مراد سعید کی پکتیکا میں موجودگی ، پی ٹی آئی اور طالبان کے مبینہ روابط پر سوالات

افغان میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید افغانستان کے صوبے پکتیکا کے علاقے شاران میں تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے رہنما مولوی عبدالخالق آخوند کی پناہ میں ہیں۔
پاکستان کے اشتہاری کو دشمن کی سرزمین پر چھپنے کی ضرورت کیوں پڑی، کون اس کو پال رہا ہے اور کیوں؟ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے، ایک ہی سوچ کے تین نام ہیں، ایک طرف مراد سعید کا پکتیکا میں ٹی ٹی اے کی چھتری تلے چھپنا، دوسری طرف کے پی میں ٹی ٹی پی کو آباد کرنا۔ یہ اتفاق نہیں، سوچا سمجھا گٹھ جوڑ ہے۔ ریاست کے خلاف بیانیہ، افواج کے خلاف زہر، اور پناہ دشمن کے پاس، مراد سعید کا پکتیکا میں ٹی ٹی اے کی گود میں بیٹھنا ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی لیڈرشپ کا نیٹ ورک پاکستان میں نہیں، پاکستان مخالف عناصر میں ہے۔ یہ سیاست نہیں، یہ پاکستان دشمنی ہے۔پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی ان کے ناپاک عزائم اور دہشتگردی کی پشت پناہی کا ایک اور ثبوت پیش کرتی ہے، وفاقی حکومت نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج لگا کر ملک کو بیرونی سازش سے بچا لیا، اگر تھوڑی سی دیر ہو جاتی تو یہ غدار ملک دشمن عناصر کے ہاتھ اپنا ایمان تو بیچ چکے تھے ملک بھی بیچ دیا اپنے ملک میں خودمختاری کے نعرے لگانے والے، اپنے ہی ملک کے حکام سے چھپنے کے لیے دشمن کی گود میں جا بیٹھے۔ مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی کے بعد بھی کسی کو شک ہے کہ پی ٹی آئی ایک عام سیاسی جماعت نہیں ہے؟ اور ان کے طالبان کے ساتھ نہایت گہرے تعلقات ہیں،نومئی کو پی ٹی آئی نے جو کیا تھا وہ کسی ملک دشمنی سے کم نہ تھا، پاکستان میں کسی سیاسی جماعت نے ایساکام نہیں کیا جو پی ٹی آئی نے کیا،
مزید پڑھیں





