قوم کے متضاد روئیے، تحریر:کنیز سسیلیا منظور
نقطہ نظر
یوں تو کہنے کی حد تک ہم زندہ قوم ہیں اور خدا کے فضل و کرم سے خود کو پاک قوم بھی کہتے ہیں ۔
لیکن جب بات عمل کی ہو تو یقین جانیے سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔اور بندہ لا محالہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ خود کو پاک قوم کہنے والی قوم کا عمل اپنے نام کے بر عکس کیوں ہوتا ہے ۔
شہر کی گلیوں میں جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ،گٹروں کا بدبودار پھیلا ہوا پانی دیکھ کر
اس پاک وطن کا نام رکھنے والوں کی روحیں تو یقیناً تڑپتی ہوں گی ۔
لیکن یہاں زندہ رہنے والوں کی بھی زندگی اجیرن رہتی ہے ۔ گلیوں محلوں میں تو اگر مان بھی لیا جائے کہ ان پڑھ، جاہل یا بے شعور لوگ ہیں جنہیں سوک سینس جیسی کسی چڑیا کا پتا نہیں ۔بس اسی پہ نہیں ہوتی ۔مجھے بے حد حیرت اور افسوس اس وقت ہوا جب پہلی بار بڑی خوشی خوشی اور بڑے فخر سے استنبول جانے کے لئے کراچی سے نہایت ہی صاف ستھرے اور خوبصورت ہوائ جہاز میں سوار ہوئے ۔
پانچ چھ گھنٹے کے سفر کے دوران بھی بڑی پیاری سی فضائی میزبان شاید دو تین بار بڑا سا پلاسٹک بیگ اٹھائے ہر سیٹ کے پاس آتی اور بڑی پیاری سی آواز اور نرم سے لہجے میں"ٹریش پلیز"کہتی ہوئی آگے بڑھ جاتی۔
اوروں کی طرف تو میں نے زیادہ غور سے نہیں دیکھا کیوں کہ سن بھی رکھا تھا اور تاکید کر کے بھی بھیجا گیا تھا کہ دوسرے ممالک میں کسی کو تاڑنا غیر مہذب حرکت سمجھی جاتی ہے ۔لہذا صرف اپنے ٹریش ہی سے سروکار رکھا ۔جب جب وہ پیاری سی میزبان آتی تو اگر کوئ ریپر یا خالی بوتل وغیرہ ہوتی تو اسکے پلاسٹک بیگ میں ڈال دیتے۔
ہمارا طیارہ جب استنبول ائرپورٹ پہ اترا اور بحفاظت اترنے پہ خدا کا بے حد شکر ادا کرتے ہوئے اپنی سیٹوں سے اٹھے، تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہی سوٹڈ بوٹڈ اور ماڈرن دکھائی دینے والے خواتین و حضرات جو کراچی سے اس نہایت صاف ستھرے طیارے میں سوار ہوئے تھے ان کی بدولت طیارے کا فرشی قالین تقریباً کہیں غائب ہو چکا تھا ۔اب اس پہ ہر طرف کہیں کمبل کہیں خالی بوتلیں ،کاغذ، ریپرز اور تھیلیاں نظر آ رہی تھیں۔
یقین مانئیے ساری خوشی لمحے بھر کو دھری کی دھری رہ گئ ۔کہ ہم کیسی پاک قوم ہیں ،جس کو اپنے نام کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ۔اور خیر سے استنبول سے واپسی پر بھی بالکل وہی منظر دیکھنے کو ملا اور دل ہی دل میں لوگوں کو کوستے اور پھیلے کچرے کو دیکھ کر ہم بڑی بے بسی سے دروازے پہ کھڑی،خدا حافظ کہتی ہوئ فضائی میزبانوں کو کھسیانی سی مسکراہٹ دیتے ہوئے جہاز سے اتر آئے ۔
اور بالکل یہی منظر دبئی جاتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بھی دیکھنے کو ملا۔ اور ہم اتنی صفائی پسند اور کیوریس قوم ہیں کہ ہوائی جہازکے کموڈ کو ٹشو پیپرز سے بند کر کے نجانے کون سا تجربہ اور تحقیق کرنا چاہتے ہیں ۔حالانکہ وہاں چھوٹا سا نفیس ڈبہ بھی ہوتا ہے جس میں استعمال شدہ ٹشو پیپرز ڈالنے کا لکھا بھی ہوتا ہے ۔
بس اپنی پاک قوم کے حق میں رب العالمین سے دعا ہی کر سکتی ہوں۔ کہ کاش اے کاش! ہم سچ مچ پاک قوم بن جائیں ۔
دعاوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ۔





