بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

صائمہ کو گلاب کے پھولوں سے ایک جنونی حد تک عشق تھا۔ اس کے نزدیک گلاب محض ایک پودے کا حصہ یا کوئی عام پھول نہیں تھے، بلکہ وہ محبت، خلوص اور زندگی کی حقیقی خوبصورتی کا ایک جیتا جاگتا استعارہ تھے۔ وہ جب بھی گاڑی سے سفر کرتی، تو اس کی متلاشی نظریں شاہراہوں کے کناروں، فٹ پاتھوں اور ٹریفک سگنلز پر بکنے والے سرخ و سفید پھولوں کو ہی ڈھونڈتی تھیں۔ ایک تپتی ہوئی دوپہر، سفر کے دوران اچانک شہر کا سب سے مصروف ترین ہائی وے ایک بدترین ٹریفک جام کا شکار ہو گیا۔ گاڑیاں چیونٹی کی رفتار سے رینگنے لگیں، ستمبر کی گرمی اور حبس کی شدت اپنے عوج پر تھی، اور ہر طرف سے اٹھنے والا گاڑیوں کا دھواں، تپش اور ہارن کا کانوں کے پردے پھاڑتا شور کسی بھی ذی شعور انسان کے اعصاب کو مفلوج کرنے کے لیے کافی تھا۔ صائمہ نے بیزاری کی ایک گہری سانس لی اور گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ تھوڑا نیچے کیا تاکہ تازہ ہوا کا کوئی جھونکا مل سکے، مگر باہر صرف جلتی ہوئی سڑک کی تپش تھی۔


اسی اثنا میں، ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا گاڑیوں کے ہجوم اور زہر اگلتے سائلنسروں کے درمیان سے بڑی مہارت سے راستہ بناتا ہوا صائمہ کی گاڑی کے قریب آیا۔ اس کے معصوم چہرے پر غربت اور بھوک کی گہری دھول جمی تھی، سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، کپڑوں پر لگے پیوند اور پاؤں کی ٹوٹی ہوئی چپل اس کے کٹھن حالات کی عکاسی کر رہے تھے، لیکن ان سب کے باوجود اس کی آنکھوں میں بلا کی چمک اور چہرے پر ایک عجیب سی مٹیالی معصومیت تھی۔ اس کے دونوں ننھے ہاتھوں میں تازہ, شبنم آلود گلاب کے مہکتے ہوئے گجرے جھول رہے تھے جو اس شدید گرمی میں بھی اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے تھے۔ اس نے صائمہ کی اداس اور تھکی ہوئی آنکھوں کو دیکھا، اس کے دل کے شوق کو ایک نظر میں بھانپا اور علامہ اقبال کے مشہورِ زمانہ شعر میں اپنی معصومیت کے ساتھ تھوڑی سی ردوکدل کرتے ہوئے دھیمی مگر پرکشش آواز میں بولا: "باجی! یہ گجرے لے لیں... پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر!"


گلاب صائمہ کی سب سے بڑی کمزوری تھے۔ لڑکے کے اس اچھوتے اندازِ بیاں، اس کے لہجے کی سادگی اور پھولوں سے پھوٹتی بھینی بھینی خوشبو نے صائمہ کے دل کے تار چھیڑ دیے۔ اس کے چہرے پر چائی بیزاری ایک دم غائب ہو گئی اور ایک مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر وہ گجرے تھام لیے اور لڑکے کی مانگی گئی رقم سے کہیں زیادہ پیسے اس کی ننھی، کھردری ہتھیلی پر رکھ دیے۔ اتنے سارے پیسے دیکھ کر اس معصوم بچے کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ایک ایسی خوبصورت اور سچی مسکراہٹ کھل اٹھی، جس نے صائمہ کے اندرونی وجود کو ایک عجیب سے سکون اور طمأنیت سے بھر دیا۔ اس نے سوچا کہ واقع کلامِ نرم و نازک میں کتنی طاقت ہوتی ہے کہ ایک غریب بچہ بھی اس کے سحر سے اپنی روزی کما رہا ہے۔


صائمہ نے ان گجروں کو اپنے چہرے کے قریب لا کر لمبا سانس لیا، انہیں چوما اور گاڑی کے ڈیش بورڈ پر سجا دیا، جس کی سحر انگیز مہک نے گاڑی کے حبس زدہ ماحول کو ایک دم معطر اور خوشگوار کر دیا۔ جب وہ سفر مکمل کر کے خوشی خوشی اپنے گھر پہنچی، تو اس کے ہاتھوں میں مہکتے گلاب دیکھ کر اس کی ماں نے روایتی فکرمندی اور ممتا بھرے لہجے میں کہا: "بیٹی! میں تمہیں اکثر منع کرتی ہوں کہ ان پھولوں کے پیچھے یوں دیوانی مت ہوا کرو۔ تمہارا یہ شوق کسی دن تمہیں تکلیف دے گا۔ یاد رکھو صائمہ... جہاں خوبصورت پھول ہوتے ہیں، وہاں ان کے پیچھے تیز اور زہریلے کانٹے بھی چھپے ہوتے ہیں۔ یہ کانٹے دیکھنے میں بہت چھوٹے لگتے ہیں، لیکن جب یہ نادانی میں چبھتے ہیں تو انسان کا گوشت ہی نہیں، بلکہ اس کی روح تک کو زخمی کر دیتے ہیں۔"


صائمہ نے لاڈ سے ماں کے گلے میں اپنی نرم باہیں ڈال دیں، اپنا سر ان کے کندھے پر رکھا اور کھلکھلا کر ہنستے ہوئے بولی: "امی! آپ بھی نا بس بلاوجہ پریشان ہوتی رہتی ہیں۔ جو سچے عاشق ہوتے ہیں نہ، وہ کانٹوں کے ڈر سے پھولوں سے محبت کرنا نہیں چھوڑتے۔ کانٹوں کا کام چبھنا ہے اور پھول کا کام خوشبو دینا ہے۔ اور آج تو سڑک پر کمال ہی ہو گیا، مجھے ایک ایسا ننھا شاعر ملا جس نے حکیم الامت کے فلسفے کو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کا ہنر بنا لیا تھا۔ اس کی باتیں سن کر کوئی بھی پتھر دل پگھل جاتا۔" ماں نے بیٹی کے ریشمی بالوں پر پیار سے ہاتھ پھیرا، مگر ان کے چہرے پر تشویش کی ایک گہری اور لمبی لکیر ابھر آئی۔ وہ ایک تجربہ کار ماں تھیں، وہ جانتی تھیں کہ صائمہ کا دل پھول کی نازک پتی کی طرح حساس ہے، جبکہ یہ مادی دنیا ہیرے کی طرح سخت، بے رحم اور نوکیلی ہے، جہاں جذبات کو مسلنے والے 'کانٹے' ہر موڑ پر انسان کا روپ دھارے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔


وقت اپنی تیز رفتاری کے ساتھ بدلتا رہا، شب و روز گزرتے گئے اور صائمہ کی زندگی میں ایک شخص محبت کا دعویدار بن کر داخل ہوا، جس سے صائمہ کی شادی ہو گئی۔ صائمہ نے اپنی روایتی نرمی، خلوص، عاجزی اور بے پناہ محبت سے اس کے دل کی نگری کو آباد کرنا چاہا۔ وہ اپنے احساسات کی خوبصورت اور نازک پتیوں سے اس کے دل کو موم کرنا چاہتی تھی، وہ سمجھتی تھی کہ دنیا کا کوئی بھی انسان محبت کی زبان سے جیتا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس، وہ شخص انتہائی سنگدل، مغرور، مادہ پرست اور جذباتی طور پر بالکل اندھا نکلا۔ وہ صائمہ کے سچے جذبوں، اس کی معصوم خواہشات اور اس کی دھیمی، محبت بھری گفتگو کا ہمیشہ تمسخر اڑاتا۔ اس کا لہجہ لوہے کی طرح سخت اور اوزار کی طرح دھار دار تھا جو صائمہ کی نازک روح پر ہر روز ایک نیا زخم لگاتا تھا اور اسے تھوڑا تھوڑا کر کے کاٹتا رہتا تھا۔ وہ صائمہ کی نرمی کو اس کی کمزوری سمجھتا تھا۔ صائمہ نے بہت صبر کیا، اپنے آنسو پیتی رہی، اور اپنی محبت کی پتیوں سے اس ہیرے جیسے سخت دل انسان کو رام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر سب کوششیں رائیگاں گئیں۔ اس شخص کی انا اور سختی میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔


ایک انتہائی اداس اور تاریک رات، جب اس شخص کی بے رخی، تلخ کلامی اور طنز کے زہریلے تیروں نے صائمہ کے دل کے پرخچے اڑا دیے اور اسے اندر سے بالکل کھوکھلا اور لہولہان کر دیا، تو وہ اپنے اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں گھٹنوں میں سر دیے دیر تک سسکیاں بھرتی رہی۔ اس کی ہچکیاں بندھ گئیں اور تنہائی کے اس عالم میں اسے اچانک سالوں پہلے کہی گئی اپنی بوڑھی ماں کی وہ حکیمانہ بات یاد آئی کہ "پھولوں میں کانٹے بھی ہوتے ہیں جو روح کو زخمی کرتے ہیں"۔ اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں اور بوجھل قدموں سے چل کر الماری سے اپنی پرانی ڈائری کھولی، جس کے اندر اس نے سالوں پہلے سڑک والے لڑکے سے خریدے گئے گلاب کے گجروں کی چند سوکھی، سیاہ اور بے جان پڑ چکی پتیاں یادگار کے طور پر محفوظ کی تھیں۔ صائمہ نے ان مرجھائی ہوئی پتیوں کو اپنی کانپتی ہتھیلی پر رکھا، اس کی آنکھوں سے انسوؤں کا سیلاب بے اختیار رواں تھا، اس کا سارا مان ٹوٹ چکا تھا۔ اس نے انتہائی کربناک لہجے میں ایک درد بھری مسکراہٹ کے ساتھ خود سے کلام کیا: "امی! آپ سچ کہتی تھیں۔ اس دنیا کے انسان ہیرے سے بھی زیادہ سخت، بے حس اور ظالم ہیں، ان پر محبت، خلوص اور وفا کی نرم پتیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ انسان جتنا جھکتا ہے، یہ دنیا اسے اتنا ہی کچلتی ہے۔ حکیم الامت نے کتنا سچ فرمایا تھا..."


تب اس کے کانوں میں اس تپتی سڑک پر کھڑے غریب لڑکے کی آواز ایک بار پھر گونجی، مگر اب کی بار شعر کا دوسرا مصرعہ صائمہ کی اپنی برباد شدہ زندگی کی تلخ اور برہنہ حقیقت بن کر اس کے سامنے کھڑا تھا اور وہ تڑپ کر پکار اٹھی:


پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر!