نوجوانوں میں’گیموفوبیا‘ (میریج فیور) ہونا ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
نوجوانی کا مرحلہ زندگی کا وہ موڑ ہے جہاں خواب، ترجیحات اور ذاتی شناخت تشکیل پا رہی ہوتی ہیں۔ لیکن اسی دورِ شباب میں جب بات شادی، گھر بسانے اور مستقل تعلق کی آتی ہے تو بہت سے نوجوانوں کے دلوں میں خوشی کے بجائے ایک نامعلوم خوف، بیزاری اور شدید نفرت کی لہر دوڑنے لگتی ہے۔ آج کی جدید اور آزاد خیال نسل کے لیے شادی کا لفظ اب صرف ایک خوشگوار تقریب نہیں رہا، بلکہ یہ انہیں اپنی ذات، آزادی اور مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔ شادی کے اس خیال ہی سے سخت چڑ محسوس ہونا، ذہنی تناؤ کا شکار ہو جانا یا اس سے بھاگنے کی کوشش کرنا دراصل ایک باقاعدہ نفسیاتی کیفیت ہے جسے عام زبان میں ’میریج فیور‘ اور نفسیات میں ’گیموفوبیا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بے رغبتی محض نوجوانوں کی نادانی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے معاشرتی تبدیلیاں، بگڑتے ہوئے خاندانی رویے اور مستقبل کا ان دیکھا خوف کارفرما ہوتا ہے۔
شادی کا لفظ سنتے ہی اگر سینے میں دھڑکن بڑھ جائے، ہاتھ پسینے سے تر ہو جائیں اور دماغ میں صرف منفی منظرنامے دوڑنے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ اس کیفیت میں اکیلے نہیں ہیں۔ جدید نفسیات میں اسے ’گیموفوبیا‘ کا نام دیا گیا ہے، جسے ہم اپنی عام زبان میں ’میریج فیور‘ یا شادی کا بخار بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ صدیوں پرانی ایک ذہنی الجھن ہے، مگر آج کے مادی دور میں اس نے شدت اختیار کر لی ہے۔ موجودہ دور میں معاشرتی دباؤ، بڑھتی ہوئی مالی مشکلات اور اپنی ذاتی آزادی کھو دینے کا خوف ایسے عوامل ہیں جنہوں نے شادی جیسے فطری فیصلے کو نوجوانوں کے لیے ایک پہاڑ بنا دیا ہے۔ امتحان سے پہلے گھبراہٹ ہونا ایک عام سی بات ہے، لیکن مسئلہ اس وقت سنگین ہوتا ہے جب یہ گھبراہٹ مستقل ڈپریشن، بے خوابی اور شادی کے خیال سے ہی جسمانی طور پر بیمار ہونے کی شکل اختیار کر لے۔ اس کیفیت میں انسان شادی کو زندگی کا خوبصورت بندھن سمجھنے کے بجائے ایک بھاری بوجھ محسوس کرنے لگتا ہے۔
اس ذہنی بخار کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ ہمارے معاشرتی رویوں کا ہے۔ ہمارے ہاں لڑکیوں کو پچیس برس کی عمر پار کرتے ہی ’بڑی عمر‘ کا طعنہ سننا پڑتا ہے، جبکہ لڑکوں پر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ شادی سے پہلے ہی مالی طور پر اتنے مضبوط ہوں کہ پورا گھر اکیلے چلا سکیں۔ اوپر سے جہیز کی نمائش، مہنگی ترین رسومات کا بوجھ اور رشتہ داروں کی بے جا توقعات انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماضی کے تلخ تجربات بھی آگ پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ جس انسان نے بچپن میں اپنے والدین کو ہر وقت جھگڑتے دیکھا ہو یا خاندان میں کسی طلاق کے درد کو قریب سے محسوس کیا ہو، اس کے لاشعور میں شادی کا تصور صرف ناکامی اور کشمکش سے جڑ جاتا ہے۔ رہی سہی کسر خود اعتمادی کی کمی اور احساسِ کمتری پوری کر دیتی ہے، جہاں نوجوان یہ سوچنے لگتے ہیں کہ وہ اچھے جیون ساتھی نہیں بن پائیں گے، ان کی تنخواہ کم ہے یا ان کی صورت اچھی نہیں ہے۔ یہ تمام خود ساختہ وسوسے انسان کو حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔
اگر اس مسئلے کا صنفی موازنہ کیا جائے تو مختلف تحقیقات اور ماہرینِ نفسیات کے کلینکس یہ بتاتے ہیں کہ خواتین میں یہ خوف مردوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیائی معاشرے میں لڑکی پر شادی کے حوالے سے دوہرا بوجھ ہوتا ہے۔ اسے نہ صرف میکدے کی طرف سے جہیز اور اخراجات کا مالی دباؤ جھیلنا پڑتا ہے، بلکہ ایک بالکل نئے ماحول اور سسرال میں جا کر خود کو ڈھالنے کا جذباتی امتحان بھی دینا ہوتا ہے۔ دوسری طرف لڑکے مالی ذمہ داریوں اور نااہلی کے خوف میں مبتلا تو ہوتے ہیں، مگر وہ معاشرتی انا کی وجہ سے اپنی اس پریشانی کو کمزوری سمجھ کر چھپائے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر مدد کی تلاش میں نکلنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
مگر اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے محض وہم یا بزدلی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ یہ ایک حقیقی ذہنی کیفیت ہے جس کا علاج اور حل بالکل ممکن ہے۔ جدید نفسیات میں اس کا سب سے موثر حل ’کوگنیٹو بیہیویرل تھراپی‘ یعنی سی بی ٹی کی صورت میں موجود ہے۔ اس تھراپی کے ذریعے ماہرینِ نفسیات انسان کو اپنی منفی اور مفروضوں پر مبنی سوچوں کی نشاندہی کرنا سکھاتے ہیں تاکہ وہ انہیں زمینی حقائق سے بدل سکے۔ اگر کوئی یہ سوچ کر بیٹھا ہے کہ اس کی شادی لازمی ناکام ہوگی، تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ دنیا میں کامیاب اور مثالی شادیاں بھی موجود ہیں اور وہ بھی ایک اچھا رشتہ نبھا سکتا ہے۔ اسی طرح بتدریج نمائش یا ایکسپوژر تھراپی کے ذریعے مریض کو آہستہ آہستہ شادی کے تصور کا عادی بنایا جاتا ہے، جیسے شادی کی تقریبات میں شرکت کرنا تاکہ ذہن اس ماحول کو ایک معمول کے طور پر قبول کرے۔ آج کے دور میں ’پری میریٹل کاؤنسلنگ‘ یعنی شادی سے پہلے کی مشاورت بھی ایک بہترین ہتھیار ثابت ہو رہی ہے، جہاں ہونے والے دولہا دلہن کسی ماہر کی موجودگی میں اپنی توقعات، مالی منصوبہ بندی اور ممکنہ خاندانی تنازعات پر کھل کر بات کر لیتے ہیں، جس سے اندھیرے میں تیر چلانے کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ شدید نوعیت کے کیسز میں عارضی طور پر ادویات کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے۔
سائنسی اور نفسیاتی علاج اپنی جگہ، مگر ہمارے معاشرے میں اس خوف کا سب سے پائیدار اور دل کو چھو لینے والا حل قرآن و حدیث کی ہدایات میں چھپا ہوا ہے۔ اسلام نے جہاں جسمانی امراض کا علاج بتایا ہے، وہاں ذہنی الجھنوں کے لیے بھی بہترین رہنمائی فرمائی ہے۔ شادی کے اس خوف کا سب سے بڑا قرآنی علاج ’توکل‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا واشگاف ارشاد ہے کہ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کے مستقبل کا مالک اور اس کی تقدیر کا لکھاری اللہ ہے، تو آدھا خوف وہیں دم توڑ دیتا ہے۔ نماز اور صبر کو مومن کا ہتھیار بتایا گیا ہے، جو دماغ کو سکون اور دل کو ثبات بخشتے ہیں۔ سورہ انشراح کی یہ نوید کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، مایوس دلوں میں امید کے چراغ روشن کرتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں استخارہ کی جو خوبصورت دعا سکھائی ہے، وہ کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے انسان کے دل کو لامتناہی سکون فراہم کرتی ہے۔ استخارہ کا مطلب خواب دیکھنا نہیں، بلکہ اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کر کے دل کا اطمینان حاصل کرنا ہے۔ شادی کے حوالے سے ذہن میں اٹھنے والے منفی سوالات دراصل شیطان کے وہم اور وسوسے ہوتے ہیں جو انسان کو نکاح جیسی نیک سنت سے دور رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ حدیث کے مطابق نکاح کرنے سے انسان کا آدھا دین مکمل ہو جاتا ہے۔ ان وسوسوں کا علاج کثرت سے استغفار اور پناہ مانگنے میں ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسلام نے معاشرے کو یہ بنیادی سبق بھی دیا ہے کہ شادی کو آسان بناؤ۔ فرمانِ نبوی ہے کہ سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ اور سادگی ہو۔ اگر ہمارے خاندان مہنگے فنکشنز اور جہیز کی نمود و نمائش کا دباؤ ختم کر کے حضرت فاطمہ اور حضرت علی کے نکاح جیسی سادگی اختیار کر لیں، تو آدھے سے زیادہ نوجوانوں کا ’میریج فیور‘ خود بخود اتر جائے گا۔ رزق کی تنگی کا خوف بھی ایک بڑا جادو ہے، حالانکہ قرآن نے واضح کیا ہے کہ اللہ اپنے فضل سے غنی کر دیتا ہے۔
ماضی کے صدمات یا والدین کے جھگڑوں کے سائے میں جینے والوں کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح برسوں کی آزمائش کے بعد صبر کا انجام بہترین ہوتا ہے۔ اگر آپ آج خود کو شادی کے لیے ذہنی طور پر تیار محسوس نہیں کرتے، تو سماجی دباؤ میں آ کر جبری رشتہ جوڑنے کے بجائے کچھ وقت لینا اور اپنے بزرگوں کو اعتماد میں لینا زیادہ سمجھداری ہے۔ شادی کوئی خوفناک دیو یا کوئی قید نہیں، بلکہ ایک مقدس سنت، ایک خوبصورت ذمہ داری اور پاکیزہ نیت سے کی جائے تو بہترین عبادت ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم نفسیاتی تدبیر کے ساتھ ساتھ قرآنی توکل کو اپنائیں، کیونکہ جب انسان کا ہاتھ خدا کے سہارے پر ہوتا ہے، تو زندگی کا ہر نیا سفر ڈپریشن کے بجائے دل کا اطمینان بن جاتا ہے۔
مزید پڑھیں





