بنیاد سے دوری اور نسلوں کا خسارہ،تحریر: سید آزاد گیلانی
نقطہ نظر
آج کا کالم شاید آپ کو چٹ پٹا نہ لگے، لیکن ایک نظر پڑھیے گا ضرور؛ کیونکہ یہ کسی سیاسی جماعت یا مخالف نظریے پر تنقید نہیں، بلکہ ہماری اپنی ترجیحات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
آج شام گھر کے ٹیرس پر بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ سامنے اسٹریٹ لائٹ کے گرد منڈلاتے پروانوں پر نظر پڑی۔ روشنی کی چمک انہیں اپنی طرف کھینچ رہی تھی، مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ یہی کشش ان کے وجود کو جھلسا سکتی ہے۔ خیال آیا کہ کہیں ہم بھی اپنی نسلوں کو ظاہری چمک دمک کے تعاقب میں ان بنیادوں سے دور تو نہیں لے جا رہے جن پر ان کی شخصیت کی عمارت استوار ہونی چاہیے؟
میں جدید طرزِ زندگی، ٹیکنالوجی یا دنیاوی تعلیم کا مخالف نہیں ہوں۔ چاہتا ہوں کہ ہمارے بچے بہترین اداروں میں تعلیم حاصل کریں، سائنس، طب، انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت میں دنیا کا مقابلہ کریں، خوب کمائیں اور باوقار زندگی گزاریں۔ لیکن کیا کامیابی کا معیار صرف اچھی ملازمت، بھاری تنخواہ اور آسائشوں کا حصول رہ گیا ہے؟ بحیثیت مسلمان، ہم اپنی اگلی نسل کو دنیاوی کامیابیوں کے ساتھ کیا دے رہے ہیں؟
ہمارے ہاں بچے کی کامیابی پر فخر اس وقت بڑھ جاتا ہے جب وہ کسی بڑے ادارے میں ملازمت حاصل کرے، لاکھوں کمائے یا معاشرے میں نمایاں مقام بنا لے۔ یہ کامیابیاں قابلِ قدر ہیں، لیکن اگر اسی بچے میں سچ بولنے، امانت داری، دوسروں کے حقوق کا احترام اور اپنے خالق کے سامنے جواب دہی کا احساس کمزور پڑ جائے تو ہمیں اپنی تربیت پر بھی غور کرنا چاہیے۔ درخت جتنا بھی بلند ہو جائے، جڑیں کمزور ہوں تو اس کی بلندی پائیدار نہیں رہتی۔ ہماری دینی و اخلاقی بنیاد بھی ایسی ہی اہمیت رکھتی ہے۔
مسئلہ اسلام میں نہیں، ہمارے اس طرزِ عمل میں ہے جس کے ذریعے ہم دین کو عملی زندگی سے الگ کر دیتے ہیں۔ ہم نے بعض اوقات دین کو چند رسومات اور مخصوص مواقع تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ دیانت، انصاف، حسنِ اخلاق، حقوق العباد اور معاملات کی پاکیزگی بھی دین کے بنیادی تقاضے ہیں۔ ہم بچوں کو زبان سے جو سکھاتے ہیں، اگر ہمارا کردار اس کی نفی کرے تو نصیحت بے اثر ہو جاتی ہے۔ اولاد ہماری تقریروں سے کم اور ہمارے طرزِ زندگی سے زیادہ سیکھتی ہے۔
ذرا اپنے بچپن کو یاد کیجیے۔ ہمارے بہت سے والدین کے پاس آج جیسی سہولتیں، انٹرنیٹ اور معلومات کے لامحدود ذرائع نہیں تھے، لیکن انہوں نے ہمیں دینی و اخلاقی تربیت کے جو بنیادی سبق دیے، ہم جدید وسائل کے باوجود ان کا بڑا حصہ اپنی اولاد تک منتقل نہیں کر پائے۔ سوال یہ نہیں کہ آج کے بچے کتنا دینی علم رکھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جو کچھ ہمیں اپنے بڑوں سے ملا، ہم نے اس کا کتنا حصہ اگلی نسل تک پہنچایا؟ گھروں میں تلاوتِ قرآن، بڑوں کا احترام، حلال و حرام کی تمیز اور خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس تربیت کا حصہ تھے۔ آج ہم بچوں کی تعلیم، لباس اور معاشی مستقبل پر بھرپور توجہ دیتے ہیں، مگر ان کے دینی شعور کے لیے وقت نکالنا بھول جاتے ہیں۔
اس غفلت میں والدین کی غیر ذمہ داری بھی شامل ہے۔ ہم بچوں کے لیے مہنگے اسکول، جدید موبائل فون اور بہتر مستقبل کے وسائل تو فراہم کرتے ہیں، مگر یہ جاننے کی زحمت کم کرتے ہیں کہ ان کے ذہن میں دین کے بارے میں کیا سوالات ہیں، ان کی صحبت کیسی ہے اور ان کی مصروفیات شخصیت پر کیا اثر ڈال رہی ہیں۔ پھر جب بچے دین سے دور ہونے لگتے ہیں تو سارا قصور زمانے، سوشل میڈیا یا نئی نسل کے سر ڈال دیتے ہیں۔ جس تربیت کی ذمہ داری والدین نے خود ادا نہ کی ہو، اس کی کمی کا سارا ملبہ اولاد پر ڈالنا بھی ناانصافی ہے۔
تشویش اس وقت بڑھتی ہے جب بعض نوجوان دین پر عمل کرنے والوں کو دقیانوسی اور دینی فرائض کو پسماندہ سوچ کی علامت سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کا حل محض ڈانٹ ڈپٹ نہیں، بلکہ دین کو سمجھنے، سوال کرنے اور اس کی حکمت جاننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ بچوں کو جدید علوم سے آراستہ کریں، مگر انہیں یہ بھی سکھائیں کہ علم کے ساتھ کردار اور کامیابی کے ساتھ عاجزی کیوں ضروری ہے۔
دنیاوی علوم انسان کو صلاحیتیں دیتے ہیں، جبکہ دینی و اخلاقی تربیت ان صلاحیتوں کے درست استعمال کا شعور پیدا کرتی ہے۔ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو جدید ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہو، مگر دھوکا نہ دے؛ دولت کمائے، مگر حلال و حرام کی تمیز نہ بھولے؛ دنیا میں مقام حاصل کرے، مگر انسانیت اور اپنے خالق سے تعلق برقرار رکھے۔ ترقی اور دین کو ایک دوسرے کی ضد بنا دینا ہماری فکری کوتاہی ہے۔
والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی فیس ادا کرنا، جائیداد بنانا اور آسائشیں جمع کرنا نہیں؛ انہیں دین کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرانا بھی ہے۔ اولاد کو اتنا علم ضرور دیں کہ وہ نماز کا طریقہ جانتی ہو، قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہو اور اپنے دینی فرائض سمجھتی ہو۔ کسی گھر میں وفات ہو جائے تو اہلِ خانہ نمازِ جنازہ کے بنیادی طریقے تک کے لیے مکمل طور پر دوسروں کے محتاج نہ ہوں۔ مقصد یہ نہیں کہ ہر شخص عالمِ دین بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ بنیادی دینی فرائض سے ناواقفیت کو معمول نہ سمجھا جائے۔ افسوس کہ ہم بعض برائیوں کو بھی محض رواج کا نام دے کر قبول کر لیتے ہیں، جیسے معاشرتی قبولیت کسی غلط عمل کو درست بنا سکتی ہو۔
ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ اولاد کے لیے دولت چھوڑنا اچھی بات ہے، مگر اسے کردار، ایمان، شعور اور اخلاقی ذمہ داری کا وارث بنانا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، لیکن تربیت کے اثرات نسلوں تک سفر کرتے ہیں۔
نسلوں کا خسارہ اس دن شروع نہیں ہوتا جب بچے دین سے دور ہو جاتے ہیں؛ اس دن شروع ہوتا ہے جب والدین انہیں بنیاد سے جوڑنے کی اپنی ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں





