دنیا میں ہر شخص کی زندگی میں ایسا کوئی ضرور ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں بہت اہم ہوتا ہے۔ جس کو ہم اپنی زندگی کا " ہیرو " کہہ سکتے ہیں۔ میری زندگی میں میرے " والدین" ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہماری تربیت ایسی ہوئی ہے کہ ہم سب بہن بھائی امی، ابو سے کبھی کھل کر بات نہ کر سکتے تھے۔ امی جی ویسے گورنمنٹ ٹیچر تھیں تو ہم ہی کیا سب ہی ڈرتے تھے۔ سو اگر کچھ کہنا بھی چاہا تو احترام، جھجھک اور ڈر نے کہنے ہی نہ دیا۔ آج ایک موقع ملا ان کو سب کہنے کا تو سوچا دل کی ہر بات کہہ دوں۔ ابو جی آپ سے بچھڑے ہمیں اس جون میں چودہ سال ہو جائیں گے۔ جون اچھا نہیں لگتا ہمیں بے سائبان کر گیا تھا۔ آپ کی زندگی میں کچھ کہہ نہ سکی پھر وقت آپ کو چھین کر لے گیا اور ساری رونقیں، برکتیں اور خوشیاں بھی آپ کے ساتھ ہی چلی گئیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہم نے ساری دنیا کی خوشیاں اور آسانیاں آپ کی زندگی میں ہی دیکھی تھیں۔ آپ کے بعد جو خلاء ہماری زندگی میں آیا پھر اسے پورا نہ کیا جا سکا۔ آپ کے بعد اپنی بے سائبانی کا احساس تب ہوا جب لوگوں نے لاوارث سمجھ کر مکروفریب کے جال میں الجھانا چاہا۔ ایسے لگتا تھا میرے آس پاس بہت سے بھیڑیے میرے گرنے کے منتظر ہیں تاکہ وہ شکار کر سکیں۔ آپ دونوں کی دعاؤں اور دیے گئے اعتماد نے مجھے اس کھائی میں گرنے نہیں دیا۔ عید کی نماز پر جانے سے پہلے ہی عیدی دے دینا اور ہر کسی کو دینا اور ایک جتنی دینا۔ جو سبق آپ نے دیا اس وقت تو ہم سمجھ نہ سکے۔ غصہ ہوتے تھے کہ اپنے بچوں کو تو ذیادہ دے دیں لیکن آپ تو ہمیں "مساوات" کا سبق سکھا رہے تھے۔ کوئی چیز بچوں کو دے رہے ہوتے اور کوئی آجاتا تو چھپاتے نہیں تھے۔ برابر تقسیم کر دیتے۔ آپ نے ہمیں بتایا کہ تقسیم کرنے سے سب بڑھتا ہے وہ چیز یں ہوں یا خوشیاں۔ انتہا کی مہمان نوازی نے لوگوں کے دلوں سے آپ کی یاد کو مٹنے ہی نہیں دیا۔ آج بھی جہاں بھی، کوئی بھی پہچان لے کے ان کے بچے ہو تو بہت اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے کہ ہم آپ کی اولاد ہیں۔ ہم مہاجر ہیں۔ نوکری پیشہ لوگ۔ ہماری زمین، جائیداد نہیں ہے پھر بھی ابو جی نے ہم سب بہن بھائیوں کو اچھی تعلیم دلوائی۔ ہم آٹھ بہن، بھائی ہیں۔ چار بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ دو بھائی بی- اے، ایک ایم- اے اور ایک نے ایف- اے کیا ہوا ہے۔ ہم تین بہنیں گورنمنٹ ٹیچرز ہیں۔ امی جی بھی گورنمنٹ ٹیچر ریٹائرڈ ہوئی ہیں۔ ہم تینوں ایم-اے، ایم ایڈ ہیں۔ میں ایم- فل، چھوٹی بہن نے ایم-بی-اے کیا۔ آج ہم جو بھی ہیں اپنے ابو جی کی وجہ سے ہیں۔ ہماری کا میابی پر ان کی آنکھوں میں خوشی کے جو جگنو چمکتے تھے اس نے ہمیں فخر دیا کہ ہم بیٹیاں بھی اپنے باپ کا مان ہیں۔ ابو جی نے کبھی کسی بچے کو مارا نہیں تھا لیکن پھر بھی ان کا خوف تھا خو احترام پر مبنی ہوتا تھا۔ گھر کے سربراہ وہ ایسے تھے جیسے چھت ہوتی ہے۔ ہم تو کیا کبھی امی بھی بازار نہیں جاتی تھیں۔ استعمال کی ہر چیز ابو لاتے اور ہم بنا کسی اعتراض کے استعمال کرتے۔ کپڑے بھی سب کے خود ہی لاتے تھے۔ امی نے شروع سے ایک بات سمجھائی کہ گھر کا سربراہ جو لے آئے پسند آئے یا نہیں لیکن پہننا ہے۔ انکار نہیں کرنا۔ اس کی مثال ہم نے دیکھی ہے۔ ابو جی سب کے سوٹ لائے۔ امی کےلئے پیلا رنگ جیسے سرسوں کے پھول ہوتے ہیں۔ امی کو پسند نہیں تھا لیکن ابو کو پسند تھا۔ سو انھوں نے بنا کچھ کہے سلوا کر پہنا۔ آج شادی شدہ بہنیں اسی بات پر عمل کرتی ہیں۔ ہمارے سارے لاڈ ابو جی نے اٹھائے۔ ان کے کئے گئے فیصلے جو اس وقت ہمیں بہتر نہیں لگ رہے تھے۔ آج وہ درست ثابت ہورہے ہیں جس کےلئے ہماری ہر سانس ان کے لیئے دعا گو ہے۔ ابو جی نے جانے میں بہت جلدی کی۔ نوکری کی تو ہمیشہ وقت کے پابند رہے۔ 2008 میں ریٹائر ہوئے تو کالج والوں نے کہا " ایسا لگتا ہے جیسے آج کالج کی ماں جا رہی ہو" اور نوکری کے بعد 2012 میں ہمیں روتا چھوڑ گئے۔ اتنی اچانک سب کچھ ہوا کہ یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ابو جی ہمیں روتا دیکھ کر چپ ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں کہا۔ ہمیں سب کچھ سکھایا تھا مگر اپنے بنا رہنا نہیں سکھایا تھا۔ ہمیں تو رات نانو کے گھر بھی رکنے نہیں دیا تھا۔ اب کیسے جی پاتے۔ امی جی نے ہمیں سنبھالا۔ خود بازار نہیں جاتی تھیں مگر ہم سب نے سکول جانا تو پیچھے گلی میں جو بھی سبزی والا آتا۔ اس سے فروٹ لے کر رکھتیں تاکہ ہم آپ کی کمی محسوس نہ کریں۔ ابو جی کے بعد امی نے اکیلے ہوکر بھی سب کچھ کیا۔ عنبر، زوبی کی شادی بھی دھوم دھام سے کی۔ اولاد کے دکھ دیکھنے کو امی جی اکیلی رہ گئیں۔ 2018 میں بہت آزمائش سے گذرے۔ میرا میجر آپریشن ہوا۔ بڑے بھائی جان کو دل کا مسئلہ ہو گیا۔ لیئق کو ڈینگی ہوگیا۔ امی جی نے بہت حوصلہ سے سب کچھ سہا۔ ابھی ٹھیک سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ ایک اور قیامت گھر والوں پہ ٹوٹ پڑی۔ مجھے " برین ٹیومر" تشخیص ہوا۔ ڈاکٹرز نے کہا فوری برین سرجری کروائیں پھر بھی زندگی کی امید 1 % اور بچ گئے تو " کومہ' یا "پیرالائز' ہونے کا ڈر تھا۔ امی جی چل نہیں سکتی تھیں تو مجھے سب بہن، بھائیوں اور بھابھیوں کے ساتھ پنڈی بھیج دیا۔ میں یہ سوچ کر مطمئن تھی کہ اب اگلے جہان جا کر ابو جی سے ملوں گی۔ وہ سارے اپنے جو اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کے پاس جاوں گی ۔ یہاں بھی ابو جی نے امی کا ہی سوچا کہ وہ اکیلی یہ صدمہ کیسے برداشت کر پائیں گی۔ ان کی اور سب کی دعاؤں نے ایک بار پھر زندگی لوٹا دی۔ نہ صرف اللہ تعالی نے زندگی دی بلکہ ان کی دعاؤں سے میں پھر سے چلنا، بولنا، لکھنا اور دیکھنا سیکھ گئی۔ میری ماں میری کل کائنات، میرا واحد سہارا، جن کےلئے میری ہر سانس دعاگو ہے۔ 7 جون کو ہم سب بہن بھائی اکٹھے ہوتے ہیں۔ امی جی کی وجہ سے بہنیں بھی آجاتی ہیں اور بھائی بھی۔ ایسے لگتا ہم سب کو پیار کی تسبیح میں پرویا ہوا ہے۔ امی کی سختی جو اسوقت بہت گراں گذرتی تھی۔ اب ایک نعمت کی طرح لگتی ہے۔ آج بھی کوئی چھوٹا، کسی بڑے کا نام لے کر نہیں پکارتا۔ کسی چھوٹے بہن، بھائی کی آج بھی ہمت نہیں کہ بڑے بھائی جان کو پلٹ کر جواب دے سکے۔ امی نے کہا سب کو رشتوں سے پکارنا ہے۔ خالہ، ماموں، پھپھو، ممانی جان، تائی جان، بڑے بھائی جان، بھابھی جان سب رشتے جیسے آج بھی زندہ ہیں۔ ہمارے گھر کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ ہم نے کبھی امی، ابو کو لڑتے نہیں دیکھا۔ نہ کوئی بد تہذیب گفتگو سنی۔ یہی بات اگلی نسل کے خون میں بھی شامل ہے۔ مشکل آئے تو سب بہن، بھائی تو کیا بھابھیاں بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ اس کا ایک منظر اپنی " برین سرجری" کے وقت دیکھا تھا۔ امی کہتی ہیں میرا گھر ایک چھوٹی سی جنت ہے۔ امی کو کچھ ہو تو بیٹیوں اور بیٹوں سے پہلے بہوئیں آتی ہیں۔ امی جی وقت کے ساتھ خود کو بدل لیا ہے۔ اب وہ لہجے میں سختی نہیں رہی جو پہلے کبھی تھی۔ گھر کی "رانی" بہو کو بنایا تو بہووں نے بھی پھر" ملکہ" بنا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ ہمارے والدین کی لکھی ہوئی وہ کہانی ہے جو کبھی لکھی انھوں نے تھی پڑھ کر آج ہم سنا رہے ہیں۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آگے ان کے پوتا، پوتی اور نواسا، نواسی بھی ایسے ہی ہیں۔ اللہ کرے میرے والدین کے اس " گلشن" کو کبھی کسی کی نطر نہ لگے اور یہ محبتیں ہمیشہ نسل در نسل قائم و دائم رہیں۔ ابو جی جب آپ گئے تو میں بہت نا سمجھ تھی۔ کوئی غلطی، گستاخی ہوگئی ہو تو معاف کر دیجئے گا۔ اللہ تعالی آپ کو جنت کے حسین باغوں میں رکھیں۔ میری امی کو صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائیں۔ الہی آمین۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت

