Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا رب جانتا ہے،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

کبھی کبھی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں، جب انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، دل بوجھل ہو جاتا ہے اور انسان خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ ایسے میں کسی کو اپنی کیفیت سمجھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ دل کے کسی کونے سے ایک آواز آتی ہے: "میرا رب جانتا ہے۔"

وہ جانتا ہے کہ میری خاموشی کے پیچھے کتنی آوازیں چھپی ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ میں کس بات پر مسکرائی اور کس بات کو چھپا کر آنسو پی گئی۔ وہ جانتا ہے کہ میں نے کتنی بار خود کو مضبوط دکھایا، حالاں کہ اندر سے ٹوٹ رہی تھی۔ انسان دنیا کے سامنے اپنی کہانی کا صرف اتنا حصہ رکھتا ہے، جتنا وہ دکھانا چاہتا ہے مگر اللہ سے کچھ نہیں چھپا سکتا ہے۔ وہ دل کے ان زخموں کو بھی جانتا ہے جن پر کوئی مرہم رکھنے والا نہیں ہوتا ہے۔ وہ ان دعاؤں کو بھی سنتا ہے، جو ہونٹوں تک نہیں آتی ہیں صرف آنکھوں میں ٹھہر جاتی ہیں۔

کبھی ہم کسی چیز کے لیے بہت دعا کرتے ہیں۔ ہاتھ اٹھتے ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور دل یقین سے کہتا ہے کہ شاید اب کی بار میری دعا قبول ہو جائے گی۔ پھر وقت گزر جاتا ہے اور جواب دکھائی نہیں دیتا ہے۔ تب دل میں سوال اٹھتا ہے: "یا اللہ! آخر کیوں؟"

شاید ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ جس چیز کو ہم اپنے لیے رحمت سمجھ رہے ہیں۔ اس کے پیچھے کوئی ایسی آزمائش چھپی ہو جسے ہمارا رب ہم سے دور رکھنا چاہتا ہو۔ ہم صرف آج دیکھتے ہیں،

وہ کل بھی جانتا ہے۔ ہم صرف خواہش دیکھتے ہیں،

وہ انجام بھی جانتا ہے۔ ہم صرف راستہ چاہتے ہیں، وہ منزل بھی جانتا ہے۔

اسی لیے ہر بند دروازہ محرومی نہیں ہوتا ہے۔ کبھی اللہ ہمیں ایک راستے سے اس لیے ہٹاتا ہے کہ آگے کوئی ایسا راستہ ہمارا منتظر ہوتا ہے، جس کا ہمیں ابھی علم نہیں ہوتا ہے۔

پھول کو دیکھ کر کون سوچتا ہے کہ اس کے نیچے کتنی تاریکی میں ایک ننھا سا بیج خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا؟ مٹی کے اندر رہتے ہوئے اسے شاید روشنی دکھائی نہیں دیتی مگر بہار اپنے وقت پر آتی ہے۔ کچھ دعائیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں۔ وہ خاموشی میں پروان چڑھتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے شاید کچھ نہیں ہو رہا مگر ہمارا رب ہمارے لیے کچھ لکھ رہا ہوتا ہے۔ اس لیے جب حالات سمجھ نہ آئیں تو ہر سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری نہیں ہے۔

کبھی بس اتنا کہنا کافی ہوتا ہے: "یا اللہ! مجھے نہیں معلوم مگر تو جانتا ہے۔"

جب لوگ ہماری نیت نہ سمجھیں، میرا رب جانتا ہے۔

جب ہماری کوششیں نظر انداز کر دی جائیں، میرا رب جانتا ہے۔ جب کسی کو ہماری خاموش تکلیف دکھائی نہ دے، میرا رب جانتا ہے۔ اور جب ہم خود بھی اپنی زندگی کے راستوں کو سمجھنے سے قاصر ہوں، تب بھی دل کو یہ یقین تھامے رکھنا چاہیے کہ ہمارا رب ہمیں ہم سے زیادہ جانتا ہے۔

وہ ہماری کمزوری جانتا ہے، اس لیے رحمت کرتا ہے۔

وہ ہماری ضرورت جانتا ہے، اس لیے عطا کرتا ہے۔ وہ ہماری اوقات جانتا ہے، اس لیے آزمائش بھی اسی قدر دیتا ہے جسے ہم برداشت کر سکیں۔

شاید ایمان کا ایک خوبصورت پہلو یہی ہے کہ ہر جواب ہمارے پاس ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی صرف اللہ پر بھروسہ ہی کافی ہوتا ہے۔ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، صبح اپنے وقت پر آتی ہے۔ اور دل کتنا ہی تھکا ہوا کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت اس کے لیے راستہ بنا سکتی ہے۔

اس لیے اگر آج آپ کی زندگی میں کوئی ایسا دکھ ہے جسے آپ کسی سے بیان نہیں کر پا رہے، اگر کوئی دعا ابھی تک قبول ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، اگر کوئی راستہ بار بار بند ہو رہا ہے تو مایوس نہ ہوں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھیں اور آہستہ سے کہیں: "مجھے نہیں معلوم میرے لیے کیا بہتر ہے مگر میرا رب جانتا ہے۔ اور مجھے اپنے رب کے علم پر اپنے گمان سے زیادہ بھروسا ہے۔"

شاید یہی یقین انسان کو ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کی سمجھ ختم ہوتی ہے، وہاں سے اللہ کی حکمت شروع نہیں ہوتی—وہ حکمت تو ہمیشہ سے موجود ہوتی ہے؛ ہمیں بس اسے سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔