Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ریڈیو پاکستان فیصل آباد,آواز کے 44 برس،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

آواز انسانی تہذیب کی شاید سب سے قدیم اور مؤثر ایجاد ہے۔ انسان نے جب اپنے احساس، تجربے اور خبر کو ایک دوسرے تک پہنچانے کی کوشش کی تو آواز نے رابطے کا کردار ادا کیا، مگر جب یہی آواز ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں، لاکھوں لوگوں تک بیک وقت پہنچنے لگی تو ریڈیو نے ابلاغ کی دنیا میں ایک نئے عہد کا آغاز کیا۔ پاکستان میں ریڈیو محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اس نے خبر، تعلیم، ادب، ثقافت، زراعت، موسیقی، قومی شعور اور عوامی آگاہی کو معاشرے تک پہنچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

اسی وسیع روایت کا ایک خوبصورت باب ریڈیو پاکستان فیصل آباد ہے، جس نے اپنے 44 برس مکمل کیے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ریڈیو پاکستان فیصل آباد 15 ستمبر 1982 کو 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ آن ایئر ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ریڈیو کی آواز گھر گھر پہنچتی تھی اور ٹیکنالوجی آج کے ڈیجیٹل دور کے مقابلے میں کہیں محدود تھی۔ نہ سوشل میڈیا تھا، نہ موبائل فون، نہ پوڈکاسٹ اور نہ ہی چند سیکنڈ میں دنیا بھر تک مواد پہنچانے کا تصور۔ ایک اسٹوڈیو، ایک مائیک، ایک ٹرانسمیٹر اور ایک تربیت یافتہ ٹیم ہی ابلاغ کا پورا نظام ہوا کرتی تھی۔

لیکن اصل طاقت مشین نہیں، مواد، آواز اور انسان ہوتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان فیصل آباد نے اسی انسانی رابطے کو اپنی طاقت بنایا اور وقت کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی۔ سرکاری طور پر بھی اس اسٹیشن کے کردار میں مقامی اور علاقائی سطح پر سماجی، معاشی، زرعی، صنعتی، تعلیمی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی تشہیر و آگاہی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

مائیک سے معاشرے تک

ریڈیو کی کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں کہ کتنے گھنٹے نشریات ہوئیں یا کتنے پروگرام نشر ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان پروگراموں نے معاشرے میں کیا تبدیلی پیدا کی؟ کتنے لوگوں کو معلومات ملیں؟ کتنے فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا؟ کتنے ادیبوں اور شاعروں کی آواز عوام تک پہنچی؟ کتنے کسانوں نے کسی پروگرام سے فائدہ اٹھایا؟ کتنے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار یا زندگی کے کسی اہم مسئلے کے بارے میں رہنمائی ملی؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ریڈیو پاکستان کی Public Service Broadcasting کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے پروگرامنگ ونگ کے سرکاری تعارف کے مطابق ریڈیو کے پروگراموں میں صحت، تعلیم، ماحول، آبادی، زراعت، خواتین کے حقوق، انسانی حقوق اور دیگر عوامی مسائل جیسے موضوعات شامل رہے ہیں۔

یعنی ریڈیو کا بنیادی فلسفہ صرف ’’سناؤ‘‘ نہیں بلکہ ’’بتاؤ، سمجھاؤ اور جوڑو‘‘ بھی ہے۔

فیصل آباد اور ریڈیو کا رشتہ

فیصل آباد ایک صنعتی شہر ضرور ہے مگر اس کی معاشی بنیادوں میں زراعت کا کردار بھی غیر معمولی ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے لے کر زرعی پیداوار تک، یہ خطہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاشی نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسے شہر میں ایک مضبوط پبلک براڈکاسٹر کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

ریڈیو پاکستان فیصل آباد نے مقامی آوازوں کو قومی نشریاتی نظام سے جوڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہاں سے نشر ہونے والی آواز میں فیصل آباد کی زبان، ثقافت، دیہی زندگی، صنعتی مزاج، ادبی ذوق اور عوامی مسائل کی جھلک ملتی رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ریڈیو اسٹیشن صرف ایک عمارت نہیں ہوتا۔ وہ ایک ثقافتی آرکائیو بھی ہوتا ہے، جہاں کئی نسلوں کی آوازیں محفوظ ہوتی ہیں۔

فنکاروں اور صداکاروں کی نرسری

ریڈیو پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ادارے نے کئی فنکاروں، صداکاروں، موسیقاروں اور میزبانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا۔ فیصل آباد اسٹیشن بھی اس روایت سے مستثنیٰ نہیں۔

ریڈیو پاکستان کے سرکاری ریکارڈ میں فیصل آباد کے معروف فنکار ذکاؤ الدین آصف کا ذکر موجود ہے، جو 1982 میں فیصل آباد اسٹیشن کے قیام کے بعد یہاں منتقل ہوئے اور مقبول پنجابی پروگرام ’’راوی تے چنّاں‘‘ کے بانی میزبانوں میں شامل رہے۔ وہ تقریباً 40 برس ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور 2002 میں ریڈیو پاکستان کا نیشنل ایکسیلنس ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

یہ ایک نام صرف ایک فنکار کی داستان نہیں؛ یہ اس پورے نظام کی مثال ہے جس نے آواز کے ذریعے لوگوں کو پہچان دی۔

ٹیکنالوجی بدلی، ریڈیو کا مقصد نہیں

آج ریڈیو کو ایک نئے تکنیکی ماحول کا سامنا ہے۔ سامع کے ہاتھ میں موبائل ہے، انٹرنیٹ موجود ہے، سوشل میڈیا ہے، یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز ہیں۔ ایسے میں روایتی ریڈیو کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ نئی نسل تک کیسے پہنچے؟

اس کا جواب ریڈیو کو ختم کرنا نہیں بلکہ ریڈیو کو ڈیجیٹل بنانا ہے۔

آج ریڈیو پاکستان کے مختلف چینلز آن لائن بھی دستیاب ہیں، جبکہ فیصل آباد میں FM-93 اور FM-101 سمیت مختلف نشریاتی سہولتیں موجود ہیں۔ سرکاری ویب سائٹ پر فیصل آباد کے ان چینلز کی لائیو اسٹریمنگ بھی دستیاب ہے۔

اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب ایک پروگرام صرف ’’آن ایئر‘‘ نہیں ہوتا؛ اسے بعد میں Podcast، YouTube، Facebook، ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کلپس کی شکل میں بھی نئی نسل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

یہاں ٹیکنیکل سوچ کی ضرورت ہے۔

ایک 30 منٹ کا پروگرام اگر صرف ریڈیو پر نشر ہو کر ختم ہوجائے تو اس کی زندگی 30 منٹ ہے۔ لیکن اگر اسی پروگرام کی آڈیو ایڈیٹ کرکے پوڈکاسٹ، اہم اقتباسات کی مختصر ویڈیوز، ماہرین کے کلپس اور معلوماتی گرافکس کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جاری کیے جائیں تو اس پروگرام کی زندگی کئی دن، کئی ہفتے بلکہ کئی سال ہوسکتی ہے۔

کسان اور ریڈیو

میرا تعلق چونکہ زراعت سے بھی ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ریڈیو پاکستان فیصل آباد کو زرعی نشریات میں مزید مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

کسان کو زمین کی تیاری سے لے کر بیج کے انتخاب، بوائی، آبپاشی، کھاد، جڑی بوٹیوں، کیڑوں، بیماریوں، موسمیاتی تبدیلی، برداشت اور مارکیٹنگ تک ہر مرحلے پر مستند معلومات کی ضرورت ہے۔

اسی ضرورت کے پیش نظر میری تجویز ہے کہ ’’کسان " کے نام سے ایک جامع پروگرام کو مزید منظم انداز میں فروغ دیا جائے، جس میں زرعی یونیورسٹیوں، محکمہ زراعت، تحقیقی اداروں اور عملی میدان سے وابستہ ماہرین کو شامل کیا جائے۔

ایک پروگرام میں ماہر کی تحقیق، کسان کا تجربہ اور صحافی کی سوال کرنے کی صلاحیت جمع ہوجائیں تو ریڈیو کا یہ پلیٹ فارم ایک مؤثر زرعی Extension Service بن سکتا ہے۔

44 سال کا اصل سرمایہ

44 برس میں کسی ادارے کی سب سے بڑی کامیابی اس کی عمارت، آلات یا ٹرانسمیٹر نہیں ہوتے؛ اس کا اصل سرمایہ انسانی وسائل ہوتے ہیں۔

وہ اسٹیشن ڈائریکٹرز جنہوں نے ادارے کی قیادت کی، وہ پروڈیوسرز جنہوں نے پروگرام ترتیب دیے، انجینئرز جنہوں نے نشریات کو رواں رکھا، نیوز روم کے کارکن، صداکار، میزبان، فنکار، موسیقار، ٹیکنیکل اسٹاف، انتظامی اہلکار اور وہ تمام لوگ جنہوں نے پردے کے پیچھے رہ کر ریڈیو کی آواز کو سامعین تک پہنچایا—یہ سب اس 44 سالہ سفر کے اصل کردار ہیں۔

اسی موقع پر میں ریڈیو پاکستان فیصل آباد کی اسٹیشن ڈائریکٹر محترمہ تابندہ بخت دراز صاحبہ کو 44ویں سالگرہ کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کے ساتھ پورے موجودہ اسٹاف کو بھی مبارکباد، جو آج کے بدلتے ہوئے میڈیا ماحول میں اس قومی ادارے کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے۔

میں ان تمام سابق افسران، ملازمین، پروڈیوسرز، فنکاروں، صداکاروں، تکنیکی ماہرین اور وابستگان کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ ریڈیو پاکستان فیصل آباد کے نام کیا۔

مستقبل کا ریڈیو کیسا ہو؟

میرے خیال میں آنے والے دور کا ریڈیو تین بنیادی ستونوں پر کھڑا ہوگا:

Credibility — Accessibility — Technology

یعنی معلومات مستند ہوں، عوام تک آسانی سے پہنچیں اور جدید ٹیکنالوجی کو بھرپور استعمال کیا جائے۔

ریڈیو پاکستان کو نوجوان نسل کے لیے مزید پروگرام تیار کرنے چاہئیں، مقامی زبانوں اور ثقافت کو جگہ دینی چاہیے، زرعی و تعلیمی پروگراموں کو جدید فارمیٹ دینا چاہیے، ماہرین کے ساتھ Interactive Sessions بڑھانے چاہئیں اور ہر اہم پروگرام کو ڈیجیٹل آرکائیو کا حصہ بنانا چاہیے۔

ریڈیو کی سب سے بڑی طاقت آج بھی اس کی آواز کی انسانی قربت ہے۔ ٹیلی ویژن ہمیں دیکھنے پر مجبور کرتا ہے، موبائل ہمیں اسکرول کرنے پر اکساتا ہے، مگر ریڈیو ہمیں سنتے ہوئے تصور کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ یہی اس کا حسن ہے۔

16 ستمبر کو ریڈیو پاکستان فیصل آباد کی 44ویں سالگرہ کی تقریب میں بطور مہمان شرکت میرے لیے بھی ایک یادگار موقع تھا۔ اس موقع پر محسوس ہوا کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود ریڈیو کی عمارت میں صرف آوازیں نہیں بلکہ یادیں، محنت، فن، ادب اور نسلوں کا سفر محفوظ ہے۔

44 سال کسی ادارے کیے صرف عمر نہیں ہوتے؛ یہ اس کی عوامی خدمت کی تاریخ ہوتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان فیصل آباد نے 1982 میں 250 واٹ کی نشریاتی طاقت سے سفر شروع کیا تھا، مگر اصل طاقت کبھی ٹرانسمیٹر کے واٹ میں نہیں تھی۔ اصل طاقت اس آواز میں تھی جو لوگوں تک پہنچی، انہیں معلومات دیں، ان کا دکھ بیان کیا، فنکاروں کو پہچان دی، ادیبوں کو مائیک دیا، کسانوں تک پیغام پہنچایا اور فیصل آباد کی مقامی شناخت کو وسیع تر سامعین تک پہنچایا۔

آج ضرورت ہے کہ اس 44 سالہ روایت کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تحقیق، نوجوان نسل اور عوامی ضرورتوں کے ساتھ جوڑ کر اگلے مرحلے میں لے جایا جائے۔

ریڈیو پاکستان فیصل آباد کو 44 برس مبارک—

ان آوازوں کو سلام جو وقت کے ساتھ خاموش نہیں ہوئیں،

بلکہ ہر نئے دور میں نئے انداز سے سنائی دیتی رہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL