Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معلومات تک رسائی کا عالمی دن ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

علم اور آگہی ہمیشہ سے انسانی شعور کے ارتقا اور تہذیبوں کی بقا کا بنیادی زینہ رہے ہیں، مگر جدید جمہوری دور میں معلومات محض علم کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ ہر سال اٹھائیس ستمبر کو دنیا بھر میں معلومات تک رسائی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد عام شہریوں، ریاستی اداروں اور اربابِ اقتدار کو یہ احساس دلانا ہے کہ ریاستی امور میں شفافیت اور عوام کو حقائق تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرنا کسی بھی مہذب اور مستحکم معاشرے کی اولین ضرورت ہے۔ یہ دن دراصل اس تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جس نے بند کمروں کے فیصلوں کو عوامی عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔

اس عالمی دن کے تاریخی پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معلومات کے حق کی باقاعدہ بین الاقوامی تحریک کا آغاز سنہ 2002 میں بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں ہوا، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے آزادیٔ اظہار اور معلومات کے وکیلوں نے اکٹھے ہو کر اٹھائیس ستمبر کو 'رائٹ ٹو نو ڈے' یعنی جاننے کے حق کے دن کے طور پر منانے کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں اس تحریک نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی اور اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے یعنی یونیسکو نے سنہ 2015 میں اپنی جنرل کانفرنس کے دوران ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے اٹھائیس ستمبر کو 'معلومات تک رسائی کا عالمی دن' قرار دیا۔ اس پیش رفت کو حتمی عالمی سند سنہ 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دی، جس نے باضابطہ طور پر اس دن کی توثیق کرتے ہوئے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے ہاں معلومات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس قانون سازی کریں۔

کسی بھی جمہوری نظام کی بقا اور ترقی کا دارومدار باخبر شہری پر ہوتا ہے۔ جب تک عوام کو یہ علم نہ ہو کہ ان کے منتخب نمائندے کیا فیصلے کر رہے ہیں، عوامی فنڈز کس طرح خرچ ہو رہے ہیں اور عوامی پالیسیوں کے پیچھے کیا محرکات کارفرما ہیں، اس وقت تک جمہوریت کا تصور ایک خالی خول کے سوا کچھ نہیں۔ معلومات تک رسائی دراصل اقتدار کے توازن کو طاقتور طبقات سے نکال کر عام شہری کے ہاتھ میں سونپتی ہے۔ خفیہ طرزِ حکمرانی ہمیشہ اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور ناانصافی کو جنم دیتی ہے، جبکہ معلومات کا بہاؤ ریاستی اداروں پر عوامی نگرانی کو ممکن بناتا ہے۔ یہ قانون اور آگہی ہر اس شہری کی ڈھال بن جاتی ہے جو ریاستی نظام میں جوابدہی کا متلاشی ہے۔

معلومات تک رسائی اس لیے ناگزیر ہے کیونکہ رازداری بدعنوانی کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے۔ جب سرکاری دفاتر اور اداروں کے فیصلے عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں تو اقربا پروری، غیر شفاف معاہدے اور مالیاتی بے ضابطگیاں جنم لیتی ہیں۔ معلومات کے حق کی فراہمی ریاستی اداروں کی کارکردگی کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتی ہے۔ اگر شہریوں کو اپنے حقوق، صحت، تعلیم، ماحولیاتی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کے متعلق درکار اعداد و شمار میسر نہ ہوں تو وہ کبھی بھی اپنے بہتر مستقبل کے لیے مؤثر تجاویز یا فیصلے نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں بھی اس بات کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے کہ ہر ملک کو عوامی معلومات تک رسائی کی قانونی ضمانت دینا ہوگی۔

اس حق کے اثرات اور فوائد کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ثمرات ہمہ جہت ہیں۔ سب سے پہلا اور نمایاں فائدہ گڈ گورننس اور کرپشن کی بیخ کنی ہے۔ جب کسی سرکاری ملازم یا پالیسی ساز کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اس کا اٹھایا گیا ہر قدم اور منظور کی گئی ہر فائل قانونی طور پر عوام کی جانچ پڑتال کے دائرے میں آ سکتی ہے تو وہ فیصلے کرتے وقت دیانت اور قانون کی پاسداری پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دوسرا فائدہ عوامی فنڈز کا درست اور باکفایت استعمال ہے۔ دنیا بھر میں تحقیقاتی صحافت اور باشعور شہریوں نے معلومات کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اربوں کھربوں کے گھپلوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حق شہریوں کے اندر ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اطلاعات کھلی اور دستاب ہوں، وہاں افواہوں، غلط فہمیوں اور بے یقینی کی گنجائش کم سے کم رہ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سماجی استحکام اور ریاست و عوام کے مابین تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے سنہ 2010 میں آرٹیکل 19-اے شامل کر کے ہر شہری کو عوامی اہمیت کے حامل تمام امور میں معلومات تک رسائی کا بنیادی حق دیا گیا۔ بعد ازاں وفاق اور صوبوں کی سطح پر 'رائٹ ٹو انفارمیشن' کے قوانین منظور کیے گئے اور انفارمیشن کمیشن قائم ہوئے۔ یہ قوانین بلاشبہ ایک تاریخی پیش رفت تھے جن کی بدولت عام شہری کو کسی بھی پبلک باڈی سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کا قانونی اختیار ملا۔ اگر کوئی محکمہ پندرہ یا اکیس دن کے اندر معلومات فراہم کرنے سے انکار کرے تو شہری کمیشن سے رجوع کر کے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم، قانون سازی اپنی جگہ مگر اصل چیلنج اس کے عملی نفاذ کا ہے۔ ہمارے ہاں روایتی بیوروکریسی اب بھی برطانوی سامراج کے وضع کردہ 'آفیشل سیکرٹس ایکٹ' اور پوشیدگی کے کلچر سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکی ہے۔ فائلوں کو مخفی رکھنے کی ذہنی روش اب بھی معلومات کی فراہمی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ عوام میں اس حق کے حوالے سے شعور کی شدید کمی ہے۔ دیہات اور قصبوں کے عوام کی اکثریت تو درکنار، شہروں میں بسنے والے پڑھے لکھے نوجوان اور صحافی بھی اس طاقتور ہتھیار کے طریقہ کار سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ بہت سے محکموں میں ریکارڈ کی بروقت ڈیجیٹلائزیشن نہیں ہو سکی، اور نہ ہی انفارمیشن افسران کو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دی گئی ہے۔

جدید ڈیجیٹل دور میں اس دن کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا پرائیویسی اور اوپن ڈیٹا پالیسیاں ریاستوں کے معمولات کا حصہ بن رہی ہیں۔ اب صرف کاغذ پر چھپی معلومات مانگنا کافی نہیں رہا بلکہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر پرو ایکٹو ڈسکلوزر کے تحت تمام اہم بجٹ، ٹینڈرز اور اعلانات ازخود جاری کریں تاکہ کسی کو درخواست دینے کی بھی ضرورت نہ پڑے۔

اٹھائیس ستمبر کا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچی اور بے لاگ معلومات جمہوریت کی روح اور انصاف کی بنیادی شرط ہیں۔ اس دن کا تقاضا ہے کہ ریاست شہریوں کے اس حق کو ایک رعایت کے بجائے آئینی فرض سمجھے اور شہری اسے اپنی طاقت کے طور پر پہچانیں۔ معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً اساتذہ، صحافیوں اور دانشوروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات تک رسائی کے شعور کو عام کریں، تاکہ بدعنوانی، رازداری اور اندھیروں کے سائے چھٹ سکیں اور ایک شفاف، باشعور اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔