روس کو عالمی گیس مارکیٹ سے نکالنے کی کوششوں کے سنگین نتائج ہوں گے، صدر پوتن

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ روس کو عالمی گیس مارکیٹ سے باہر کرنے کی کوششوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، قدرتی گیس کا عالمی توانائی، صنعت، زراعت اور بین الاقوامی تجارت میں کردار مزید مضبوط ہوگا۔ ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (جی ای سی ایف) کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس قدرتی گیس کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں پہلے جبکہ پیداوار کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔ روس عالمی منڈی کو گیس فراہم کرنے والا ذمہ دار، قابل اعتماد اور قابل پیش گوئی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کو عالمی گیس مارکیٹ سے نکالنے اور اس کی گیس صنعت کی ترقی محدود کرنے کی کوششوں سے غیر ملکی صارفین، کمپنیوں، صنعتی اداروں اور گھرانوں کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ یورپ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والا خود بھی اس میں گر سکتا ہے۔
صدر پوتن کے مطابق جی ای سی ایف کے رکن ممالک کے پاس دنیا کے تقریباً 70 فیصد قدرتی گیس کے ذخائر ہیں، جبکہ عالمی گیس برآمدات میں ان کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورم کے رکن ممالک باہمی تعاون کو پس پردہ سازشوں اور مارکیٹ میں جوڑ توڑ کے بغیر کھلے اور دیانت دارانہ انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال، روسی گیس پائپ لائنوں پر حملوں اور پابندیوں کے باعث عالمی گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، تاہم مستقبل میں قیمتیں دوبارہ کم بھی ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے نارڈ اسٹریم گیس پائپ لائنوں کی تباہی کو براہ راست دہشت گرد کارروائی قرار دیا۔
مزید پڑھیں





