Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا پاکستان میری ذمہ داری ،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

بلال ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتا تھا۔ اس کا باپ سرکاری دفتر میں کلرک تھا، تنخواہ کم تھی مگر گھر میں سکون تھا۔ بلال نے میٹرک بڑی محنت سے پاس کیا اور اب کالج جانے کا سوچ رہا تھا۔ایک دن اس کے چچا شہر سے ملنے آئے۔ وہ باہر ملک میں رہتے تھے، خاصے امیر تھے۔ بیٹھک میں بیٹھ کر بلال سے پوچھنے لگے: "بیٹا، آگے کیا سوچا ہے؟"

بلال نے کہا: "چچا جان، کالج میں داخلہ لینا ہے۔ پھر کوئی اچھی نوکری تلاش کروں گا۔"

چچا ہنس کر بولے: "نوکری یہاں ملتی کہاں ہے، اور مل بھی جائے تو تنخواہ اتنی کم کہ گزارا مشکل ہو جائے۔ میری بات سنو، پڑھائی ختم کر کے باہر نکل جانا۔ وہاں پیسہ بھی ہے، سہولتیں بھی۔ یہاں رکھا ہی کیا ہے؟"

بلال کچھ دیر چپ رہا۔ پھر بولا: "چچا جان، آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ باہر پیسہ زیادہ ملتا ہے۔ مگر ایک بات میرے دماغ میں آتی ہے۔"

"کیا بات؟" چچا نے پوچھا۔

"اگر ہم جیسے سب لوگ، جو تھوڑا بہت پڑھ لکھ گئے ہیں، ملک چھوڑ کر چلے جائیں، تو یہاں کون رہے گا؟ یہ ملک کون سنبھالے گا؟"

چچا کو فوری جواب نہ سوجھا۔

بلال نے بات آگے بڑھائی: "میرے استاد نے ایک بار کہا تھا کہ ملک کوئی عمارت نہیں کہ خود بخود بن جائے۔ یہ لوگوں سے بنتا ہے۔ جیسے گھر کو صاف رکھنے کے لیے گھر والوں کو خود محنت کرنی پڑتی ہے، ویسے ہی ملک کو سنوارنے کے لیے اس کے لوگوں کو خود کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم بس شکایتیں کرتے رہیں اور بھاگتے رہیں، تو حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔"

چچا کو دلچسپی ہوئی، پوچھا: "تو تم کیا کرنا چاہتے ہو؟"

"میں یہیں رہ کر پڑھوں گا۔ ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔ ہمارے قصبے میں اچھا ہسپتال نہیں ہے، لوگ چھوٹی چھوٹی بیماری کے لیے بھی شہر جاتے ہیں، اور بہت سے غریب لوگ راستے میں ہی مر جاتے ہیں۔ اگر میں یہاں کا ڈاکٹر بن جاؤں، تو شاید کچھ جانیں بچا سکوں۔ یہی میری اصل خدمت ہوگی۔"

چچا کچھ دیر بلال کو دیکھتے رہے، پھر آہستہ سے مسکرا دیے: "بیٹا، تم نے مجھے وہ بات سمجھا دی جو میں ساری زندگی نہیں سمجھ سکا۔ باہر جانا برا نہیں، مگر اگر ہر قابل انسان یہی سوچے کہ یہاں کیا رکھا ہے اور چلا جائے، تو پیچھے صرف خالی پن بچے گا۔"

سالوں بعد بلال واقعی ڈاکٹر بن گیا۔ اس نے شہر کی بڑی نوکری کی آفر ٹھکرا دی اور اپنے ہی قصبے میں ایک چھوٹا سا کلینک کھول لیا۔ آج بھی وہاں کے لوگ اسے "ہمارا ڈاکٹر بیٹا" کہہ کر بلاتے ہیں۔

اور بلال جب بھی کسی مریض کا مسکراتا چہرہ دیکھتا، اسے یقین ہو جاتا کہ اس نے صحیح فیصلہ کیا تھا۔ کیونکہ محبت صرف زبان سے کہنے کی چیز نہیں، وطن سے محبت اس کے لیے کچھ کر گزرنے کا نام ہے۔

ملک تب ترقی کرتا ہے جب اس کے قابل لوگ بھاگنے کی بجائے رک کر اس کی خدمت کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ چھوٹی سی کوشش بھی، اگر دل سے کی جائے، بڑی تبدیلی لا سکتی ہے