جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ممنوعہ سچ،تحریر: مہوش شفیق

نقطہ نظر

رات اپنے جوبن پر تھی۔ چاندنی صحن میں چاندی کی طرح بکھری ہوئی تھی اور ہوا میں رات کی رانی کی مہک بسی ہوئی تھی۔ دور کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس خاموش رات کو اور بھی گہرا کر رہے تھے۔ صحن کے ایک کونے میں نیم کا درخت کھڑا تھا جس کے پتے چاندنی میں سرسرا رہے تھے، جیسے وہ بھی اس خاموش گفتگو کا حصہ بننا چاہتے ہوں۔

ایک بوڑھی ماں چولہے کے پاس بیٹھی بجھتی ہوئی آگ کو کرید رہی تھی اور اس کی بیٹی سامنے چارپائی پر بیٹھی چاند کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے اس سے کوئی بات پوچھنا چاہتی ہو۔ بیٹی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، ایک ایسا سوال جو برسوں سے اس کے دل میں پل رہا تھا مگر ہونٹوں تک کبھی آ نہ سکا تھا۔

دیر تک چھائی چپ کو ماں نے توڑا اور دھیمے لہجے میں بولی:

”بیٹی! آج تو بہت چپ چپ ہے۔ اگر تجھے سچ کہنے کی کھلی چھوٹ مل جائے تو تو کس سچ سے پردہ اٹھائے گی؟“


بیٹی نے ایک پل کو آنکھیں بند کیں، جیسے دل کے کسی بند جھروکے کو کھول رہی ہو۔ پھر آہستہ آواز میں بولی:

”اماں! میں اس سچ سے پردہ اٹھاؤں گی جسے ہم سب جانتے ہیں مگر زبان پر لاتے ہوئے کانپتے ہیں۔ وہ سچ جو ہمارے گھروں کی دیواروں میں قید ہے۔“


ماں نے چونک کر پوچھا:

”وہ کون سا سچ ہے، میری بیٹی؟ ایسا کیا ہے جو تجھے اندر ہی اندر کھا رہا ہے؟“

بیٹی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ وہ بولی:

”یہی کہ ہم نے محبت کو دکھاوے کا چولا پہنا دیا ہے۔ ہم رشتے دل سے نہیں، مطلب سے نبھاتے ہیں۔ جب تک مطلب کی ڈور بندھی ہو تب تک کوئی اپنا لگتا ہے، اور جونہی ڈور ٹوٹے، دعا سلام بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم کسی کے سامنے ہنس کر ملتے ہیں اور پیٹھ پیچھے اسی کی برائی کرتے ہیں۔ ہم کسی کے دکھ پر افسوس کی چادر تو اوڑھ لیتے ہیں مگر اس کا ہاتھ پکڑنے کے لیے آگے نہیں بڑھتے۔ ہم مرنے والے کے جنازے میں سب سے اگلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں مگر جیتے جی اس کا حال تک نہیں پوچھتے۔“

ماں کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ وہ بولی:

”بیٹی! یہ سچ تو بڑا کڑوا ہے، لوگ اسے سننا نہیں چاہیں گے۔ لوگ میٹھے جھوٹ پر تالیاں بجاتے ہیں اور کڑوے سچ پر پتھر مارتے ہیں۔“

بیٹی نے ماں کا جھریوں بھرا ہاتھ تھام لیا اور کہا:

”اماں! سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے مگر وہ گھاؤ نہیں دیتا، وہ گھاؤ کو دھو کر صاف کرتا ہے۔ ہم نے سچ بولنے والے کو بدتمیز کہنا شروع کر دیا ہے اور جھوٹی تعریف کرنے والے کو اچھا آدمی۔ استاد سچ نہیں بولتا کہ کہیں روزی نہ چھن جائے، شاگرد سچ نہیں بولتا کہ کہیں نمبر نہ کٹ جائیں، مزدور سچ نہیں بولتا کہ کہیں نوکری سے نہ نکال دیا جائے اور بیٹی سچ نہیں بولتی کہ کہیں بدنامی کی چادر نہ اوڑھنی پڑ جائے۔ ہم سب نے اپنے اپنے حصے کا ایک جھوٹ پال رکھا ہے، بس اس لیے کہ سچ بولنے کی قیمت بہت بھاری ہے۔“

پھر تھوڑی دیر کے لیے چپ چھا گئی۔ چاندنی اب بھی صحن میں بکھری تھی مگر اس چپ میں ایک سچ گونج رہا تھا جو دل کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ چولہے کی آگ اب مکمل بجھ چکی تھی مگر ان دونوں کے درمیان ایک نئی روشنی جاگ اٹھی تھی۔

بیٹی نے آخری بات کہی، اس کی آواز میں اب ڈر نہیں، ایک عزم تھا:

”اماں! اگر ہم آج سچ بولنا سیکھ لیں، اگر ہم آج اس ممنوعہ سچ کو زبان دے دیں تو کل ہمارے بچوں کو جھوٹ کی چادر اوڑھ کر جینا نہیں پڑے گا۔ انہیں رشتوں میں مطلب نہیں، محبت ملے گی۔“

ماں نے پیار سے بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا، اس کی آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے اور دعا دی:

”اللہ کرے بیٹی، تیرا یہ سچ کبھی ممنوع نہ رہے۔ اللہ کرے تیری آواز دبے نہیں۔“

کیونکہ بستی تب ہی بدلے گی جب ہم سچ کو ممنوع نہیں، ضروری سمجھیں گے۔