Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سنگچور سانپ ، ایک خاموش قاتل،تحریر: شیراز حسین رونگھا


پاکستان میں قدرتی حیات کا تنوع اپنی مثال آپ ہے، جہاں سانپوں کی تقریباً 97 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان میں اکثریت غیر زہریلی ہے، مگر چند اقسام ایسی بھی ہیں جو انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائے جانے والے چار مہلک ترین سانپوں کو “بگ فور” کہا جاتا ہے، جن میں کوبرا، رسلز وائپر، سا سکیلڈ وائپر اور سنگچور شامل ہیں۔ ان میں سنگچور سانپ (کامن کریٹ) کو سب سے زیادہ مہلک تصور کیا جاتا ہے، جو پاکستان میں سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

سنگچور کو “خاموش قاتل” کہنا محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس کے کاٹنے میں درد نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، جس کے باعث متاثرہ شخص اکثر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہی لاپرواہی جان لیوا ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس کا زہر انتہائی طاقتور نیوروٹاکسن ہوتا ہے جو انسانی اعصابی نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔ علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں—پہلے کمزوری، پھر بولنے اور دیکھنے میں دشواری، اور بالآخر سانس لینے کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ اگر فوری طبی امداد نہ ملے تو چند گھنٹوں میں موت واقع ہو سکتی ہے۔

سنگچور کی ایک اہم خصوصیت اس کا رات کے وقت متحرک ہونا ہے۔ یہ دن بھر چھپا رہتا ہے اور رات کے وقت خوراک اور پناہ کی تلاش میں نکلتا ہے۔ دیہی علاقوں میں، جہاں لوگ اکثر فرش پر سوتے ہیں، یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ برسات کے موسم میں جب اس کے قدرتی مسکن متاثر ہوتے ہیں، تو یہ انسانی آبادیوں کا رخ کرتا ہے۔ ایسے میں نیند کی حالت میں انسان کو کاٹ لینا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے، اور متاثرہ شخص کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

سنگچور کی ساخت اسے پہچاننے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا جسم دبلا پتلا، رنگ سیاہ یا نیلگوں ہوتا ہے جس پر سفید یا زرد باریک دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ عموماً تین سے چھ فٹ تک لمبا ہوتا ہے اور زمین کے قریب رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی خوراک میں چوہے، چھپکلیاں، مینڈک اور دیگر چھوٹے جانور شامل ہیں، حتیٰ کہ یہ دوسرے سانپوں کو بھی کھا جاتا ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ سنگچور کی تعداد دیگر سانپوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں دکھائی دیتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس کا رات کو سرگرم ہونا ہے، جس کے باعث یہ انسانی نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور کم مارا جاتا ہے۔ دوسری وجہ اس کا دوسرے سانپوں کو بطور خوراک استعمال کرنا ہے، جس سے مقابلہ کم ہو جاتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ لوگ اس سانپ کو پکڑنے یا پالنے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ یہ نہایت خطرناک اور ناقابلِ قابو ہوتا ہے۔

تاہم سب سے اہم عنصر انسانی مداخلت ہے۔ جنگلات کی کٹائی، زرعی زمینوں کی توسیع اور شہری پھیلاؤ نے ان کے قدرتی مسکن کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث یہ انسانی بستیوں کے قریب آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہی قربت انسان اور سانپ کے درمیان تصادم کا باعث بن رہی ہے۔

سنگچور کے خطرے سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا، چوہوں کی موجودگی ختم کرنا، رات کے وقت مناسب روشنی کا انتظام کرنا اور فرش پر سونے سے گریز کرنا بنیادی اقدامات ہیں۔ اس کے علاوہ گٹروں اور سوراخوں کو بند رکھنا اور کسی بھی سانپ کی موجودگی پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا ضروری ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی شخص سانپ کے کاٹنے کا شکار ہو جائے تو فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جانا چاہیے، کیونکہ بروقت طبی امداد ہی زندگی بچا سکتی ہے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سنگچور سانپ فطری نظام کا حصہ ہے۔ یہ زرعی زمینوں میں چوہوں اور دیگر نقصان دہ جانوروں کی تعداد کو کنٹرول کرتا ہے، جو ایک مثبت کردار ہے۔ مگر اس کی مہلکیت کے باعث اس کے ساتھ احتیاط برتنا ناگزیر ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سنگچور سانپ کا خطرہ لاعلمی اور غفلت سے بڑھتا ہے۔ اگر عوام میں آگاہی پیدا کی جائے، احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور فوری طبی سہولیات تک رسائی ممکن ہو تو اس خاموش قاتل کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ایک باشعور معاشرہ ہی ایسے خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکتا ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL