نوجوانی اور ہم عمر ساتھیوں کا سماجی دباؤ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
نوجوانی کا دور انسان کی زندگی کا ایک ایسا حساس اور انقلاب آفریں مرحلہ ہوتا ہے جہاں بچپن کی بے فکری اور ناپختگی ختم ہو رہی ہوتی ہے اور بلوغت کی دہلیز پر پاؤں رکھتے ہی فکر و احساس کے نئے باب وا ہوتے ہیں۔ اس عمر میں جہاں جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، وہیں شخصیت کی تشکیل اور شناخت کی تلاش کا ایک طوفان بھی برپا ہوتا ہے۔ اسی جذباتی رو میں نوجوانوں کو ایک انتہائی طاقتور سماجی مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے نفسیات اور جدید طب کی زبان میں پیر پریشر (Peer Pressure) یا ہم عمر ساتھیوں کا دباؤ کہا جاتا ہے۔ ایک معالج کے طور پر میں روزمرہ کلینکل پریکٹس میں دیکھتی ہوں کہ یہ دباؤ کس طرح خاموشی سے ہمارے نوخیز بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
ہم عمر ساتھیوں کے اس دباؤ یا پیر پریشر (Peer Pressure) سے مراد وہ نفسیاتی، اخلاقی اور سماجی کھنچاؤ ہے جو کسی نوجوان پر اس کے دوستوں، ہم جماعتوں یا ہم عمر گروہ کی طرف سے وارد ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نوجوان خود کو اس بات پر مجبور پاتا ہے کہ وہ بھی اسی طرزِ عمل، فیشن، بول چال، خیالات اور عادات کو اپنائے جو اس کا گروہ پسند کرتا ہے۔ اس عمر میں بچے خاندانی دائرے سے نکل کر بیرونی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لہٰذا ان کے لیے دوستوں کی رائے اور ان کی قبولیت (Social Acceptance) سب سے اہم بن جاتی ہے۔ یہی خواہش جب حد سے بڑھتی ہے تو ایک شدید دباؤ کی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں نوجوان اپنی انفرادیت اور خاندانی اقدار کو قربان کر کے صرف اپنے دوستوں کی نظر میں مقبول ہونے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔
اس نفسیاتی کھنچاؤ اور رویے کے پیچھے متعدد عمیق وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تحفّظ اور کسی گروہ کا حصہ بننے کی فطری خواہش (Need for Belonging) ہے۔ نوجوانی میں الگ تھلگ رہ جانے کا خوف (Fear of Isolation) اتنا شدید ہوتا ہے کہ بچہ تنہائی سے بچنے کے لیے دوستوں کی ہر اچھی یا بری بات ماننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ خود اعتمادی کی کمی (Low Self-Esteem) اور شناخت کا بحران (Identity Crisis) ہے۔ جب نوجوان اپنی ذات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوتا ہے تو وہ دوسروں کی نقل کر کے خود کو مکمل محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، دوستوں کے درمیان مذاق بننے کا ڈر اور والدین سے نامناسب یا ناکافی مکالمہ بھی بچے کو اپنے ہم عمر ساتھیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
اگر اس دباؤ کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس کی بنیادی طور پر دو اہم اقسام سامنے آتی ہیں۔ پہلی قسم مثبت پیر پریشر (Positive Peer Pressure) ہے، جو نوجوان کی شخصیت سازی میں بہترین کردار ادا کرتی ہے۔ اگر دوستوں کا حلقہ پڑھائی میں محنت کرنے والا، کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والا، وقت کا پابند اور مثبت سرگرمیوں میں پیش پیش ہو تو بچہ بھی انہی خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے، جس سے اس کی کارکردگی اور حوصلہ افزائی بڑھتی ہے۔ اس کے برعکس دوسری قسم منفی پیر پریشر (Negative Peer Pressure) ہے، جو انتہائی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اس میں دوستوں کی جانب سے غلط کاموں، مثلاً سگریٹ نوشی، نشہ آور اشیاء کا استعمال، تعلیم سے غفلت، گاڑیوں کی تیز رفتاری، والدین کی نافرمانی، یا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جاتا ہے، جسے قبول نہ کرنے پر نوجوان کو طعنے دیے جاتے ہیں یا گروہ سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
اس شدید دباؤ کے اثرات نوجوانوں کی زندگی اور صحت پر انتہائی گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ جذباتی اور نفسیاتی سطح پر بچہ مسلسل تناؤ (Chronic Stress)، بے چینی (Anxiety) اور شدید ذہنی دباؤ (Depression) کا شکار رہنے لگتا ہے۔ اپنے اندرونی اخلاقی معاقبے اور دوستوں کی فرمائشوں کے درمیان پِسنے سے اس کی شخصیت میں دوہرا پن آ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان میں اس کی توجہ بٹ جاتی ہے اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ طبی نقطہ نظر سے، مسلسل ذہنی تناؤ سے نوجوان کے اعصابی نظام اور مدافعتی نظام (Immune System) پر منفی اثر پڑتا ہے، جس سے نیند کی خرابی (Insomnia)، معدے کے مسائل، سر درد، اور چڑچڑے پن جیسے جسمانی عوارض جنم لیتے ہیں۔ نوجوان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت زنگ آلود ہو جاتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلوں کے لیے بھی دوسروں کا مرہونِ منت ہو جاتا ہے۔
اس شدت اور دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے گھر کے ماحول کو دوستانہ بنانا ہو گا تاکہ بچے اپنے مسائل اور دوستوں کے دباؤ کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کر سکیں۔ بچوں میں انکار کرنے کی صلاحیت یعنی "ناں" کہنے کی جرأت پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ غلط بات پر پراعتماد طریقے سے سچے جذبے کے ساتھ "نہیں" کہہ سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خود اعتمادی کو تقویت دیں اور ان کی انفرادیت کو سراہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں کونسلنگ سیشنز کا اہتمام ہونا چاہیے جہاں بچوں کو دوستوں کے محتاط انتخاب اور منفی صحبت کے نتائج سے آگاہ کیا جائے۔ نوجوانوں کو مثبت تفریحی، ورزشی اور ادبی سرگرمیوں میں مصروف رکھنا بھی اس دباؤ کا اثر توڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں ہر فرد کی روگ شناسی اس کی ذہنی، جذباتی اور جسمانی علامات کی کیفیت کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، اور پیر پریشر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ذہنی و جسمانی عوارض کے لیے ہومیوپیتھی میں بہترین اور بلا سائیڈ ایفیکٹ ادویات موجود ہیں۔ اگر نوجوان دوستوں کے دباؤ کے باعث شدید خوف، اچانک گھبراہٹ اور بے چینی (Panic and Anxiety) کا شکار ہو تو 'ایکو نائٹ' بہترین دوا ثابت ہوتی ہے۔ وہ نوجوان جو بہت حساس، شرمیلے اور کمزور ارادے کے مالک ہوتے ہیں اور دوستوں کے اثر کو رد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کے لیے 'پلسٹیلا ' اور 'سلیشیا ' انتہائی موثر ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ سلیشیا ان کے اندر اخلاقی جرأت اور ارادی مضبوطی پیدا کرتی ہے۔
جب ہم عمر ساتھیوں کی بدسلوکی، طعنے یا محبت میں ناکامی کے باعث نوجوان اندر ہی اندر گھٹتا رہے، خاموش رہے اور شدید غم و غصے کو دبائے رکھے تو 'اگنیثیا' اس کے جذباتی صدمے اور دباؤ کو دور کرنے میں تریاق کا اثر رکھتی ہے۔ اسی طرح جو بچے مسلسل ذہنی مشقت، پڑھائی اور دوستوں کے دباؤ کی وجہ سے اعصابی تھکن (Nervous Exhaustion)، حافظے کی کمزوری اور سر درد کا شکار ہو جائیں، ان کے لیے 'کالی فاس' اعصاب کو طاقت دینے والی ایک بے مثال دوا ہے۔ اگر نوجوان میں تنہائی کا خوف، شدید بے چینی اور بے خوابی پائی جائے تو 'آرسنک البم' تجویز کی جاتی ہے۔ ہومیوپیتھک ادویات نوجوان کے اعصابی نظام کو متوازن کر کے اس کی قوتِ مدافعت اور نفسیاتی استحکام کو بحال کرتی ہیں
مزید پڑھیں





