قلم کا زنا اور اس کا حل،تحریر: ماہ جبین اظہر
نقطہ نظر
قلم سے ظلمت کے اندھیروں کو دور کرنا، حق و سچ کی آواز بلند کرنا اور معاشرے میں شعور و آگہی کی شمع روشن کرنا ہمیشہ سے قلم کا حق رہا ہے۔ قلم وہ طاقت ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی، مظلوم کو زبان دیتی اور معاشرے میں پھیلی ناانصافیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ لیکن جب یہی قلم فحش نگاری، بے حیائی اور اخلاقی اقدار کی پامالی کا ذریعہ بن جائے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنی اس امانت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟
قلم محض چند الفاظ لکھنے کا وسیلہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اس کے ذریعے دلوں میں امید جگائی جا سکتی ہے، بکھرتے رشتوں کو سنبھالنے کا شعور دیا جا سکتا ہے اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت کی جا سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض اوقات قلم کی طاقت کو شہرت، مقبولیت اور داد و تحسین حاصل کرنے کے لیے ایسے انداز میں استعمال کیا جاتا ہے جو ادب کی اصل روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جب تحریر کا مقصد اصلاح کے بجائے محض سنسنی پھیلانا اور قارئین کی توجہ حاصل کرنا رہ جائے تو قلم اپنی معنویت کھونے لگتا ہے۔
قلم کا زنا دراصل قلم کی حرمت اور اخلاقی ذمہ داری سے انحراف کا استعارہ ہے۔ جس قلم سے سچائی، تہذیب اور انسانیت کا پیغام عام ہونا چاہیے، اگر اسی سے بے حیائی کو فروغ دیا جائے تو یہ اہلِ قلم کے لیے خود احتسابی کا مقام ہے۔ البتہ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ معاشرتی برائیوں کی نشان دہی کرنا اور انہیں فحش انداز میں پیش کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ ادب زندگی کے ہر پہلو کو بیان کر سکتا ہے، مگر اس بیان میں مقصدیت، شائستگی اور فکری گہرائی کا ہونا ضروری ہے۔
اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
سب سے پہلے قلم کار کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ صرف کاغذ تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پڑھنے والوں کی سوچ، رویوں اور احساسات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ تحریر لکھتے یا شائع کرتے وقت اسے خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا یہ الفاظ کسی مثبت تبدیلی کا سبب بنیں گے؟ کیا ان میں کوئی سبق، پیغام یا اصلاح کا پہلو موجود ہے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو اسے اپنے موضوع اور اندازِ بیان پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
دوسرا اہم قدم ادبی حلقوں اور رسائل کے مدیران کی ذمہ داری ہے۔ انہیں ایسی تحریروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو معاشرتی مسائل کو اجاگر کریں، انسانی کردار کی تعمیر کریں اور قارئین کو مثبت سوچ عطا کریں۔ نوجوان لکھنے والوں کی رہنمائی کی جائے تاکہ وہ محض سنسنی خیزی کے بجائے اپنے مطالعے، مشاہدے اور تخلیقی صلاحیتوں سے اپنی پہچان بنائیں۔
والدین اور اساتذہ بھی نئی نسل میں اچھی کتابوں کے مطالعے، اخلاقی اقدار اور مثبت طرزِ فکر کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اسی طرح قارئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر تحریر کو محض اس کی مقبولیت کی بنیاد پر پسند نہ کریں، بلکہ اس کے پیغام اور اثرات کو بھی اہمیت دیں۔ جب معاشرہ معیاری ادب کی قدر کرے گا تو قلم کاروں کی توجہ بھی بامقصد تحریروں کی طرف بڑھے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر لکھنے والوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری لازم ہے۔ کسی تحریر کو زیادہ پسندیدگیاں مل جانا اس کے معیاری یا مفید ہونے کی دلیل نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ الفاظ کسی کی سوچ بدلیں، کسی کو حق کا راستہ دکھائیں اور معاشرے میں بہتری کا سبب بنیں۔
ہمیں قلم پر غیر ضروری پابندیوں کے بجائے قلم کار کے اندر خود احتسابی، اخلاقی شعور اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب لکھنے والا اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہوئے لفظوں کا انتخاب کرے گا تو اس کی تحریر محض تفریح کا سامان نہیں رہے گی، بلکہ اصلاح و تربیت کا ذریعہ بنے گی۔
یاد رکھیے! قلم ایک ایسی قوت ہے جو قوموں کی فکری سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے نفرت پھیلانا بھی ممکن ہے اور محبت کا پیغام دینا بھی، اخلاقی بگاڑ پیدا کرنا بھی ممکن ہے اور کردار سازی کرنا بھی۔ فیصلہ قلم کار کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
قلم کی سیاہی سے کردار سنواریں، ذہنوں کو روشنی دیں اور معاشرے کی اصلاح کریں، کیونکہ قلم کی اصل عظمت بے باک الفاظ میں نہیں، بلکہ ان کے بامقصد اور مثبت استعمال میں پوشیدہ ہے۔
مزید پڑھیں





