پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اکتوبر کی آخری رات، تحریر: نیہا علی

نقطہ نظر
Kitchen and Me, written by: Neha Ali

یہ اکتوبر کی آخری رات ہے۔ آسمان پر نیلی چادر تنی ہوئی ہے، جس پر چاند اپنی مدھم روشنی بکھیر رہا ہے۔ ستارے یوں جھلملا رہے ہیں جیسے کسی مصور نے نیلے کینوس پر چاندی کے ذرات بکھیر دیے ہوں۔ ہوا میں خنکی کی ہلکی سی آمیزش ہے اور رات کی خاموشی میں ایک عجیب سا سکون محسوس ہو رہا ہے۔ درختوں کے پتے ہوا کے دوش پر ہلکے ہلکے جنبش کر رہے ہیں، جیسے وہ بھی اکتوبر کو الوداع کہنے کے لیے آخری سرگوشیاں کر رہے ہوں۔


وقت کی رفتار کتنی عجیب ہے۔ ابھی تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اکتوبر نے زندگی کی دہلیز پر قدم رکھا ہو، اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آخری رات بھی آن پہنچی۔ کیلنڈر کا ایک اور ورق پلٹنے کو ہے۔ دن، ہفتے اور مہینے ہماری زندگی سے خاموشی کے ساتھ گزرتے چلے جاتے ہیں، مگر اپنے پیچھے یادوں، تجربات اور احساسات کی ایک طویل داستان چھوڑ جاتے ہیں۔


اکتوبر بھی اپنے دامن میں نہ جانے کتنی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ کسی کے لیے یہ خوشیوں کی نوید بن کر آیا ہوگا، کسی کے لیے کامیابیوں کا پیغام، تو کسی کے حصے میں انتظار، محرومی اور اداسی آئی ہوگی۔ کسی نے اس مہینے میں اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا ہوگا، اور کوئی اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتے کرتے تھک گیا ہوگا۔ زندگی کا یہی تو دستور ہے ہر شخص کا موسم الگ ہوتا ہے، اگرچہ سب ایک ہی آسمان کے نیچے سانس لیتے ہیں۔


اس رات جب ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے، تو دل بھی بیتے ہوئے دنوں کا حساب کرنے لگتا ہے۔ کچھ چہرے یادوں کے دریچوں سے جھانکتے ہیں، کچھ آوازیں سماعتوں میں گونجنے لگتی ہیں اور کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود دل سے محو نہیں ہوتے۔ بعض ملاقاتیں مختصر ہونے کے باوجود عمر بھر کا سرمایہ بن جاتی ہیں، جبکہ بعض جدائیاں انسان کو اندر سے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔


زندگی کی کتاب میں ہر مہینے کا اپنا ایک باب ہوتا ہے۔ کچھ ابواب مسکراہٹوں سے مزین ہوتے ہیں اور کچھ آنسوؤں کی روشنائی سے تحریر کیے جاتے ہیں۔ مگر عقل مند وہی ہے جو ہر باب سے کوئی نہ کوئی سبق حاصل کرے۔ ناکامی انسان کو حوصلہ سکھاتی ہے، تنہائی خود شناسی کا موقع دیتی ہے اور آزمائشیں صبر و استقامت کی اہمیت سمجھاتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر گزرتا دن ہماری خواہشات کے مطابق ہو، لیکن ہر دن ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا کر ضرور جاتا ہے۔


اکتوبر کی یہ آخری رات بھی ایک پیغام لیے ہوئے ہے کہ گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرنے کے بجائے آنے والے وقت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ جو خواب ادھورے رہ گئے، انہیں دوبارہ تعبیر دینے کا عزم کیا جائے۔ جن رشتوں میں فاصلے پیدا ہوگئے، وہاں محبت اور خلوص کی شمع روشن کی جائے۔ جن لوگوں سے انجانے میں دل آزاری ہوئی، ان سے معذرت کرنے میں پہل کی جائے، کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے اور دلوں میں نفرتوں کا بوجھ اٹھائے پھرنا کسی دانش مندی کی علامت نہیں۔


آسمان پر چاند اب بھی اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ شاید اسے معلوم ہے کہ ہر رات کے بعد ایک نئی صبح جنم لیتی ہے۔ اندھیرا خواہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، روشنی کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ انسان کو بھی چاہیے کہ حالات کی سختیوں سے مایوس نہ ہو، بلکہ اپنے رب کی رحمت پر کامل یقین رکھے۔ کیونکہ بعض اوقات ہماری دعاؤں کی قبولیت میں تاخیر ہوتی ہے، انکار نہیں۔


اے اکتوبر! تمہاری رخصتی پر دل میں کئی احساسات جنم لے رہے ہیں۔ تم نے کچھ یادیں عطا کیں، کچھ حقیقتوں سے روشناس کرایا اور کچھ ایسے سبق دیے جنہیں شاید وقت کبھی فراموش نہ کر سکے۔ تمہارے ساتھ گزرنے والے لمحے اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، مگر ان کی بازگشت دل کے نہاں خانوں میں باقی رہے گی۔


اب نومبر اپنی آمد کا پیغام لیے دہلیز پر کھڑا ہے۔ امید ہے کہ اس کی صبحیں نئی روشنی، اس کی شامیں سکون اور اس کے دن خیر و برکت لے کر آئیں گے۔ دعا ہے کہ آنے والا مہینہ ہر اداس دل کے لیے مسکراہٹ، ہر پریشان انسان کے لیے آسانی اور ہر منتظر آنکھ کے لیے خوش خبری کا وسیلہ بنے۔


یہ اکتوبر کی آخری رات ہے ایک مہینے کا اختتام اور ایک نئے سفر کا آغاز۔ آئیے، گزرے ہوئے وقت کو شکووں کے بجائے شکرگزاری کے ساتھ رخصت کریں اور آنے والے کل کا استقبال امید، حوصلے اور خوب صورت دعاؤں کے ساتھ کریں۔


الوداع اکتوبر! تم یادوں میں رہو گے، اور ہم نئی صبح کے منتظر رہیں گے۔