جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نکاح، طلاق، خلع اور اسلامی تعلیمات،تحریر: شازیہ یاسین

نقطہ نظر

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ خاندانی نظام کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے اور اسلام نے اس بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے نکاح، طلاق اور خلع کے متعلق جامع احکامات عطا کیے ہیں۔ ان احکامات کا مقصد صرف مرد اور عورت کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ ایک پُرامن، متوازن اور باوقار معاشرے کا قیام بھی ہے۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں اسلامی تعلیمات سے دوری اور معاشرتی رسوم و رواج کی زیادتی نے ازدواجی زندگی کو بہت سے مسائل سے دوچار کر دیا ہے، حالانکہ اگر اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو بہت سے گھریلو تنازعات اور خاندانی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔


اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ خوبصورت رشتوں میں میاں بیوی کا رشتہ نہایت اہم اور مقدس مقام رکھتا ہے۔ نکاح مرد اور عورت کے درمیان شرعی اصولوں کے مطابق قائم ہونے والا ایسا معاہدہ ہے جو محبت، اعتماد، احترام اور ذمہ داریوں پر مبنی ہوتا ہے۔ نکاح کے ذریعے مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے حلال قرار پاتے ہیں اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد کا نسب بھی شرعاً ثابت ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔


نبی کریم ﷺ نے بھی نکاح کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ "جس نے نکاح کر لیا اس نے اپنا نصف دین مکمل کر لیا، اب باقی نصف کے بارے میں اللہ سے ڈرتا رہے۔" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے اور زنا و بے راہ روی کے راستے بند کرنے کی تلقین کی ہے۔


اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نکاح کے لیے ایسے شریکِ حیات کا انتخاب کیا جائے جو دیندار، بااخلاق، نیک سیرت اور ذمہ دار ہو۔ صرف حسن، دولت یا خاندانی حیثیت کو ترجیح دینا درست نہیں بلکہ دین اور کردار کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اسی طرح لڑکے اور لڑکی کے درمیان حتی الامکان کفو اور مناسبت کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ازدواجی زندگی خوشگوار انداز میں آگے بڑھ سکے۔ اسلام میں نکاح کے لیے مرد اور عورت دونوں کی رضامندی ضروری قرار دی گئی ہے۔ کسی لڑکی یا لڑکے کو اس کی مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔


مہر بھی نکاح کا ایک اہم جزو ہے جسے اسلام نے عورت کا لازمی حق قرار دیا ہے۔ مہر دراصل عورت کے احترام اور نکاح کی سنجیدگی کی علامت ہے۔ افسوس کہ آج بعض لوگ مہر کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھتے ہیں یا اتنی بڑی رقم مقرر کر دیتے ہیں جس کی ادائیگی ممکن ہی نہیں ہوتی۔ اسلام اعتدال اور آسانی کا دین ہے، اس لیے مہر اتنا ہونا چاہیے جو شوہر آسانی سے ادا کر سکے۔ اسی طرح شادیوں میں فضول خرچی، نمود و نمائش اور غیر ضروری رسومات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ولیمہ سنتِ نبوی ﷺ ہے اور اسے سادگی سے ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے ولیمے کو ناپسند فرمایا جس میں صرف امیروں کو دعوت دی جائے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔


اسلام نکاح کو قائم رکھنے اور خاندانی نظام کو محفوظ بنانے کی بھرپور تعلیم دیتا ہے، لیکن بعض اوقات میاں بیوی کے درمیان ایسے اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں تمام تر کوششوں کے باوجود حل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں اسلام نے طلاق کا راستہ رکھا ہے۔ تاہم طلاق کو پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کو معمولی بات سمجھ کر اختیار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے آخری حل کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔


اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہو تو پہلے صلح کی کوشش کی جائے۔ خاندان کے بزرگوں اور سمجھدار افراد کو درمیان میں لا کر معاملات سلجھانے کی کوشش کی جائے۔ اگر اس کے باوجود نباہ ممکن نہ رہے تو پھر شریعت کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق طلاق دی جا سکتی ہے۔ طلاق غصے، جذبات یا وقتی ناراضی کی بنیاد پر نہیں دینی چاہیے۔ اسی طرح ایک وقت میں تین طلاقیں دینا اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف ہے۔ شریعت نے مرحلہ وار اور سوچ سمجھ کر طلاق دینے کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ رجوع اور اصلاح کے امکانات باقی رہیں۔


طلاق کے بعد عورت کے لیے عدت مقرر کی گئی ہے۔ عدت کا مقصد نسب کی حفاظت، جذباتی استحکام اور دوبارہ غور و فکر کا موقع فراہم کرنا ہے۔ عدت کے دوران عورت کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے اور اس عرصے میں دونوں کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر ایک یا دو طلاقیں دی گئی ہوں تو عدت کے دوران رجوع کیا جا سکتا ہے، جبکہ عدت گزرنے کے بعد بھی باہمی رضامندی سے نیا نکاح ممکن ہے۔


اسلام نے صرف مرد کو ہی نکاح ختم کرنے کا حق نہیں دیا بلکہ عورت کے حقوق کا بھی مکمل خیال رکھا ہے۔ اگر عورت کسی معقول وجہ کی بنا پر ازدواجی زندگی جاری رکھنے سے قاصر ہو اور شوہر طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو اسلام نے خلع کا حق دیا ہے۔ خلع کا مطلب یہ ہے کہ عورت کچھ مالی معاوضہ دے کر شوہر سے علیحدگی حاصل کر لے۔ یہ اسلامی قانون کی عدل پسندی کا واضح ثبوت ہے کہ اس میں عورت کو بھی اپنی زندگی کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ہے۔


البتہ خلع کو بھی معمولی اختلافات یا وقتی جذبات کی بنیاد پر اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام چاہتا ہے کہ خاندان ٹوٹنے کے بجائے قائم رہیں، اس لیے خلع یا طلاق سے پہلے اصلاح اور مصالحت کی ہر ممکن کوشش ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بلاوجہ طلاق یا علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی عورت کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کے بندھن کو معمولی بات سمجھ کر ختم کرنا درست نہیں۔


آج ہمارے معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ایک تشویش ناک مسئلہ بن چکی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں دینی تعلیمات سے دوری، عدم برداشت، انا پرستی، غیر ضروری توقعات اور خاندانی معاملات میں بے جا مداخلت شامل ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کو سمجھیں، صبر و تحمل سے کام لیں اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔


اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ نکاح محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ ہے۔ طلاق اور خلع اگرچہ جائز ہیں لیکن صرف ناگزیر حالات میں اختیار کیے جانے چاہئیں۔ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نکاح کو آسان بنائیں، ازدواجی زندگی میں برداشت اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیں اور اختلافات کو حکمت و دانائی سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی خاندانی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارے گھر سکون کا گہوارہ بن جائیں گے بلکہ ہمارا پورا معاشرہ امن، محبت اور استحکام کی مثال بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے اور خاندانی نظام کو مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔