پاکستان میں ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی

اسلام آباد: پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرین نفسیات کی تعداد صرف 1050 ہے۔ وزارت صحت نے ذہنی امراض، ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردیں۔
وزارت صحت کے مطابق گلوبل برڈن آف اسٹڈیز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ 40 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ 2023 تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔وزارت صحت کے مطابق پاکستان ہیلتھ ورک فورس سروے 2026 کے تحت ملک میں رجسٹرڈ ماہرین نفسیات کی مجموعی تعداد 1050 ہے۔ ان میں پنجاب میں 406، سندھ میں 228، خیبر پختونخوا میں 122 جبکہ بلوچستان میں 44 ماہرین نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی کے تناسب سے ہر 2 لاکھ 45 ہزار 400 افراد کے لیے صرف ایک ماہر نفسیات دستیاب ہے۔
وزارت صحت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3900 ہے۔ سندھ میں سب سے زیادہ 1915 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ پنجاب میں 1765، خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46 اور اسلام آباد میں 30 مریض ہیں۔ آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک مریض ایڈز سے متاثر ہے۔
وزارت صحت کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں دسویں نمبر پر ہے۔ ملک میں ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ افراد کی تعداد 90 لاکھ جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی تعداد 30 لاکھ 86 ہزار سے زائد ہے۔وزارت صحت نے بتایا کہ ہر سال دنیا بھر میں 48 ہزار افراد ہیپاٹائٹس کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔وزارت صحت کے مطابق ایکنک نے ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لیے وزیراعظم پروگرام کے تحت جولائی 2024 سے 2027 تک 67 ارب 77 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ اس پروگرام کے اخراجات میں 51 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 49 فیصد صوبے حصہ ڈال رہے ہیں۔
مزید پڑھیں




