ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پی آئی اے صرف اسلام آباد نہیں بلکہ لاہور سے بھی برمنگھم کی پروازوں کا آغاز کرے

مصنف:

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم دسمبر 2026 سے برطانیہ کے برمنگھم ایئرپورٹ کے لیے نان اسٹاپ پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔ یہ پروازیں بوئنگ 777-200ER طیارے کے ذریعے صرف اسلام آباد سے چلائی جائیں گی، جن کی تعداد ہفتے میں 3 ہوگی۔


2025 میں اسلام آباد اور برمنگھم کے درمیان براہِ راست سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد (دونوں طرف کے مجموعی سفر) 1 لاکھ 14 ہزار رہی، جبکہ فی مسافر اوسط یک طرفہ کرایہ 424 امریکی ڈالر تھا، جس میں ایندھن سرچارج (YQ) بھی شامل تھا۔ اس کے برعکس لاہور کے لیے یہ طلب 31 ہزار اور کراچی کے لیے 14 ہزار مسافروں پر مشتمل تھی۔برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن میں سے 60 فیصد کا تعلق وادیٔ کشمیر کے خطے سے ہے، اس لیے وہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو اپنے بنیادی سفری مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تقریباً 30 فیصد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے، جو لاہور ایئرپورٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ 10 فیصد مسافر کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔


اسلام آباد، برمنگھم روٹ پر ایئرلائنز کا مارکیٹ شیئر


2025 میں اسلام آباد، برمنگھم اور واپسی کے روٹ پر مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے ایمریٹس 41 فیصد کے ساتھ سرفہرست تھی، جبکہ ترکش ایئرلائنز کا حصہ 29 فیصد، سعودی ایئرلائنز کا 19 فیصد اور قطر ایئرویز کا 6 فیصد تھا۔ پی آئی اے کی جانب سے اس روٹ پر براہِ راست پروازیں بحال کرنے کے نتیجے میں ان چاروں ایئرلائنز کے مارکیٹ شیئر میں نمایاں کمی متوقع ہے۔تاہم، یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ 2019 میں جب پی آئی اے پاکستان سے برطانیہ کے لیے باقاعدہ پروازیں چلاتی تھی تو اس کا مارکیٹ شیئر کتنا تھا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پی آئی اے کی دورانِ پرواز سہولیات اور خدمات کے معیار میں کمی کے باعث اب وہ مارکیٹ میں اکثریتی حصہ حاصل نہیں کر سکے گی، لیکن اس رائے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔


کورونا وبا سے قبل پی آئی اے برطانیہ اور اسلام آباد یا لاہور کے درمیان پروازوں میں اکثریتی مارکیٹ شیئر رکھتی تھی، حالانکہ اس کی پروازیں ہفتے میں صرف 4 سے 5 مرتبہ چلتی تھیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں براہِ راست پرواز کی سہولت اور دو بیگز مفت لے جانے کی پرکشش اجازت شامل تھی۔ بالخصوص خاندان مشرقِ وسطیٰ کے راستے ایک اسٹاپ والی پروازوں کے بجائے پی آئی اے کو ترجیح دیتے تھے۔


2019 میں پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر اور مسافروں کی تعداد


2019 کے اعدادوشمار کے مطابق مختلف روٹس پر پی آئی اے کی کارکردگی درج ذیل تھی:


1۔ اسلام آباد، مانچسٹر، اسلام آباد

- مسافروں کی تعداد: 2 لاکھ 95 ہزار

- پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر: 67 فیصد

- پروازوں کی تعداد: ہفتے میں 5

- گزشتہ 12 ماہ میں براہِ راست سفر کی مارکیٹ کا حجم: 3 لاکھ 79 ہزار مسافر

2۔ اسلام آباد، لندن، اسلام آباد

- مسافروں کی تعداد: 2 لاکھ 62 ہزار

- پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر: 55 فیصد

- پروازوں کی تعداد: ہفتے میں 5

- گزشتہ 12 ماہ میں براہِ راست سفر کی مارکیٹ کا حجم: 3 لاکھ 92 ہزار مسافر

3۔ لاہور، مانچسٹر، لاہور

- مسافروں کی تعداد: 1 لاکھ 7 ہزار

- پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر: 54 فیصد

- پروازوں کی تعداد: ہفتے میں 2

- گزشتہ 12 ماہ میں براہِ راست سفر کی مارکیٹ کا حجم: 1 لاکھ 49 ہزار مسافر

4۔ لاہور، لندن، لاہور

- مسافروں کی تعداد: 1 لاکھ 91 ہزار

- پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر: 49 فیصد

- پروازوں کی تعداد: ہفتے میں 3

- گزشتہ 12 ماہ میں براہِ راست سفر کی مارکیٹ کا حجم: 2 لاکھ 73 ہزار مسافر

5۔ اسلام آباد، برمنگھم، اسلام آباد

- مسافروں کی تعداد: 1 لاکھ 39 ہزار

- پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر: 74 فیصد

- پروازوں کی تعداد: ہفتے میں 3

- گزشتہ 12 ماہ میں براہِ راست سفر کی مارکیٹ کا حجم: 1 لاکھ 14 ہزار مسافر

برمنگھم کے لیے پروازیں بحال کرنے کی وجہ


برمنگھم کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پی آئی اے نے آئی اے ٹی اے کے موسمِ سرما 2026 کے شیڈول کے لیے نورس اٹلانٹک ایئرلائنز سے دو بوئنگ 787-9 طیارے ویٹ لیز پر حاصل کیے ہیں۔ ان طیاروں کو پی آئی اے کے اپنے بوئنگ 777 طیاروں کی جگہ استعمال کیا جائے گا، جو اس وقت لندن کے ہیتھرو اور مانچسٹر ایئرپورٹ کے روٹس پر چلائے جاتے ہیں۔مذکورہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی پاکستان، بالخصوص لاہور اور اسلام آباد، سے برطانیہ کے لیے براہِ راست سفر کی طلب لندن اور مانچسٹر کے روٹس پر نمایاں طور پر بڑھی ہے، جبکہ برمنگھم کے لیے اس میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔


2027 کے موسمِ گرما کے لیے پی آئی اے کی حکمتِ عملی


آئی اے ٹی اے کے موسمِ گرما 2027 کے شیڈول کے لیے ضروری ہے کہ پی آئی اے ہیتھرو ایئرپورٹ پر اپنی ہفتہ وار 3 پروازوں کے سلاٹس دوبارہ حاصل کرے، تاکہ برطانیہ کے لیے اس کا تاریخی 10 ہفتہ وار پروازوں کا آپریشن مکمل طور پر بحال ہو سکے۔اس مقصد کے لیے پروازوں کی مثالی تقسیم یہ ہونی چاہیے کہ اسلام آباد کے لیے ہفتے میں 6 اور لاہور کے لیے 4 پروازیں چلائی جائیں۔مانچسٹر کے روٹ پر بھی طلب موجود ہے اور اسلام آباد سے روزانہ نان اسٹاپ پرواز شروع کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح لاہور اور مانچسٹر کے درمیان ہفتے میں 3 پروازیں چلانے کی ضرورت ہے۔