دنیا میں موجود ہر چیز کے فائدے بھی ہوتے ہیں اور نقصانات بھی۔ موبائل فون بھی جدید دور کی ایسی ایجاد ہے جس نے ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب دنیا بھر کی معلومات ہماری انگلیوں کی پہنچ میں ہیں، لیکن کبھی کبھی یہی انگلیاں اسکرین پر اتنی مصروف ہوتی ہیں کہ اپنے ہی گھر والوں کے لیے ہاتھ ہلانے کی فرصت نہیں ملتیں!
ایک وقت تھا جب گھر کے تمام افراد اکٹھے بیٹھتے، بچے نانا نانی اور دادا دادی سے کہانیاں سنتے اور گھر میں ہنسی مذاق کی محفلیں سجتی تھیں۔ بزرگ اپنے تجربات سناتے اور بچے ان سے زندگی کے سبق سیکھتے تھے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنے اپنے موبائل میں گم رہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب صرف بچے ہی نہیں، بزرگ بھی موبائل کے شوقین ہو چکے ہیں۔ نانا نانی اور دادا دادی بھی ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر دوست بنانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بچے کہانی سننے کی فرمائش کریں تو جواب ملتا ہے، ’’بیٹا! ذرا انتظار کرو، ابھی میری ویڈیو چل رہی ہے۔‘‘ کل کو شاید دادی اماں بھی کہیں، ’’پہلے میری ویڈیو کو لائک کرو، پھر کہانی سناؤں گی!‘‘ یوں لگتا ہے کہ اب بچوں کو لوریاں سننے کے لیے بھی موبائل کی گھنٹی بجنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔
موبائل فون کے فوائد سے انکار ممکن نہیں۔ اس نے رابطوں کو آسان، تعلیم کو قابلِ رسائی اور معلومات کے حصول کو تیز کر دیا ہے۔ بیرونِ ملک رہنے والے عزیزوں سے ویڈیو کال پر بات کرنا، آن لائن تعلیم حاصل کرنا، روزگار تلاش کرنا اور گھر بیٹھے کاروبار کرنا اب پہلے سے کہیں آسان ہے۔ طالب علم مشکل سوالات کے جواب تلاش کر سکتے ہیں، خواتین اپنی صلاحیتوں کو کاروبار میں بدل سکتی ہیں اور لکھنے والے اپنی تحریریں ہزاروں قارئین تک پہنچا سکتے ہیں۔ ہنگامی حالات میں چند لمحوں کے اندر مدد طلب کرنا بھی ممکن ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جس موبائل نے فاصلے کم کیے، اسی نے ہمارے درمیان اتنی دوریاں کیوں پیدا کر دیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اسے ضرورت سے بڑھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل ہاتھ میں آ جاتا ہے اور رات کو سونے تک ساتھ رہتا ہے۔ گھر والے بات کریں تو جواب ملتا ہے، ’’بس دو منٹ!‘‘ یہ دو منٹ کبھی آدھے گھنٹے میں بدل جاتے ہیں اور کبھی انسان بھول ہی جاتا ہے کہ موبائل اٹھایا کس کام کے لیے تھا۔ البتہ اسکرولنگ کا سلسلہ پوری ذمہ داری سے جاری رہتا ہے!
کھانے کی میز پر سب موجود ہوتے ہیں، مگر گفتگو کے بجائے انگلیاں اسکرین پر چل رہی ہوتی ہیں۔ کھانا ٹھنڈا ہو جاتا ہے، لیکن ویڈیو ختم نہیں ہوتی۔ گھر میں کیا پک رہا ہے، اس کی خبر نہیں، مگر سوشل میڈیا پر کس نے کیا کھایا، کس نے کیا پہنا اور کون کہاں گھومنے گیا، سب معلوم ہوتا ہے۔ اپنے گھر کی دال میں دلچسپی کم اور دوسروں کی پلیٹ میں جھانکنے کا شوق زیادہ ہو گیا ہے!
سوشل میڈیا نے ہمیں دنیا سے جوڑا ضرور ہے، لیکن اس کے بے احتیاط استعمال سے وقت کا ضیاع، غلط معلومات، آن لائن دھوکا دہی اور دوسروں سے غیر ضروری موازنہ جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ہر چمکتی تصویر خوش حالی کی علامت نہیں ہوتی اور ہر مسکراتا چہرہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہوتا۔ دوسروں کی زندگی کا صرف خوب صورت رخ دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنا اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔
بچوں پر بھی موبائل کے بے جا استعمال کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر والدین ہر وقت اسکرین میں مصروف رہیں تو بچے بھی یہی عادت اپنا لیتے ہیں۔ بچوں کو صرف موبائل پکڑا کر خاموش کرانا آسان ضرور ہے، مگر ان کی تربیت، گفتگو اور جذباتی ضروریات پوری کرنے کے لیے وقت دینا بھی ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کا درست استعمال بچوں کے لیے علم کا خزانہ بن سکتا ہے، جبکہ بے احتیاطی انہیں غیر ضروری اور نقصان دہ مواد تک بھی پہنچا سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موبائل کو اپنی سہولت بنائیں، اپنی زندگی کا مالک نہیں۔ اس سے علم حاصل کریں، ہنر سیکھیں اور دنیا سے رابطے میں رہیں، لیکن اپنے والدین، بچوں اور عزیزوں کو بھی وقت دیں۔ کبھی موبائل ایک طرف رکھ کر گھر والوں کے ساتھ بیٹھیں، ان کی باتیں سنیں اور ہنسی مذاق کریں۔ آخر حقیقی زندگی کے خوب صورت لمحوں کو کسی اسکرین پر محفوظ کرنے سے زیادہ ضروری انہیں جینا ہے۔
آخر میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ موبائل کی بیٹری ختم ہو جائے تو اسے دوبارہ چارج کیا جا سکتا ہے، لیکن زندگی کے گزرے ہوئے لمحے واپس نہیں آتے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی دنیا دیکھتے دیکھتے ہم اپنی دنیا ہی کھو بیٹھیں اور پھر پکار اٹھیں: میرا موبائل مجھے لے ڈوبا!






