جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پٹرول کی آگ میں جلتا آدمی، تحریر:انیم چوہدری

نقطہ نظر

پٹرول اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہماری زندگی کا 80 فیصد انحصار پٹرول پر ہوتا ہے۔ اگر دنیا سے پٹرول ختم ہو جائے تو ہماری زندگی کی 80 فیصد رونقیں ختم ہو جائیں، ہماری بتیاں بجھ جائیں، ہمارا ٹرانسپورٹ کا نظام ختم ہو جائے، ہماری آبپاشی کا نظام جواب دے جائے گا، ہماری ملوں کی 80 فیصد پیداوار ختم ہو جائے گی اور ہمارے جہاز رک جائیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری زندگی کی تمام تر خوبصورتی ہماری سڑکوں اور ہماری رفتار پر منحصر ہے۔ گاڑیاں دنیا کی چوتھی بڑی صنعت ہیں۔ اس وقت دنیا میں گاڑیوں کے 13 ہزار برانڈز ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کا ہر چھٹا شخص اپنی ذاتی گاڑی کا مالک ہے، جبکہ ہر دوسرا شخص روزانہ 4 سے 6 گھنٹے ٹرانسپورٹ میں گزارتا ہے۔

ہم روزانہ اوسطاً 26 سے 35 مرتبہ سڑک سے گزرتے ہیں۔ خوراک اور کپڑوں کے بعد ٹرانسپورٹ ہماری زندگی کا تیسرا بڑا شعبہ ہے۔ لہٰذا دیکھا جائے تو ہم کسی نہ کسی حد تک پٹرول کے محتاج ہیں۔ ہم پٹرول کے بغیر نہ کھانا کھا سکتے ہیں، نہ حرکت کر سکتے ہیں اور نہ ہی سماجی زندگی میں اپنا کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پٹرول ہماری مجبوری ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پٹرول دنیا کا سب سے بڑا بحران ثابت ہو گا۔ لہٰذا دنیا کے تمام ممالک اپنے آنے والے دنوں کا لائحۂ عمل طے کر رہے ہیں۔ پوری جدید دنیا اپنی عوام کو ذاتی گاڑیوں سے پبلک ٹرانسپورٹ پر منتقل کر رہی ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں کے بجائے بسوں، ویگنوں اور ریل پر سفر کریں۔ تقریباً تمام ممالک ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لا رہے ہیں۔

اس وقت دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنے شہروں میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ آپ سنگاپور کی مثال لے لیجیے۔ سنگاپور میں نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے ایک ویٹنگ لسٹ کا نظام موجود ہے۔ جو شخص گاڑی خریدنا چاہتا ہے، وہ اپنا نام اس فہرست میں لکھوا دیتا ہے۔ جونہی کوئی گاڑی ناکارہ ہوتی ہے یا کوئی شخص اپنی گاڑی فروخت کرتا ہے، تو فہرست میں موجود لوگوں کو باری کے مطابق گاڑی خریدنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

ڈنمارک کی حکومت نے اپنے ملک میں سڑکیں تنگ کرنا شروع کر دی ہیں اور پارکنگ ایریاز کی تعداد بھی کم کی جا رہی ہے۔ ڈنمارک کی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر سڑکیں تنگ ہوں گی اور لوگوں کو پارکنگ کی سہولت نہیں ملے گی تو وہ ذاتی گاڑی خریدنے کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کریں گے۔ اس طرح ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال زیادہ ہو گا۔

برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں گاڑیوں کے استعمال پر ٹیکس بڑھائے گئے ہیں۔ وہاں دوسری اور تیسری گاڑی رکھنے والوں کو کئی گنا زیادہ ڈیوٹی اور ٹیکس دینا پڑتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات گاڑیوں کے استعمال میں کمی لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ان ممالک کے مقابلے میں ہمارا رویہ منفی اور سستی پر مبنی ہے۔ ہماری منصوبہ بندی کی صورتِ حال یہ ہے کہ جب پوری دنیا گاڑیوں کی تعداد کم کر رہی ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتوں میں اضافہ کر رہی ہے، تو ہم پاکستان میں نہ صرف گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو مزید بدتر بنا رہے ہیں۔

آج پاکستان میں لوگ 45 ڈگری گرمی اور 7 ڈگری سردی میں اپنی ذاتی موٹر سائیکل پر سفر کر لیں گے، لیکن ویگن یا بس میں بیٹھنا پسند نہیں کریں گے۔ پاکستان میں ریلوے کے استعمال میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ شہروں کے اندر بسوں اور ویگنوں کی صورتِ حال انتہائی خراب ہے۔ دس دس نشستوں والی ویگنوں میں بیس بیس لوگوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں کوئی ٹرین، بس یا وین وقت پر روانہ نہیں ہوتی۔ پاکستان میں کوئی ایسی اتھارٹی نہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو مؤثر انداز میں کنٹرول کر سکے۔

لہٰذا ہماری ان پالیسیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان میں پٹرول کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں پٹرول کی قیمتیں انتہا کو چھو رہی ہیں، لیکن ہم گاڑی پر گاڑی خریدتے چلے جا رہے ہیں۔

میری موجودہ حکومت سے درخواست ہے کہ وہ ایسی پالیسی بنائے جس کے نتیجے میں لوگ ذاتی گاڑیاں ترک کر کے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا ہو گا۔تو میاں صاحب! آپ سے درخواست ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں، کیونکہ ہمیں واقعی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔