پردے میں چھپے ہیرے کی قیمت،تحریر: عا ئشہ گُل
نقطہ نظر
اگر میں آپ سے کہوں کہ ایک چیز ایسی ہے جسے جتنا چھپایا جائے وہ اتنی ہی قیمتی لگتی ہے، اور جتنا دکھایا جائے وہ اتنی ہی سستی ہو جاتی ہے، تو آپ کے ذہن میں پہلا خیال کس چیز کا آئے گا؟ ہیرا؟ موتی؟ یا شاید کوئی خزانہ؟
نہیں، میں ایک زندہ ہیرے کی بات کر رہی ہوں۔ ایک ایسی ہستی کی جسے اللہ نے خود قیمتی بنا کر اس دنیا میں بھیجا، مگر آج وہ خود ہی اپنی قیمت گرا رہی ہے۔ کافی دن سے ذہن کے دریچوں میں ایک ہی سوال گھوم رہا تھا، تو آج دل نے چاہا کہ کیوں نہ اسی پر قلم اٹھایا جائے، ایک ایسی بات پر جو ہماری عزت، ہماری حیا اور ہماری پہچان کی امین ہے۔ سوچا کیوں نہ آج اسی پردے کی بات کی جائے جسے زمانے نے قید کا نام دے دیا ہے۔
ذرا سوچیں، ایک مٹھائی اگر کھلی پڑی ہو تو ہر مکھی اس پر بیٹھتی ہے، ہر آنکھ اسے دیکھتی ہے، مگر کوئی عزت دار اسے خریدنا پسند نہیں کرتا، اور دوسری طرف وہی مٹھائی اگر خوبصورت ڈبے میں بند ہو تو ہر کوئی اسے عزت سے گھر لے جانا چاہتا ہے۔ یہی مثال پردے کی ہے، کہ پردہ مٹھائی کو ڈھانپنے والے اس خوبصورت ڈبے کی طرح ہے جو اسے مکھیوں اور گرد و غبار سے محفوظ رکھتا ہے۔
اور یہی حقیقت آج سوشل میڈیا کے اس فتنہ گر دور میں اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ یہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کا دور ہے جہاں عزت لائکس میں بک رہی ہے۔ آج ایک لڑکی فلٹر لگا کر، بال کھول کر، اپنی ایک ویڈیو پر ہزاروں لائکس لے کر خود کو کامیاب اور مشہور سمجھتی ہے، مگر وہ بھولی بیٹی نہیں جانتی کہ ان ہزاروں آنکھوں میں عزت کی ایک نظر بھی نہیں، صرف ہوس اور وقت گزاری ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ زمانہ اسے دیکھ رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں زمانہ اسے استعمال کر رہا ہے۔ یہ لائکس اس کی کامیابی کا نہیں، بلکہ اس کی قیمت گرنے کا نوحہ ہیں۔
یہی بے حیائی اب ہماری شادیوں میں بھی آ گئی ہے۔ کبھی شادی بیاہ میں عورتوں کا الگ پردے کا انتظام ہوتا تھا، مگر آج بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر، قیمتی میک اپ سے خود کو سجا سنوار کر، بے پردہ ہو کر غیر محرموں، کیمرہ مینوں اور اسٹیج پر بیٹھے مردوں کے سامنے پیش ہونا فیشن بن گیا ہے۔ وہ دلہن جو کل تک چادر میں تھی، آج ہزاروں نامحرم آنکھوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ کیا یہی ہماری تہذیب ہے؟ کیا شادی کا جوڑا پہن کر نامحرموں کے سامنے نمائش کرنا عزت ہے؟
پوچھا جاتا ہے کہ کیا پردہ قید ہے؟ یہ سوال آج ہر زبان پر ہے۔ مگر کبھی آپ نے سوچا ہے کہ دنیا کی سب سے قیمتی چیزوں کو ہمیشہ چھپا کر کیوں رکھا جاتا ہے؟ ہیرا تجوری میں، موتی سیپ میں، اور قرآن غلاف میں۔ پھر عورت، جو ان سب سے زیادہ قیمتی ہے، وہ خود کو بازار میں کیوں سجا دیتی ہے؟ کیا ہیرے کو لاکر میں رکھنا اس کی توہین ہے؟ اگر نہیں، تو پھر بیٹی کو پردے میں رکھنا اس کی قید کیسے ہو گئی؟
اس سوال کا جواب تو خود میرے رب نے چودہ سو سال پہلے دے دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: "اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو ستائی نہ جائیں" (سورۃ الاحزاب: 59)۔ دیکھیں، میرے اللہ نے پردے کو قید نہیں کہا، بلکہ اسے ستائے جانے سے بچنے کی ڈھال کہا ہے۔ یہ قید نہیں، یہ تو تحفظ ہے۔
افسوس آج ہماری بیٹی نے ترقی کا مطلب بے پردگی سمجھ لیا ہے۔ اس نے سوچا کہ دوپٹہ اتارنے سے وہ آزاد ہو جائے گی، مگر حقیقت میں وہ آزاد نہیں، بلکہ بازار کی زینت بن گئی۔ مجھے یاد ہے کسی دانشور نے کہا تھا کہ جب یورپ میں عورت نے آزادی کے نام پر پہلے اپنا پردہ اتارا تو پھر آہستہ آہستہ اس سے اس کی حیا چھینی گئی، پھر اس سے اس کا گھر چھین لیا گیا، اور آج وہاں عورت تنہا، اپنے بچوں کے ساتھ عدالتوں میں اپنا نان نفقہ مانگ رہی ہے۔ جسے آزادی کہا گیا تھا وہ دراصل ایک بہت بڑی تنہائی اور رسوائی تھی۔
اکثر بہنیں کہتی ہیں کہ پردہ تو آنکھ میں ہوتا ہے۔ میرا ان سے معصومانہ سوال ہے کہ کیا آپ کا پردہ سیدہ خاتونِ جنت سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے؟ وہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا جن سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مرضِ وفات میں فرمایا: "मुझे یہ ناگوار گزرتا ہے کہ جنازے پر صرف چادر ڈالنے سے عورت کے جسم کی ساخت ظاہر ہوتی ہے۔" تو حضرت اسماء نے عرض کیا کہ میں نے حبشہ میں تابوت دیکھا ہے، لکڑی پر کپڑا ڈال کر میت کو مکمل چھپایا جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدہ بہت خوش ہوئیں اور فرمایا: "اللہ تمہیں چھپائے جیسے تم نے مجھے چھپایا"، اور وصیت فرمائی کہ میرا جنازہ رات کے اندھیرے میں اٹھایا جائے تاکہ کسی غیر محرم کی نظر میرے تابوت پر بھی نہ پڑے (السنن الکبریٰ للبیہقی، جلد 4، صفحہ 34 / المستدرک للحاکم، جلد 3، صفحہ 162)۔ تو کنیز ہونے کا دعویٰ کرنے والی بہنو، ذرا سوچیں کہ جو سیدہ مرنے کے بعد بھی پردے کی اتنی فکر کریں، کیا آپ واقعی ان کے نقشِ قدم پر ہیں؟
اور حرفِ آخر یہ کہ ہیرا کبھی راہ گزر میں نہیں پڑا رہتا۔ وہ تو ہمیشہ سات پردوں میں، مخمل کے ڈبوں میں، تجوریوں کی تاریکیوں میں چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ قیمتی ہے، وہ نایاب ہے۔ اے بنتِ حوا! آپ بھی تو اپنے رب کی وہی نایاب ہیرا ہیں۔
لمحہ فکریہ ہے ، کہ ہم اپنی اس قیمت کو پہچانیں گے۔ ہم اس پردے کی حرمت کا خیال رکھیں گے جسے ہمارے رب نے ہماری حفاظت کے لیے فرض کیا ہے۔ آؤ اپنی بیٹیوں کو، اپنی بہنوں کو پیار سے سمجھائیں کہ اصل خوبصورتی چھپنے میں ہے، دکھاوے میں نہیں۔ اللہ ہمیں اس پردے کی لاج رکھنے اور اپنی نسلوں کو حیا کا یہ نور منتقل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
"آئیے عزم کریں! حیا کا پرچم بلند رکھیں گے، کیونکہ اصلی ہیرا کبھی بے پردہ نہیں رہتا۔"
مزید پڑھیں




