واٹس ایپ اسٹیٹس، رشتوں کی وہ جنگ جو سب دیکھتے ہیں،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
آج کل کسی سے اس کا حال پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بس اس کا واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھ لیجیے۔ انسان کے گھر میں کیا چل رہا ہے، دل میں کس کا شکوہ ہے، کس سے ناراض ہے، کس نے دھوکا دیا، کون مطلبی نکلا اور کون اسے سمجھ نہیں سکا، سب کچھ چند الفاظ، ایک تصویر یا کسی گانے کے بول میں معلوم ہو جاتا ہے۔ پہلے لوگ اپنے دکھ چھپاتے تھے، اب انہیں واٹس ایپ اسٹیٹس پر سجا کر رکھتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے کسی کے گھر کا راز گھر تک رہتا تھا، اب موبائل کی اسکرین پر پورے محلے، رشتہ داروں، دوستوں اور دفتر کے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔
کسی ساس کو بہو سے شکایت ہے تو بہو کو بلانے کے بجائے واٹس ایپ اسٹیٹس لگا دیا جاتا ہے، ’’آج کل کی اولاد بڑوں کی عزت کرنا بھول گئی ہے۔‘‘ بہو بھی شاید کم نہیں، چند گھنٹوں بعد اسٹیٹس آتا ہے، ’’عزت عمر سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔‘‘ شوہر ناراض ہے تو گانا لگا دیا، ’’ہم نے تم سے پیار کیا تھا، تم نے ہمیں بھلا دیا۔‘‘ بیوی خفا ہے تو ایک اقتباس آ جائے گا، ’’خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے تکلیف نہیں ہوئی۔‘‘ دو دوستوں میں لڑائی ہوئی تو ایک لکھے گا، ’’لوگ بدلتے نہیں، بس ان کے اصل چہرے سامنے آ جاتے ہیں۔‘‘ دوسرا فوراً جواب دے گا، ’’کچھ لوگ خود کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔‘‘
اور سب سے دلچسپ منظر تب بنتا ہے جب ایک ہی گھر کے تین چار افراد ایک دوسرے کو براہِ راست کچھ نہیں کہتے، لیکن پورا خاندان ان کے واٹس ایپ اسٹیٹس پڑھ کر سمجھ جاتا ہے کہ آج گھر میں کیا جنگ چل رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
شاید اس لیے کہ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ مخلص ہوتے ہوئے بھی ان کے سامنے سچ بولنے کی اخلاقی جرات کھو چکے ہیں۔ جس شخص سے شکایت ہے، اس کے سامنے بیٹھ کر یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کہ آپ نے یہ غلط کیا اور مجھے اس سے تکلیف ہوئی۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ سامنے والا کیا جواب دے گا، کہیں بحث نہ شروع ہو جائے، کہیں رشتہ خراب نہ ہو جائے یا کہیں ہمیں ہی غلط ثابت نہ کر دیا جائے۔ اس لیے ہم ایک آسان راستہ نکالتے ہیں؛ موبائل اٹھاتے ہیں، دو جملے لکھتے ہیں اور واٹس ایپ اسٹیٹس لگا دیتے ہیں۔ اب جسے سمجھنا ہے، خود سمجھے۔
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جس کے لیے اسٹیٹس لگایا جاتا ہے، اکثر وہ بھی سمجھ جاتا ہے۔ وہ بھی خاموش نہیں رہتا۔ چند گھنٹوں بعد اس کی طرف سے ایک نیا اسٹیٹس آ جاتا ہے۔ پھر جواب میں ایک اور، پھر اس کے جواب میں ایک اور۔ بات دو لوگوں کے درمیان ہوتی ہے لیکن تماشائی درجنوں بن جاتے ہیں۔ رشتہ بچانے کے لیے شروع ہونے والی بات آہستہ آہستہ انا کی جنگ بن جاتی ہے، جسے دونوں فریق پوری دنیا کے سامنے لڑتے رہتے ہیں۔
ہمیں شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رشتے اشاروں سے نہیں، گفتگو سے بچتے ہیں۔ اگر باپ کو بیٹے سے شکایت ہے تو بیٹے کو تنہائی میں بٹھا کر سمجھائے۔ اگر بیٹے کو باپ کی کسی بات سے تکلیف ہے تو احترام سے بات کرے۔ اگر میاں بیوی میں مسئلہ ہے تو دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں۔ اگر ساس کو بہو کا کوئی رویہ برا لگا ہے تو بہو کو سمجھائے، پورے خاندان کو اسٹیٹس کے ذریعے نہ بتائے۔ اگر دوست سے شکوہ ہے تو دوست کو فون کریں۔ کیونکہ جس شخص سے مسئلہ ہے، مسئلہ بھی اسی کے ساتھ حل ہونا چاہیے۔اپنوں کا شکوہ غیروں کے سامنے نہیں کیا جاتا۔
اور ایک بات ہمیں شاید اپنے بارے میں بھی سوچنی چاہیے۔ جب ہم کسی کی خامی، بے وفائی یا غلطی کو واٹس ایپ اسٹیٹس پر بیان کرتے ہیں تو ہم صرف اسے نہیں بتا رہے ہوتے، ہم اپنے اور اس شخص کے تعلق کی کمزوری بھی دنیا کو دکھا رہے ہوتے ہیں۔ ہم بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے درمیان اتنی قربت نہیں رہی کہ ہم ایک دوسرے سے بات کر سکیں۔
شاید اسی لیے آج لوگوں کے حالات پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان کے واٹس ایپ اسٹیٹس بتا دیتے ہیں کہ کون اندر سے ٹوٹا ہوا ہے، کون کسی سے ناراض ہے، کون کسی کو یاد کر رہا ہے، کس گھر میں رشتوں کی تلخی ہے اور کون کسی ایسے شخص کو پیغام دینا چاہتا ہے جس سے وہ براہِ راست بات کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔
ہم نے واٹس ایپ کو رابطے کا ذریعہ بنایا تھا، مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نے اسے اپنے رشتوں کی عدالت بنا دیا ہو، جہاں ہر شخص اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے اور فیصلہ بھی خود ہی سنا رہا ہے۔
کبھی کبھی اسٹیٹس لگانے کے بجائے فون کر کے بات کر لیا کریں۔ کبھی کسی کو سب کے سامنے سنانے کے بجائے اکیلے میں سمجھا دیا کریں۔ کبھی ’’لوگ‘‘ لکھنے کے بجائے اس شخص کا نام لے کر بات کر لیں جس سے واقعی شکایت ہے۔
کیونکہ رشتے اسٹیٹس لگانے سے نہیں، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے سے بچتے ہیں۔
اور شاید ہماری زندگی کا سب سے خوبصورت واٹس ایپ اسٹیٹس وہ ہوگا جسے ہمیں کبھی لگانا ہی نہ پڑے۔





