کبھی ہمارے گھروں کے دروازے صرف لکڑی کے نہیں ہوتے تھے، ان پر دستک بھی ہوتی تھی۔
کوئی پڑوسی بے تکلفی سے دروازہ کھٹکھٹا دیتا، اندر سے آواز آتی، ’’آ جاؤ!‘‘ اور آنے والے سے یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ پہلے فون کیوں نہیں کیا؟ گھر میں جگہ کم ہو تو چارپائی سرکا دی جاتی، ایک کپ چائے اور دو باتوں سے محفل سج جاتی۔ کسی کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا، مگر شاید سب کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت تھا۔
آج ہمارے گھروں کے دروازے مضبوط ہیں، تالے جدید ہیں، گھنٹیاں برقی ہیں، موبائل میں ویڈیو کال کی سہولت ہے، دنیا انگلی کے ایک لمس پر ہمارے سامنے موجود ہے… مگر عجیب بات ہے کہ گھر کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
کبھی شام ڈھلتے ہی گلیاں آباد ہو جاتی تھیں۔ بچے بستے ایک طرف رکھتے اور کھیلنے کے لیے نکل جاتے۔ کسی کے ہاتھ میں موبائل نہیں، کسی کی آنکھیں اسکرین پر نہیں، کسی کے کانوں میں ہیڈفون نہیں۔ کھیل بھی ایسے جن کے لیے نہ مہنگے کھلونے درکار تھے، نہ انٹرنیٹ، نہ بجلی۔
چھپن چھپائی، آنکھ مچولی، پٹھو گرم، لٹو، گلی ڈنڈا اور نہ جانے کتنے ایسے کھیل تھے جو صرف کھیل نہیں تھے؛ وہ بچپن کی تربیت بھی تھے اور ہماری ثقافت کا حصہ بھی۔
بچے کھیلتے ہوئے ہارتے تھے تو دوبارہ کوشش کرنا سیکھتے تھے، جیتتے تھے تو خوشی بانٹنا سیکھتے تھے، لڑتے تھے تو چند لمحوں بعد صلح بھی کر لیتے تھے۔ کسی ایک بچے کا گھر سب کا کھیل کا میدان بن جاتا، کسی کی چھت سب کی محفل، کسی کا صحن سب کی دنیا۔
اور پھر وہ مٹی کے گھر…
بچے مٹی سے گھر بناتے تھے، انہیں سجاتے تھے، کبھی بارش انہیں گرا دیتی تو دوبارہ بنا لیتے تھے۔ شاید انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ وہ مٹی کے گھر بناتے بناتے زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھ رہے ہیں: چیزیں ٹوٹ جائیں تو انہیں دوبارہ بنایا جا سکتا ہے۔
آج کے بچے شاید مٹی سے گھر بنانے کے بجائے موبائل کی اسکرین پر انگلی پھیر کر گھر بنا لیتے ہیں۔ کھیل بھی موجود ہیں، مگر ان کے میدان اسکرین کے اندر منتقل ہو گئے ہیں۔ دوست بھی موجود ہیں، مگر اکثر کسی دوسری اسکرین کے پیچھے۔
ہم نے بچوں کو بہت کچھ دیا ہے۔
تیز انٹرنیٹ دیا، جدید موبائل دیا، آن لائن تعلیم دی، دنیا بھر کی معلومات ان کی انگلیوں پر رکھ دیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے انہیں اپنا وقت بھی دیا؟
یہ سوال صرف بچوں سے نہیں، والدین سے بھی ہے۔
کیونکہ آج اکثر گھر میں منظر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ماں چاہتی ہے بچہ کچھ دیر موبائل میں مصروف رہے تاکہ وہ اپنے کام نمٹا سکے، باپ چاہتا ہے بچے کو کوئی ویڈیو دکھا دی جائے تاکہ چند لمحے سکون سے بیٹھ سکے، اور بچہ چاہتا ہے کہ اسے کوئی ٹوکے نہیں تاکہ وہ اپنی اسکرین کی دنیا میں واپس چلا جائے۔
یوں ایک ہی گھر میں تین لوگ موجود ہوتے ہیں، مگر تینوں اپنی اپنی دنیا میں۔
پہلے بھی ماں مصروف تھی۔ گھر کے کام کم نہیں تھے۔ باپ بھی روزگار کے لیے گھر سے باہر جاتا تھا۔ بزرگوں کی اپنی مصروفیات تھیں اور بچوں کے اپنے کام۔ مگر دن کے کسی نہ کسی حصے میں سب ایک جگہ بیٹھتے تھے۔
کسی بزرگ کی بات سنی جاتی تھی۔
کسی بچے کی شرارت پر سب ہنستے تھے۔
کسی کی بیماری کا پوچھا جاتا تھا۔
کسی کی پریشانی کا حل نکالا جاتا تھا۔
اور کبھی کبھی تو کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہوتی تھی۔ بس سب ساتھ بیٹھے ہوتے تھے۔
شاید یہی ’’ساتھ‘‘ ہماری زندگی کا سب سے بڑا سکون تھا۔
آج ہمارے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ذرائع موجود ہیں، مگر بات کرنے کا وقت کم ہو گیا ہے۔
ہم پیغام بھیج سکتے ہیں، وائس نوٹ بھیج سکتے ہیں، ویڈیو کال کر سکتے ہیں، تصویر بھیج سکتے ہیں، اپنی پوری زندگی دنیا کو دکھا سکتے ہیں… مگر سامنے بیٹھے انسان کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ پوچھنے کے لیے وقت نہیں نکالتے:
’’تم واقعی کیسے ہو؟‘‘
یہ پانچ لفظ شاید آج کے زمانے کی سب سے مہنگی گفتگو بن چکے ہیں۔
ہم سوشل میڈیا پر اجنبی لوگوں کی زندگیوں میں دلچسپی لیتے ہیں، ان کے خیالات پڑھتے ہیں، ان کی تصاویر دیکھتے ہیں، ان کی کامیابیوں پر تبصرہ کرتے ہیں، مگر اپنے ہی گھر میں بیٹھے شخص کے چہرے پر پھیلی خاموشی پڑھنے کی فرصت نہیں رکھتے۔
ہم نے تعلقات کی فہرست لمبی کر لی، مگر رشتوں کی گہرائی کم کر دی۔
ہماری فرینڈ لسٹ میں سینکڑوں نام ہیں، مگر کبھی کبھی ایک ایسا شخص نہیں ملتا جس کے سامنے بیٹھ کر دل کھول کر رو سکیں۔
اور شاید سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ فاصلے صرف بچوں اور والدین کے درمیان نہیں بڑھے؛ ہم سب کے درمیان بڑھے ہیں۔
دادا دادی اور نانا نانی کی وہ کہانیاں، جو کبھی راتوں کو بچوں کو اپنے گرد جمع کر لیا کرتی تھیں، اب شاید موبائل کی ویڈیوز سے ہار رہی ہیں۔
وہ بزرگ جو کبھی خاندان کی یادداشت ہوا کرتے تھے، اب خاموش بیٹھے موبائل کی اسکرین دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
وہ بچے جو کبھی دادی سے کہانی سننے کی ضد کرتے تھے، اب ایک کلک پر ہزاروں کہانیاں سن سکتے ہیں۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ موبائل ہمیں کہانی تو دے سکتا ہے، کہانی سنانے والی وہ محبت نہیں دے سکتا جو دادی کی آواز میں ہوتی تھی۔
وقت بدلتا ہے، نسلیں بدلتی ہیں، سہولتیں بدلتی ہیں۔ یہ فطری عمل ہے۔ ہمیں ماضی میں واپس نہیں جا سکتے، نہ ہی ٹیکنالوجی کو زندگی سے نکال دینا مسئلے کا حل ہے۔
مسئلہ شاید موبائل نہیں۔
مسئلہ شاید یہ ہے کہ موبائل ہماری زندگی کا ایک حصہ رہنے کے بجائے ہماری زندگی بن گیا ہے۔
ہمیں نئی دنیا سے شکایت نہیں کرنی، شاید ہمیں صرف پرانی دنیا کی کچھ خوبیاں نئی دنیا میں واپس لانی ہیں۔
اپنے بچوں کے ساتھ چند منٹ بیٹھنا۔
کھانے کی میز پر موبائل ایک طرف رکھ دینا۔
ہفتے میں ایک شام صرف گھر والوں کے نام کر دینا۔
بچوں کو کبھی گلی میں، صحن میں یا کھلے میدان میں کھیلنے دینا۔
بزرگوں سے ان کے گزرے ہوئے زمانے کی کہانیاں سننا۔
اور کبھی کسی دوست یا رشتے دار کے گھر بغیر کسی خاص مقصد کے چلے جانا۔
کیونکہ آنے والی نسل کو اگر ہم نے صرف جدید دنیا دی اور اپنی ثقافت، اپنے کھیل، اپنی محفلیں، اپنی کہانیاں اور اپنے تعلقات نہ دیے تو شاید ایک دن ہمارے بچے ہم سے پوچھیں گے:
’’آپ کے زمانے میں لوگ ایک دوسرے سے ملا بھی کرتے تھے؟‘‘
اور اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شاید ہمیں اپنے ہی اندر کہیں ایک پرانا دروازہ کھلتا محسوس ہو۔
وہ دروازہ جس کے پیچھے ایک صحن ہوگا۔
صحن میں کھیلتے بچے ہوں گے۔
کسی کونے میں بزرگ بیٹھے ہوں گے۔
چولہے سے چائے کی خوشبو آ رہی ہوگی۔
بارش کے بعد مٹی مہک رہی ہوگی۔
کوئی بچہ مٹی سے اپنا چھوٹا سا گھر بنا رہا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر…
لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔
شاید ہمیں پرانے دروازے واپس نہیں چاہییں؛ ہمیں ان دروازوں کے پیچھے رہ جانے والی یادیں واپس چاہیے۔





