میرا جنازہ پڑھا دیا گیا،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
میرا جنازہ پڑھا دیا گیا۔ یہ جملہ پڑھتے ہوئے شاید آپ کو عجیب لگے کہ ایک زندہ آدمی اپنے جنازے کی بات کیسے کر سکتا ہے، مگر ذرا ٹھہریے۔ یہ میری نہیں ہم سب کی کہانی ہے۔ کل رات تک میں بھی آپ ہی کی طرح زندہ تھا۔ میرے ہاتھ میں موبائل تھا، گھر میں میرے اپنے لوگ تھے، میرے کمرے میں میری چیزیں بکھری ہوئی تھیں اور میرے ذہن میں آنے والے دنوں کے بے شمار منصوبے تھے۔ میں نے سونے سے پہلے ہمیشہ کی طرح خود سے کچھ وعدے کیے۔ دل میں آیا کہ اب بہت ہوگیا، صبح سے نماز نہیں چھوڑوں گا، جھوٹ بولنا کم کروں گا، جس کا حق ہے اسے واپس دوں گا، ماں کے پاس بیٹھوں گا، باپ کی بات غور سے سنوں گا، کسی کا دل نہیں دکھاؤں گا اور اپنی زندگی کو واقعی بدلوں گا۔ پھر میں نے خود کو تسلی دی کہ ابھی عمر پڑی ہے، ایک دن میں سب ٹھیک کرلوں گا۔ موبائل ایک طرف رکھا اور سو گیا۔
رات بالکل عام تھی۔ کوئی ایسی علامت نہیں تھی جس سے مجھے اندازہ ہوتا کہ یہ میری زندگی کی آخری رات ہے۔ نہ سینے میں کوئی درد تھا، نہ کوئی حادثہ ہوا، نہ کسی نے مجھے آخری بار دیکھ کر یہ سوچا کہ شاید یہ آخری ملاقات ہے۔ میں بالکل معمول کے مطابق سویا تھا۔ شاید یہی موت کی سب سے خوفناک بات ہے کہ وہ اکثر آتے ہوئے اپنے قدموں کی آواز نہیں سناتی۔ انسان کو لگتا رہتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے اور موت خاموشی سے اس کے قریب آکر کھڑی ہوچکی ہوتی ہے۔
صبح گھر میں معمول کے مطابق ہوئی۔ کسی نے دروازہ کھولا اور مجھے آواز دی۔ میں نہیں اٹھا۔ دوبارہ آواز آئی۔ پھر کسی نے کندھا ہلایا۔ میں پھر بھی خاموش رہا۔ گھر والوں نے سمجھا شاید نیند گہری ہے۔ کسی نے میرے چہرے پر ہاتھ رکھا۔ کسی نے میرا نام لے کر زور سے پکارا۔ کمرے میں ایک بے چینی پھیل گئی۔ وہ آوازیں جو روز مجھے جگاتی تھیں آج مجھے زندگی کی طرف واپس بلانے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر میں کہیں بہت دور جاچکا تھا۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ ڈاکٹر آیا، اس نے نبض دیکھی، میری آنکھیں دیکھیں، سینے پر ہاتھ رکھا اور چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ الفاظ کہے جنہیں سننے کے لیے میرے گھر والوں میں سے کوئی تیار نہیں تھا، سوری، یہ اس دنیا میں نہیں رہے۔
بس پھر میری دنیا بدل گئی۔ کچھ دیر پہلے تک میں اس گھر کا ایک فرد تھا، اب میں اس گھر کی میت تھا۔ لوگ آنے لگے۔ کسی نے رشتہ داروں کو فون کیا، کسی نے محلے میں اطلاع دی، کسی نے غسل اور کفن کا انتظام شروع کردیا۔ دروازہ کھلتا اور کوئی اندر آکر میرے گھر والوں سے لپٹ جاتا۔ کسی کے آنسو نکل رہے تھے، کوئی انہیں تسلی دے رہا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ کل تک لوگ مجھے میرے نام سے پکارتے تھے، آج کوئی کہہ رہا تھا میت کو یہاں رکھ دیں، کوئی کہہ رہا تھا غسل کا انتظام ہوگیا ہے، کوئی کفن لے آیا تھا اور کوئی جنازے کا وقت پوچھ رہا تھا۔ میرا نام جیسے میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تھا۔
میری ماں میرے پاس بیٹھی تھی۔ وہ کبھی میرا چہرہ دیکھتی اور کبھی لوگوں کو دیکھتی۔ شاید اس کے ذہن میں وہ سارے لمحے چل رہے تھے جب میں نے اس کی کسی بات کو یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ ابھی مصروف ہوں، بعد میں بیٹھوں گا۔ شاید اسے وہ صبحیں یاد آرہی تھیں جب اس نے مجھے نماز کے لیے جگایا اور میں نے کروٹ بدل کر آنکھیں بند کرلی تھیں۔ شاید اسے وہ دن بھی یاد آرہے تھے جب میں گھر سے نکلتے ہوئے صرف اتنا کہہ کر چلا گیا تھا کہ واپس آکر بات کرتا ہوں۔ مگر اب واپسی کا وقت گزر چکا تھا۔ اب کوئی بات بعد میں نہیں ہونی تھی۔
مجھے غسل دیا گیا۔ میرے جسم کو صاف کیا گیا۔ کفن پہنایا گیا۔ جن کپڑوں کو پہن کر میں دنیا کے کاموں کے لیے نکلا کرتا تھا وہ ایک طرف پڑے تھے اور میں سفید کفن میں خاموش پڑا تھا۔ میرے موبائل میں شاید کچھ ایسے پیغامات بھی موجود تھے جن کا میں جواب دینے والا تھا۔ کچھ کام ادھورے تھے۔ کچھ لوگوں سے بات باقی تھی۔ کچھ ناراضگیاں باقی تھیں۔ کچھ خواب باقی تھے۔ لیکن موت کو کسی ادھورے کام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ صرف انسان کو لے جاتی ہے اور باقی سب چیزیں وہیں چھوڑ دیتی ہے۔
پھر میرا جنازہ اٹھایا گیا۔ چار آدمیوں نے چارپائی کے کنارے پکڑے اور مجھے گھر سے باہر لے آئے۔ میں اسی گلی سے گزر رہا تھا جہاں سے روز اپنے قدموں پر نکلا کرتا تھا۔ آج میرے قدم نہیں تھے۔ مجھے دوسرے لوگ اٹھا رہے تھے۔ محلے کے وہی لوگ جو کبھی راستے میں مل کر سلام کرتے تھے آج میرے آخری سفر میں ساتھ چل رہے تھے۔ کسی نے کہا جنازہ مسجد میں پڑھایا جائے گا۔ لوگ جمع ہونے لگے۔ صفیں بن گئیں۔ امام آگے کھڑے ہوگئے اور میری چارپائی سامنے رکھ دی گئی۔ اور پھر میری نماز جنازہ پڑھا دی گئی۔
کتنی عجیب بات ہے کہ میں جس نماز کو اپنی زندگی میں بار بار یہ سوچ کر مؤخر کرتا رہا کہ ابھی وقت ہے، آج میرے لیے لوگ وہی نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ سمجھا تھا کہ نماز کے لیے میرے پاس کل ہے، توبہ کے لیے کل ہے، اچھا بننے کے لیے کل ہے، رشتے سنبھالنے کے لیے کل ہے، مگر اس ایک رات نے میرے سارے کل مجھ سے چھین لیے۔ اب نہ میں نماز پڑھ سکتا تھا، نہ کسی سے معافی مانگ سکتا تھا، نہ کسی کا حق واپس کرسکتا تھا، نہ اپنی ماں کے پاس بیٹھ سکتا تھا، نہ اپنے رب سے کہہ سکتا تھا کہ مجھے ایک موقع اور دے دیں۔
جنازہ ختم ہوا۔ مجھے قبرستان لے جایا گیا۔ قبر پہلے سے تیار تھی۔ مجھے زمین کے اس چھوٹے سے حصے میں اتار دیا گیا جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی جلدی میری منزل بن جائے گا۔ اوپر سے مٹی ڈالی جانے لگی۔ ہر مٹھی کے ساتھ دنیا مجھ سے دور ہوتی گئی۔ کچھ لوگ کھڑے رہے، کچھ واپس چلے گئے۔ آخرکار وہ سب بھی چلے گئے۔ آوازیں ختم ہوگئیں۔ قدموں کی چاپ ختم ہوگئی۔ اور میں اکیلا رہ گیا۔
صرف ایک رات پہلے میں اپنے کل کے بارے میں سوچ کر سویا تھا۔ مگر میرا کل آیا ہی نہیں۔
ہم سب بھی تقریباً اسی طرح جی رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا جنازہ ابھی نہیں اٹھا۔ ہم بھی اپنی نماز کو اگلے دن پر رکھتے ہیں، معافی کو اگلے دن پر رکھتے ہیں، نیکی کو اگلے دن پر رکھتے ہیں، ماں باپ کے ساتھ بیٹھنے کو اگلے دن پر رکھتے ہیں اور خود کو بدلنے کا فیصلہ بھی کسی آنے والے دن کے حوالے کردیتے ہیں۔ ہمیں سب سے بڑا دھوکا یہی ہے کہ ہم کل کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، حالانکہ کل کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ انسان کے پاس صرف وہ لمحہ ہوتا ہے جس میں وہ سانس لے رہا ہوتا ہے۔
اس لیے آج رات جب آپ اپنے بستر پر لیٹیں اور دل میں یہ خیال آئے کہ ابھی بہت وقت ہے، ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، تو ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کرکے تصور کیجیے کہ صبح آپ کو جگانے کے لیے کوئی آپ کے کمرے میں داخل ہوا، آپ نے آنکھ نہ کھولی، ڈاکٹر آیا اور اس نے سر ہلا دیا۔ پھر گھر میں لوگوں کا ہجوم ہوگیا، آپ کو غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا، جنازہ اٹھا اور لوگ صفیں باندھ کر آپ کی نماز جنازہ پڑھنے لگے۔ اس لمحے آپ کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ موت انسان سے اس کی غلطیوں کی فہرست نہیں مانگتی، وہ صرف زندگی واپس لینے آتی ہے۔
اور شاید سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ جس رات آپ یہ سب پڑھ کر خود سے کہیں گے کہ "نہیں، ابھی نہیں، میرے پاس تو بہت وقت ہے"، ممکن ہے وہی آپ کی زندگی کی آخری رات ہو۔ میرا جنازہ پڑھا دیا گیا، مجھے دفنا دیا گیا، میرا کل ختم ہوگیا؛ آپ کا کل ابھی آپ کے پاس ہے، مگر صرف اس وقت تک جب تک آپ سانس لے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں


اسٹریٹجک ذخائر سے 325 ملین بیرل تیل جاری

بدلتے رنگ حیات،تحریر: اقصیٰ وحید

فکر کل کی، خوشی آج کی،تحریر: شازیہ یاسین
