منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پہلا شعور ماں کی گود،تحریر:مرزا عارف رشید

نقطہ نظر

کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر ایک سال کے لیے منصوبہ بنانا ہو تو فصل اگاو، اگر دس سال کے لیے منصوبہ بنانا ہو تو درخت لگاو، لیکن اگر نسلوں کا مستقبل سنوارنا ہو تو انسانوں کی تعلیم و تربیت پر سرمایہ کاری کرو۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ قوموں کی ترقی کا انحصار صرف وسائل، عمارتوں اور معاشی منصوبوں پر نہیں بلکہ باشعور، تعلیم یافتہ اور باکردار افراد پر ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض ڈگری حاصل کر لینا تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل ہے؟ کیا بڑی بڑی اسناد رکھنے والا شخص لازما باشعور، دیانت دار اور ذمہ دار بھی ہوتا ہے؟ اگر ڈگری انسان کے رویے، کردار اور سوچ میں مثبت تبدیلی پیدا نہیں کرتی تو ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کے مقاصد پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

قارئین

ذہنی صلاحیت پروان چڑھانے کیلئے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دو اعلی تعلیم کی وجہ سے ملکی نظام اور خاندان مضبوط ہوتے ہیں ۔تعلیم صرف پڑھنے لکھنے یا سیکھنے اور سکھانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسانی کو زندگی کا طریقہ تبدیل کر دیتا ہے ۔شعور تعلیم اور ڈگری یہ تینوں الفاظ بہت قیمتی ہیں۔

سب سے پہلے شعور کی بات کی جائے تو شعور کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ ماں چاہئیے پڑھی لکھی نہ ہو پھر بھی وہ ایک ایسی معلم ایسی استاد جس کے پاس دینا کی تمام ڈگریاں ہوتی ہیں جس سے وہ اپنے ایک دن کے نونہال کو بغیر بولے سب کچھ سیکھا دیتی ہے ماں جیسی ڈگریاں کسی کے پاس نہیں بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو وہ بولے بغیر کس طرح اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے صرف ماں کو ہی علم ہو جاتا ہے پہلا شعور اور سوجھ بوجھ صرف رب کریم کا عطا کیا ہوا خزانہ ماں جیسی ہستی کے پاس ہوتا ہے نہ کوئی تعلیم نہ ڈگری صرف چہروں کی پہچان کس طرح اپنی ماں کی آواز، چہرے کے تاثرات اور محبت بھرے رویے کو پہچاننے لگتا ہے۔ کبھی مسکرا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہے تو کبھی رو کر اپنی ضرورت بیان کرتا ہے۔ یہ اس کی ابتدائی ذہنی اور جذباتی نشوونما کا حصہ ہے۔ یوں انسان کی تربیت کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے، جہاں وہ محبت، اعتماد، احترام اور تعلقات کی بنیادی قدریں سیکھتا ہے۔

تعلیم سب سے پہلی درس گاہ اس کا گھر ہوتا ہے جب ماں اپنے بچے کو ماں کہنا سکھاتی ہے ماں ماں کرتے بچہ کو صبح سے شام ہو جاتی ہے بابا پھر بابا کرتے پورا دن گزر جاتا ہے ۔ماں اپنے بچے کو دنیا کی پہلی ڈگری اس وقت دیتی ہے جب وہی بچہ پہلے دن سکول جاتا ہے اور اپنی ماں کی دی ہوئی ڈگری اپنے سامنے رکھتا ہے جس میں خود اعتمادی حوصلہ اور ہمت شامل ہوتا ہے۔

ماں کی طرف سے دی ہوئی تعلیم کے بعد اب بات کرتے ہیں دنیاوی تعلیم کی انسان کی ذہنی جسمانی اخلاقی تربیت کا نام ہے ۔تعلیم کا مقصد شعور ہے ڈگری کا مطلب انسان کی اخلاقیات کو اجاگر کرنا ہوتا ہے ۔ تعلیم ہی ایک ایسا زیور ہے جس سے قومیں اور ملک ترقی کرتے ہیں ۔

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا فرد اور قوم کے تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

یہ اشعار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ کسی قوم کا مستقبل اس کے افراد کی صلاحیتوں، کردار اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر افراد علم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی حاصل کریں تو وہ معاشرے کی ترقی میں بہتر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

قارئین:

اگر پاکستان میں نظام تعلیم کی بات کی جائے تو یہاں تعلیمی حوالے سے مسائل کا سامنا ہے اگر یہاں بات کی جائے ،تعلیمی معیار کی تو پاکستان میں ابھی تک یکساں تعلیم معیار کا فقدان ہے۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اسلام کے نام پر ایک آزاد اسلامی مملکت کا قیام پاکستان کا بنیادی مقصد تھا اسلامی طرز تعمیر اس کا اصل مقصد تھا ایک ایسے اسلامی نظام کو پروان چڑھایا جائے جس سے نظریہ پاکستان واضع ہو سکے ایک ایسے اسلامی نظام کی بنیاد رکھی جائے جس کا فائدہ آنے والی نئی نسل کو ہو ۔ہماری نئی نسل کی تربیت ہو سکے جس سے پاکستان ترقی کر سکے لیکن افسوس اتنے برس گزرنے کے باوجود بھی ہمارے ملک کا نہ نظام بدل سکا اور نہ ہی نظام تعلیم بدل سکا اس کو بد قسمتی کا نام دو یا کچھ اور کہوں آج تک وہی پرانا تعلیمی نظام جو نظام ہمیں انگریز نے ورثے میں دیا تھا جس کو ہم آج تک تبدیل نہ کر سکے ۔انگریزوں نے ایساتعلیم نظام رائج کیا جس کا فائدہ انگریز کو تو ہوا لیکن ہمارے نوجوانوں کو نہ ہوا ۔مفاد اور فائدہ کی خاطر ہماری تہذیب اور تمدن کی قربانی دی گی ۔انگریز نے اس طرح کا تعلیمی نظام دیا جسے آج بھی ہماری نسلیں ترقی کا ضامن سمجھتی ہیں۔ مسلمانوں کی روایت ترقی تہذیب اور تمدن کو سمجھے بغیر انگریز اپنے مقصد میں کامیاب رہا انگریز اس خطہ میں ایسے افراد تیار کرنا چاہتا تھا جو ہندوستان میں رہے کر بھی برطانوی انتظامیہ کا کام کر سکے اور یہی اس کا اصل مقصد تھا ۔

لاڈ میکالے نے اسوقت جس طرح کی تعلیمی سفارشات پیش کی اور اپنا مقصد بھی بتایا ہم یہاں کیا کرنا چاہتے ہیں اس جگہ ہم ایسے افراد تیار کرنا چاہتے ہیں جو نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہو یا پاکستانی ان کا رنگ کالا بھی ہو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہم صرف ان کو زہنی طور پر تبدیل کرنا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ یہ صرف انگریز کے غلام بن سکے آج تک انگریز اپنے مقصد میں کامیاب رہا یہاں تصور تعلیم شعور اور ڈگری کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے انگریز نے جس طرح کا معیار تعلیم ہمیں دیا ہے ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم اس پر پورا نہیں اترتے سکے اسلام میں تعلیم کا معیار کچھ اور ہے جس کا مقصد شعور پیدا کرنا تعلیم تعمیر کا نام ہے تعلیم کردار کا نام ہے ایمانداری کا نام ہے انسان کے کردار کا علم اس کی تعلیم اور شعور سے ہوتا ہے جس طرح کا نظام تعلیم ہمیں انگریز نے دیا ایسا نظام ہمیں نہیں چاہئے ۔

علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خان نے بھی اظہار کیا تھا انہوں کہا تھا تعجب ہے جو تعلیم پاتے جا رہیں ہیں ان سے بھلائی کی امید تھی وہ مفاد پرست اور بد ترین قوم ہوتے جا رہے ہیں ان سے بھلائی کی کوئی امید نہیں لگتی کیونکہ وہ انگریز پیرو کار بنتے جا رہے ہیں اسی طرح مولانا شبلی نعمانی نے بھی انگریز کی تعلیمی درس گاہوں کو کوٹ اور پتلون کی نمائش گاہ کہا تھا اسی طرح اکبر اللہ آبادی نے کہا تھا کے مرحوم کا قول اب بھی مجھے یاد اتا ہے دل بدل جانے سے تعلیم بدل جانے سے مسجدیں سنسان اور کالجوں میں دھوم دھام ہوگا حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی مشہور کتاب بالِ جبرئیل میں نے کہا تھا کہ

تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ

ترا گنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہ

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا لا اِلہ اِلا اللہ خودی میں گم ہے خدائی، تلاش کر غافل یہی ہے تیرے لیے اب صلاحِ کار کی راہ حدیثِ دل کسی درویشِ بے گِلیِم سے پوچھ خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کریہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کلاہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتنی ڈگریاں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان ڈگریوں نے ان کے اندر کتنا شعور، کردار اور ذمہ داری پیدا کی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا بہت زیادہ فقدان ہے ہمارے ملک میں تعلیم کا بجٹ بھی بہت کم رکھا جاتا ہے ۔سکولوں کا معیار تو تب درست ہو گا جب اساتذہ کی کوئی ٹریننگ ہو گی جب اساتذہ ہی کم پڑھے لکھے ہوں تو پھر سکولوں کا معیار کیا ہوگا ؟ہمارے ملک میں اکیڈمی کے نام پر پرائیویٹ سیکٹر بہت مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ایجوکیشن کے حوالہ سے جس طرح کی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں وہ بھی انتہائی ناقص ہوتی ہیں ۔تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت بہت زیادہ ہے ۔یکساں تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے سیاسی مداخلت کو ختم کرنا ہوگا پر لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ہمیں اپنی بکس اپنی کتابوں میں اپنے ہی ملک کے مضامین کو شامل کرنا چاہیں نہ کے انگریزوں کی پالیسی کو اپنانا چاہیے جب تک ہم اس پر عمل نہیں کریں گے ہمارا معیار تعلیم بہتر نہیں ہوگا شعور اور ڈگری کے اصول کو بہتر بنانے کے لیے مغربی ممالک کو ختم کریں ہمارا نظام تعلیم اسلامی طرز کا ہونا لازمی ہے حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔اب ہمیں فیصلہ کر نا ہے کہ ہم صرف ڈگری ہولڈر افراد تیا ر کرنا چاہتے ہیں یا ایک باشعور ، باکردار اور ترقی یافتہ قوم ؟

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے