Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پانی کا قہر اور نیپال کے بکھرتے خواب،تحریر: عقیل خان

نقطہ نظر
aqeel khan blog

نیپال کی وادیوں میں گونجتی آہوں اور سیلاب کے تند و تیز ریلوں نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ انسانی تدبیریں قدرتی آفات کے سامنے کتنی بے بس ہیں۔ کاٹھمنڈو سے لے کر دور دراز کے دیہاتوں تک، جو منظر نامہ اس وقت ابھر کر سامنے آیا ہے، وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ گھروں کے ملبے پر بیٹھے بچے، اپنوں کی تلاش میں سرگرداں بوڑھے، اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہزاروں خاندان اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کس طرح چند گھنٹوں کی بارش نے سالوں کی محنت کو لٹا دیا۔ اس تمام تر تباہی کے بیچ، جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے، وہ یہ کہ ایسی آفات کا سب سے بڑا شکار ہمیشہ غریب اور لاچار طبقات ہی بنتے ہیں۔ پکے مکانات اور محفوظ علاقوں میں رہنے والے تو کسی نہ کسی طرح بچ نکلتے ہیں، لیکن پہاڑی ڈھلوانوں اور ندی نالوں کے کنارے بسنے والے محنت کشوں کا سب کچھ ایک ہی جھٹکے میں بہہ جاتا ہے

قدرت کا بھی اپنا اک عجیب نظامِ عدل وانتقام ہے۔ جب انسان ترقی کی زعم میں فطرت کے قوانین کو لتاڑتا ہے، تو قدرت ندی نالوں، بارشوں اور سیلاب کی صورت میں اپنے غضب کا اظہار کرتی ہے۔ ان دنوں نیپال جس ناگہانی آفت کا سامنا کر رہا ہے، وہ محض ایک قدرتی حادثہ نہیں بلکہ انسان کی بے حسی اور فطرتی ناہمواریوں کی ایک دردناک داستان ہے۔ ہمالیہ کی گود میں بسنے والا یہ خوبصورت ملک، جو اپنی دلکش وادیوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، آج پانی کے خونخوار ریلوں کی زد میں ہے۔ نیپال میں آنے والے حالیہ سیلاب اور زمین کھسکنے (Landslides) کے واقعات نے زندگی کے پہیے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ کٹھمنڈو کی وادی ہو یا تپائی کے میدانی علاقے، ہر طرف تباہی کی ایک ہی تصویر نظر آتی ہے۔ مکانات پانی میں بہہ چکے ہیں، سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کر رہی ہیں اور ہزاروں انسان کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ بارش کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے، جس کی وجہ سے پُل، گاڑیاں اور بستیوں کی بستیاں منٹوں میں غائب ہو گئیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صرف ایک موسمیاتی حادثہ ہے؟ یقیناً نہیں۔ ہمالیہ کا علاقہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کے حوالے سے انتہائی حساس ہے۔ دنیا بھر میں پھیلتی آلودگی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے نے گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلانے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ غیر متوقع مون سون کی بارشیں اب ہر سال کا معمول بن چکی ہیں۔ نیپال جیسے کمزور معیشت والے ملک کے لیے، جہاں بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی خستہ حال ہے، اس طرح کی شدید بارشیں تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر متوازن شہری ترقی نے اس تباہی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی غیر محفوظ سڑکوں نے زمین کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تھوڑی سی بارش بھی پہاڑ کھسکنے کا سبب بن جاتی ہے۔

نیپال کی یہ صورتحال صرف کاٹھمنڈو یا پوکھرا کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک بھی انھی موسمیاتی خطرات کی زد میں ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بند نہ کی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف فوری اقدامات نہ کیے، تو آنے والے دنوں میں یہ سیلاب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری انسائیت کو نگل لیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ نیپال کا یہ بحران صرف نیپال کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحانی نقطہ ہے۔ جب تک ہم فطرت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی ترجیحات کو تبدیل نہیں کریں گے، تب تک پائیدار امن اور سلامتی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بحران کے بعد ماتم کرنے کے بجائے، بحران سے پہلے کی تیاریوں کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

نیپال کو اس وقت عالمی برادری کی طرف سے نہ صرف فوری امداد کی ضرورت ہے بلکہ ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کی بھی، تاکہ مستقبل میں اس قسم کی تباہ کاریوں سے انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔