جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسائلم : پاکستان مقدم رکھیں ، تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

جب انسان اپنے وطن سے نکل کر کسی دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرتا ہے یا سیاسی پناہ (اسائلم) کی راہ چنتا ہے، تو یہ صرف ایک جغرافیائی منتقلی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ انسانی المیے، مجبوری، ہجرت کا شدید کرب اور بین الاقوامی قوانین کی الجھنیں جڑی ہوتی ہیں۔ کسی بھی معاشرے کا پناہ گزینوں کے حوالے سے رویہ اس کی اخلاقی، سماجی اور انسانی اقدار کا حقیقی آئینہ دار ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جنگوں، ظلم و ستم، خانہ جنگی یا انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں، تو ان کی مدد کرنا کسی بھی مہذب معاشرے کا بنیادی اخلاقی فریضہ بن جاتا ہے۔ مذہب اور بین الاقوامی قوانین، دونوں اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ انسان کی جان، مال اور عزتِ نفس کا تحفظ مقدم ہے، اور پناہ کی تلاش کوئی جرم نہیں بلکہ ایک انسان کی بقا کی جنگ ہے۔


تاہم، اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو یورپ اور ترقی یافتہ دنیا کے زمینی حقائق اور اندرونی تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔ آج یورپی ممالک اسائلم کے بڑھتے ہوئے کیسز کو لے کر شدید معاشی، سیاسی اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں۔ یورپ کے بیشتر ممالک فلاحی ریاست کے تصور پر قائم ہیں، جہاں حکومتیں شہریوں کو مفت صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد سے ان کے معاشی وسائل اور ٹیکس سسٹم پر ناقابلِ برداشت دباؤ پڑ چکا ہے۔ ہاؤسنگ کا بحران، مہنگائی اور مہاجرین کے انضمام (Integration) کے پیچیدہ مسائل نے یورپی معاشروں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ اس صورتحال نے وہاں انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں کو عروج بخشا ہے، جس کے دباؤ کے تحت روایتی لبرل حکومتیں بھی اب اسائلم کے قوانین سخت کرنے، سرحدوں پر ناکہ بندی کرنے اور پناہ گزینوں کی درخواستوں کو آؤٹ سورس کرنے یا مسترد کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ یورپ چاہے بھی تو جنیوا کنونشن کی قانونی پابندیوں کی وجہ سے اس نظام کو کاغذات پر مکمل بند نہیں کر سکتا، لیکن اس نے عملی اور زمینی طور پر ان دروازوں کو اتنا تنگ کر دیا ہے کہ عام درخواست گزار کے لیے وہاں پہنچنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔


اس ہجرت کے بحران کی جڑیں صرف یورپ کی سخت پالیسیوں میں پیوست نہیں ہیں، بلکہ اس کا نصف حصہ ترقی پذیر ممالک کے اپنے اندرونی بحرانوں میں چھپا ہے۔ جب تک ہم ترقی پذیر ممالک کی حکومتی نااہلی، بدعنوانی، میرٹ کے قتل اور معاشی تباہی کا ذکر نہیں کریں گے، تصویر کا یہ رخ ادھورا رہے گا۔ جب کسی ملک میں مہنگائی آسمان کو چھونے لگے، کرنسی کی قدر گر جائے، سیاسی عدم استحکام اور بنیادی حقوق کی پامالی عام ہو جائے، تو مایوس ہو کر نوجوان اپنے ہی ملک میں اجنبی بن جاتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی اور خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک مل کر ایک منظم قانونی ہجرت کا نظام قائم کریں، جنگوں کے اصل اسباب کو ختم کریں اور ترقی پذیر ممالک اندرونی اصلاحات کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو باوقار روزگار فراہم کریں۔


جب ہم بحیثیتِ مسلمان اور بحیثیتِ پاکستانی اس پورے منظر نامے کو دیکھتے ہیں، تو ہمارا کردار اور ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے، ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا اخلاقی اور دینی رویہ قرآنی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کے مطابق ہونا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، جنہیں دشمن بھی "صادق" اور "امین" مانتے تھے۔ تجارت، ملازمت ہو یا اسائلم اور شہریت کے قانونی مراحل، جھوٹ، فریب، جعلی دستاویزات یا دھوکہ دہی کا سہارا لینا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام ہمیں عہد اور معاہدے کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ جب ہم کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں، تو ہم ایک طرح سے اس ملک کے قوانین کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں کہ ہم امن سے رہیں گے۔ قانون شکنی کرنا، ٹیکس چوری یا چھوٹی مووٹی جعل سازی کرنا اسلامی روح کے منافی ہے۔ ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ ہمارے پڑوسی، کولیگز اور عام لوگ ہمارے اخلاق، ایمانداری اور حسنِ سلوک سے اسلام کا اصل اور پرامن چہرہ دیکھ سکیں۔


پھر جب بات بحیثیتِ پاکستانی آتی ہے، تو ہمارا رویہ صرف ایک فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ ایک پوری قوم کی شناخت جڑ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ وطن میں قوانین کی دھجیاں اڑانا عام سی بات ہے، اور لوگ یہی عادتیں باہر کے ملکوں میں بھی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یورپ، خلیج یا کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں قانون شکنی کے نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔ بحیثیتِ پاکستانی ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ جس ملک نے ہمیں روزگار یا پناہ دی ہے، اس کے قانون کا احترام ہمارا فریضہ ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک دوسرے کی مشکل میں کام آنا چاہیے لیکن کسی بھی غیر قانونی کام جیسے ویزا فراڈ یا ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہو کر اپنے ہی ہم وطنوں کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔ باہر کی دنیا میں ہمارا ہر قدم اور ہر عمل پاکستان کا غیر اعلانیہ سفیر ہوتا ہے۔ اگر ہم دیانت داری، محنت اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں گے، تو یہ تاثر جائے گا کہ پاکستانی قوم محنت کش اور اصول پسند ہے۔


خلاصہ یہ ہے کہ اسائلم اور ہجرت کا یہ پیچیدہ بحران یکطرفہ نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف یورپ کی معاشی و انتظامی مجبوریاں اور ترقی پذیر ممالک کے اندرونی مسائل ہیں، وہیں دوسری طرف پردیس میں بسنے والے ہر فرد کا ذاتی کردار اس پورے نظام کو بہتر یا بدتر بنا سکتا ہے۔ اگر ہم بحیثیتِ مسلمان اپنے دین کی سچی تعلیمات پر عمل کریں اور بحیثیتِ پاکستانی اپنے ملک کی عزت کو مقدم رکھیں، تو نہ صرف ہم ایک باوقار اور ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں بلکہ دنیا میں اپنی قوم اور اپنے دین کا نام بھی روشن کر سکتے ہیں۔ ہجرت کے ان کٹھن راستوں پر کامیابی کا راز صرف اور صرف قانون پسندی، حلال روزگار، اعلیٰ اخلاق اور انسانی ہمدردی میں پوشیدہ ہے۔