آج صبح سے سورج اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے شام تک بادلوں کی گہما گہمی شروع ہو گئی تھی۔ گرمی کی شدّت میں بھی کمی واقع ہوئی اور فضا میں ٹھنڈک اتر آئی تھی۔ ہوا کے خوبصورت جھونکے کسی آنے والی بارش کی نوید سنا رہے تھے۔
سویرا کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے ہاتھ میں چائے کا گرما گرم کپ تھامے وہ کبھی کتاب پڑھتی، تو کبھی چائے کا ہلکا سا گھونٹ لیتی اور پھر ایک بار آسمان کی طرف نظر دوڑاتی۔ اسے ہمیشہ سے بارش میں چائے اور تنہائی میں کتاب پڑھنا پسند تھا مگر آج اس کا دل کسی انجان سی دستک کا منتظر تھا۔
بارش کا پہلا قطرہ گرا تو اس کے لبوں پر ہلکی سی جنبش سے مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بارش نے تیزی اختیار کر لی۔ یہی وہ وقت تھا جب اسے ایک یاد نے آ گھیرا۔
وہ یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔ سویرا نے نیا نیا داخلہ لیا تھا۔ نئے لوگ تھے۔ نہ کسی کو جانتی تھی اور نہ کوئی اپنا تھا۔ یونیورسٹی کا پہلا دن پھر اچانک سے بارش شروع ہو گئی اور تمام طالبات ادھر سے ادھر بارش سے چھپنے کی ناممکن سی کوشش کرنے لگیں۔ سویرا بھی ایسے ہی ایک درخت کے نیچے آ کھڑی ہوئی مگر وہاں پہلے سے ہی ایک شاگرد موجود تھا۔ اس نے سویرا کو دیکھا تو اپنی جگہ چھوڑ کر کہنے لگا؛ "آپ یہاں کھڑی ہو جائیں میں کہیں اور چلا جاتا ہوں۔"
بس یہ مختصر سی ملاقات سویرا کے دل کے تار چھیڑنے کے لیے کافی تھی۔ وہ خاموش، خوبصورت اجنبی سویرا کے دل کو بہت بھاگ گیا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ بات کرے اور دل اس کی سنتا رہے مگر وہ اس کی بات سنے بغیر ہی اسے راستہ دے گیا تھا۔
خیر وقت گزرتا گیا۔ سویرا اور احمد اکثر ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے۔ کبھی کوریڈور میں، کبھی لائبریری میں تو کبھی کینٹین میں اور دعا سلام ہو جاتی۔
سویرا اسی میں ہی خوش تھی۔ واقعی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ہونے سے ہی دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے چاہے وہ پھر بات کریں یا نہ کریں، آپ کی طرف دیکھیں، یا نہ دیکھیں لیکن ہمارا دل اسی میں ہی خوش ہو جاتا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں، خوش ہیں۔ سویرا بھی انہی لڑکیوں میں سے ایک تھی۔ اس نے کبھی احمد کو احساس ہی نہیں دلایا کہ وہ اسے پہلے دن سے پسند کرتی ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے کب چار سال مکمل ہوئے پتہ ہی نہ چلا۔ واقعی جب ہم وقت کو روکنا چاہیں تو وقت پر لگا کر اڑنے لگتا ہے۔ سویرا آج بہت اداس تھی۔ یونیورسٹی کا آخری دن تھا۔ وہ ایک بار احمد سے مل کر اپنے دل کی بات کہنا چاہتی تھی مگر احمد کا صبح سے کوئی نام و نشان تک نہ تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ احمد اس سے ایک بار مل لے تو وہ اپنے دل کی بات زباں پر لے آئے۔ سویرا یک طرفہ محبت کر کے اب تھک چکی تھی۔ اس کی آنکھیں احمد کی منتظر تھی مگر احمد کا کہیں کوئی پتہ نہ تھا۔ آخر کار سویرا نے آخری بار نظر یونیورسٹی پر ڈالی اور پارکنگ کی طرف قدم بڑھا دیے مگر یہ کیا احمد پہلے سے ہی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے اس کا منتظر تھا۔ سویرا تو جیسے اسے دیکھ کر کھل اُٹھی۔ ایک خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اس نے اپنے ہاتھوں سے سویرا کو گلدستہ پیش کیا۔ پھر "خدا حافظ" کہا اور "دعاؤں میں یاد رکھنا" کہہ کر آگے کی طرف قدم بڑھانے لگا۔۔!
سویرا اچانک سے جیسے کسی سحر سے آزاد ہو گئی۔ ایک دم سے بولی؛ "خدا حافظ کیوں؟"
"بس ایسے ہی زندگی کا کیا بھروسہ آج ہیں کل ہو سکتا ہے نہ ہوں!" احمد نے اداس لہجے میں کہا؛
سویرا نے خاموشی سے نظریں جھکا لی اور کہنے لگی؛ "احمد کچھ رشتے دور رہ کر بھی کبھی ختم نہیں ہوتے اور تمہارا اور میرا رشتہ ایسا ہی ہے ہم دور رہ کر بھی ایک دوسرے کے پاس رہیں گے ہمیشہ۔" اتنا کہہ کر سویرا جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی اور احمد دیکھتا رہ گیا۔
اچانک سے بجلی کے کڑکنے اور بادلوں کی گرج کی آواز سن کر ماضی کے دریچے سے سویرا باہر نکل آئی اور دل میں سوچنے لگی۔ لگتا ہے آج اللّہ پاک بہت جلال میں آئے ہوئے ہیں کیونکہ نہ تو یہ بارش کا موسم ہے اور نہ ہی صبح سے کوئی بارش کی امید تھی۔ سویرا نے اداسی سے چائے کا خالی کپ اٹھایا۔ وہ گزرے دنوں کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی مگر دماغ کی اسکرین پر جیسے کوئی ری پلے چلا ہوا تھا۔ اسے بار بار احمد کا آخری بار "خدا حافظ" کہنا یاد آ رہا تھا۔ آج بھی ویسی ہی تیز بارش تھی۔ سویرا اس بارش سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی مگر احمد کا دور دور تک کوئی پتہ نہ تھا۔
شروع شروع میں تو تھوڑا بہت فون پر رابطہ ہوتا مگر آہستہ آہستہ یہ رابطہ بھی ختم ہوتا گیا۔ سویرا کا دل احمد لے کر جا چکا تھا اور وہ آج بھی اس کی منتظر تھی۔
اچانک دروازے پر زور سے دستک ہونے لگی۔ سویرا بارش سے بچتے بچاتے دروازے تک گئی اور دروازہ کھولا تو سامنے احمد کھڑا تھا۔
بالکل ویسا ہی تھا، چہرے پر طویل مسافت کی داستان تھی مگر آنکھوں میں وہی چمک آج بھی نمایاں تھی۔
"تم؟" زینب کی آواز میں حیرت اور خوشی دونوں شامل تھی۔
احمد مسکراتے ہوئے کہنے لگا؛ "بارش ہو رہی ہے اندر تو بلا لو۔"
سویرا نے عجلت سے جواب دیا؛ "جی جی آ جائیں۔"
دونوں برآمدے میں آ بیٹھے۔ بارش کی آواز، ٹھنڈی ہوا، دو طرفہ خاموشی اورساتھ میں چائے کے کپ۔ سب کچھ ویسا ہی تھا، جیسے سالوں پہلے تھا۔
پھر احمد گویا ہوا؛ "میں تمہیں کبھی بھولا نہیں سویرا، اتنے سال گزارنے کے بعد تمہارے پاس لوٹ آنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کچھ کہانیاں ادھوری نہیں رہنی چاہئیں۔"
زینب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
زینب نے دھیرے سے سوال کیا؛
"پھر تم خاموش کیوں رہے؟"
احمد نے مسکرا کر کہا؛ "اظہار تو تم نے بھی نہیں کیا، شاید ہم دونوں کو اسی بارش کا انتظار تھا۔"
"چلو سویرا آج دل کی بات زباں پر لے آؤ۔"
بارش تیز ہو گئی، جیسے آسمان بھی اس لمحے کا گواہ ہو۔
زینب نے نظریں اٹھائیں اور کہنے لگی؛ "میں تمہیں پسند کرتی تھی، کرتی ہوں اور شاید کرتی رہوں گی۔"
احمد کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی؛ "میں بھی ہمیشہ سے تمہارے ساتھ ہوں بس یہ الگ بات ہے کہ کبھی کہہ نہیں پایا۔ سویرا مجھے آج بھی یاد ہے تمہارا بارش سے بچنے کے لیے درخت کے نیچے آ جانا اور مجھے دیکھ کر اچانک سے ٹھٹک جانا۔ مجھے اسی دن تم پسند آگئی تھی مگر دل و دماغ کی جنگ اور کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے کبھی کہہ نہیں پایا، سویرا آئی لو یو سو مچ پلیز مجھے تھام لو۔"
اسی لمحے یہ بارش صرف بارش نہیں رہی تھی بلکہ وہ ایک محبت کا اعتراف تھا، جو برسوں سے دلوں میں خاموشی سے پل رہی تھی۔
آسمان سے گرتی ہر بوند جیسے کہہ رہی تھی۔
" کچھ محبتیں وقت کی محتاج نہیں ہوتیں وہ بس پہلی بارش کی منتظر رہتی ہیں۔"
مزید پڑھیں






