انسان کا اپنے عزائم و مقاصد کا کھلے عام اظہار ایسی دانا حکمت عملی کے منافی ہے جو کامیابی کی ضامن بنتی ہے۔ جب ہم اپنے مستقبل کے خدوخال، ارادے اور بلند اٰہداف دوسروں پر آشکار کر دیتے ہیں تو ناگزیر طور پر ان کے نفوس میں ہمارے بارے میں توقعات کے انبار جمع ہونے لگتے ہیں۔ انہی توقعات کا گراں بار بوجھ رفتہ رفتہ ہماری عملی صلاحیتوں اور فکرِ رسا کو مفلوج کرنے لگتا ہے۔ نتیجتاً، متوقع معیار سے فروتر کارکردگی انسان کو شدید ذہنی اضطراب، ہیجان اور داخلی بے چینی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے جو بالآخر دائمی نفسیاتی عوارض پر منتج ہوتی ہے۔ اس گرداب سے بچنے کی حکمتِ عملی یہی ہے کہ انسان اپنے چھوٹے بڑے جملہ منصوبوں کو پردۂ اخفا میں رکھ کر صابرانہ جدوجہد جاری رکھے۔ سکوت اور خاموشی کا پیراہن اوڑھ کر اپنے جادۂ منزل پر گامزن رہنا ہی قرینِ عقل ہے۔ جب خلقِ خدا کو آپ کی ذات سے کسی نوع کی توقعات کا بار نہیں ہوگا تو آپ کا ذہن خوف، خدشات اور خارجی دباؤ سے مبرّا ہو کر کامل یکسوئی اور طمأنیت کے ساتھ میدانِ عمل میں متحرک رہے گا۔ کسی بھی کارِ نمایاں اور بظاہر ناممکن ہدف کی تسخیر کے لیے بے باکی اور مرکزیتِ فکر بنیادی لوازمات ہیں اور ان دونوں اوصاف کا سرچشمہ صرف اور صرف خاموش محنت کی رگِ جاں میں پنہاں ہے۔ اگر ہم سفر کے آغاز ہی میں اپنے تمام تر عزائم، نقشہ ہائے عمل اور مقاصدِ حیات کو طشت از بام کر دیں تو بالفرض اگر ہم منزلِ مقصود تک پہنچ بھی جائیں، تو ہماری یہ مساعی دنیا کے لیے شگفتگی، حیرت یا والہانہ مسرت کا سبب نہیں بنیں گی کیونکہ وہ تو پہلے ہی سے اس کے بپا ہونے کے منتظر اور متوقع تھے۔ اس کے برعکس اگر خدانخواستہ ہم تگ و دو کے باوجود نا کام ٹھہریں، تو یہی خلق ان نتائج پر استعجاب کا اظہار کرے گی اور ان کی نظروں میں ہماری وقار، ہیبت اور قدر و منزلت حرفِ غلط کی طرح مٹ جائے گی۔
انسان کو چاہیے کہ وہ دعوائے باطل سے اجتناب کرے۔ کون جانتا ہے کہ آنے والے ادوارِ زمان میں حوادثِ روزگار اور حالاتِ دہر ہمارے موافق رہیں گے یا نہیں؟ ان بدلتے حالات میں اپنے دعووں پر پورا اترنا بسا اوقات محال ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، یہ امر بھی بعید از قیاس نہیں کہ لوگ ہمارے خیالات و مقاصد سے آگاہی حاصل کر کے سوئے ظن یا رقابت کے باعث ہمارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائیں۔ انسان کے بلند عزائم اور انفرادی افکار بسا اوقات دوسروں کے اجتماعی رویوں، ذاتی مفادات اور مروجہ خیالات سے تصادم کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں، وہ کبھی یہ گوارا نہیں کریں گے کہ ہم ان کی آرزوؤُں کے برخلاف کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکیں۔ چنانچہ جب وہ ہمارے جادۂ سفر میں سنگِ راہ بنیں گے اور تزویراتی روڑے اٹکائیں گے تو ہمیں اپنی سعی کو بارآور بنانے کے لیے لازمی طور پر ان کی منفی تدابیر کو ناکام بنانے پر اپنی توانائیاں صرف کرنا پڑیں گی۔ اس کا براہِ راست نقصان یہ ہوگا کہ ہماری توجہ بکھر جائے گی، فکر کی یکسوئی غارت ہو جائے گی اور قوت و توانائی کا وہ عظیم ذخیرہ جو آگے بڑھنے اور فتح حاصل کرنے پر خرچ ہونا چاہیے تھا، وہ مدافعت، مزاحمت اور غیر ضروری معرکہ آرائی کی نذر ہو جائے گا۔ وقت کا وہ ضیاع اس کے علاوہ ہوگا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ لہٰذا، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ زبان پر سکوت کی مہر ثبت رہے اور ہماری ظفر یابی کو بذاتِ خود نعرہ زن ہونے دیا جائے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ زبان تو شعلہ نوائی اور شورش پسندی میں مصروف ہو اور عملی میدان میں ہماری کامیابی خاموشی کا کفن اوڑھ کر سو جائے۔
تاہم، اس تمام حکمتِ عملی، کتمانِ راز اور خاموش مجاہدے کا ہرگز یہ مدعا نہیں کہ انسان کی زندگی مقصدیت سے عاری ہو جائے، یا وہ اہدافِ حیات متعین کرنے سے گریزاں ہو کر بے سمت اور بے ہنگم زندگی گزارنے لگے۔ بلند اٰہداف کا تعین، سمت کی بیداری اور پختہ ارادے تو کامیابی کی بنیاد اور اس کا اصل جوہر ہیں۔ شرط صرف اتنی ہے کہ ان تمام تر مقاصد کا ہنگامہ خیز اعلانِ عام نہ ہو۔ یہ تمام خطوط، مقاصد اور عزائم اپنی ذات کی حد تک محدود رہنے چاہئیں اور انسان کو چاہیے کہ وہ خلوتوں میں ان کا اعادہ صرف اپنے نفس کے سامنے کرتا رہے۔ خود کو مسلسل اپنے فرائض، اہداف اور آخری منزل کی یاد دہانی کرواتے رہنا انسان کو ہمہ وقت مستعد، متحرک اور جادۂ عمل پر یکسو رکھتا ہے جس کے بعد کامرانی اس کے قدم چومتی ہے۔
مزید پڑھیں






