیٰ کے تپتے صحرا ، ان تمام خبروں کی کڑیاں دراصل ہمارے اور آپ کے باورچی خانے کے بجٹ سے جا کر ملتی ہیں۔ جب روس اور یوکرین کے درمیان ڈرون اور میزائلوں کی شدید گولا باری سے صنعتی مراکز تباہ ہوتے ہیں تو اثر صرف وہیں تک محدود نہیں رہتا۔ گندم، کھاد اور ایندھن کا پورا عالمی نظام ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ نتیجہ؟ پاکستان جیسے در آمدات پر انحصار کرنے والے ممالک میں روٹی ، تیل اور ہر عام ضرورت کی چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔

معاملہ صرف روایتی جنگ کا نہیں ہے اصل کشمکش تو آئندہ کی دنیا پر حکمرانی کی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تکنیکی مذاکرات سے لے کر یورپی یونین کی طرف سے بڑی ٹیک کمپنیوں پر بھاری جرمانوں تک ، سب اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ آنے والے دور میں طاقت کا مرکز وہ ہوگا جس کے پاس ’ڈیجیٹل معلومات‘ اور ’مصنوعی ذہانت‘ (AI) کا کنٹرول ہوگا۔ چین اپنے نظام کو اندرونی طور پر سخت کر کے اس طویل المعیاد مقابلے کی تیاری کر رہا ہے اور اس منظر نامے میں پاک چین سی پیک منصوبہ محض ایک سڑک کا نام نہیں رہا بلکہ ہماری معاشی اور تکنیکی بقا کا زبردست موقع بن چکا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کے کسی ایک کونے کی بے چینی پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ترکی کے کسی اسکول کے قریب ہونے والی ناگہانی فائرنگ محض ایک خبر نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اندرونی امن کے بغیر سیاحت ، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

تو پھر اس تلاطم خیز دنیا میں ہمارے لیے نجات کی کیا راہ ہے؟

سب سے پہلا سبق خود کفالت ہے۔ جب تک ہم زرعی ملک ہوتے ہوئے اپنی گندم اور فصلوں کے لیے خود کفیل نہیں ہوتے اور جب تک ہم مہنگے در آمدی تیل کے بجائے سولر اور ونڈ انرجی جیسے متبادل ذرائع نہیں اپناتے عالمی جھٹکے ہمیں یونہی متاثر کرتے رہیں گے۔ دوسری بات یہ کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو محض روایتی ڈگریوں تک محدود رکھنے کی بجائے AI اور ڈیجیٹل ڈومین کا ماہر بنانا ہوگا تاکہ وہ اس نئی تکنیکی معیشت سے اپنا حصہ نکال سکیں۔

آخر میں جہاں تک دنیا میں امن قائم کرنے اور پاکستان کو سلامتی کا گہوارہ بنانے کا تعلق ہے تو اصول بالکل سادہ ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کی محاذ آرائی میں کسی ایک کا آلہ کار بننے کے بجائے پاکستان کو ایک باوقار اور غیر جانبدار ثالث کا کردار نبھانا چاہیے۔ ہماری جغرافیہ ہماری طاقت ہے اگر ہم اپنی اس اہمیت کو جنگ کے بجائے تجارتی راہداری کے طور پر پیش کریں گے اور ملک کے اندر قانون ، انصاف اور سیاسی استحکام لائیں گے تو دنیا بھی ہماری بات سنے گی اور ہمارا اپنا گھر بھی امن ، خوشحالی اور سلامتی کا گہوارہ بنے گا

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL