Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بین الاقوامی سفر میں سامان کا گم ہو جانا،تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

سفر ہمیشہ سے انسان کی زندگی کا ایک خوب صورت حصہ رہا ہے۔ کبھی سفر کسی ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے، کبھی کاروبار کے سلسلے میں اور کبھی کسی ایسی خواہش کی تکمیل کے لیے جس کا تعلق دل کی گہرائیوں سے ہوتا ہے۔ خصوصاً بین الاقوامی سفر میں انسان کئی دن پہلے سے تیاری شروع کر دیتا ہے۔ کپڑوں سے لے کر ضروری اشیا تک ہر چیز ترتیب سے سامان میں رکھی جاتی ہے اور پھر ایئرپورٹ پہنچ کر ہم اپنا سامان ایئرلائن کے حوالے اس اعتماد کے ساتھ کرتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے ساتھ بحفاظت ہماری منزل تک پہنچے گا۔


مگر بعض اوقات یہی اعتماد اس وقت شدید پریشانی میں بدل جاتا ہے جب منزل پر پہنچنے کے بعد مسافر کا سامان بیلٹ پر نہیں آتا۔ طویل پرواز، تھکن اور سفر کی مشقت کے بعد انسان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اپنا سامان حاصل کرے اور سکون سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو۔ لیکن اگر بیگ نہ ملے تو خوشی اچانک پریشانی میں بدل جاتی ہے۔


بین الاقوامی پروازوں کے دوران سامان کا گم ہو جانا کوئی معمولی مسئلہ نہیں۔ ایک مسافر کے لیے اس کے بیگ میں صرف کپڑے یا چند چیزیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کی ضرورت کی اشیا، اہم دستاویزات، ذاتی استعمال کی چیزیں، کبھی قیمتی سامان اور بعض اوقات ایسے تحائف بھی ہوتے ہیں جن کی قیمت روپے پیسے میں نہیں لگائی جا سکتی۔ چنانچہ سامان کی گمشدگی محض مالی نقصان نہیں بلکہ ذہنی اذیت کا سبب بھی بنتی ہے۔


میرے ساتھ بھی ایک بین الاقوامی سفر کے دوران ایسا ہی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ دبئی کے راستے مدینہ منورہ پہنچی۔ ایک طویل پرواز کے بعد جب سامان لینے کے لیے بیلٹ کے پاس پہنچی تو میرے دو بیگ تھے۔ کچھ دیر انتظار کے بعد ایک بیگ تو مل گیا، مگر دوسرا بیگ کہیں نظر نہیں آیا۔ ابتدا میں یہی امید تھی کہ شاید سامان کسی دوسری بیلٹ پر آ رہا ہو یا تھوڑی دیر بعد پہنچ جائے گا، لیکن انتظار بڑھتا گیا اور بیگ کا کوئی سراغ نہ ملا۔


بالآخر متعلقہ کاؤنٹر پر اطلاع دی، ضروری کارروائی مکمل کی اور فارم بھی پُر کیے۔ طویل سفر کی تھکن اپنی جگہ تھی، مگر اس سے زیادہ پریشانی اس بات کی تھی کہ آخر بیگ کہاں گیا؟ اس میں موجود سامان میرے لیے اہم تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں ایک ایسے سفر پر نکلی تھی جس کی اپنی روحانی اہمیت تھی۔


مدینہ منورہ کی سرزمین پر میری یہ پہلی حاضری تھی۔ دل میں مسجد نبوی ﷺ کی حاضری، پھر مکہ مکرمہ جا کر خانۂ کعبہ کی زیارت اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے کی خواہش تھی۔ عمرے سے متعلق ضروری سامان بھی اسی گمشدہ بیگ میں موجود تھا۔ ایک طرف اس مقدس سفر کی خوشی تھی اور دوسری طرف سامان کی گمشدگی نے ذہنی الجھن پیدا کر دی تھی۔


گھر واپس آنے کے بعد بھی معاملہ ختم نہیں ہوا۔ کئی دن تک مسلسل ای میلز کے ذریعے ایئرلائن سے رابطہ کرتی رہی۔ ہر مرتبہ یہی کوشش تھی کہ انہیں اپنے سامان کی اہمیت کا احساس دلایا جائے اور درخواست کی جائے کہ بیگ تلاش کرکے جلد از جلد واپس کیا جائے۔ مگر بار بار رابطے کے باوجود کوئی ایسا جواب موصول نہیں ہوا جو ایک پریشان مسافر کو حقیقی اطمینان دے سکتا۔


کئی دن بعد ایک مختصر پیغام موصول ہوا کہ سامان کے بدلے ہمیں صرف تیس فیصد معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ یہ بات مزید حیران کن تھی، کیونکہ بیگ میں موجود سامان کی مالیت اس معاوضے سے کہیں زیادہ تھی۔ بعض اشیا ایسی بھی تھیں جن کی قیمت صرف پیسوں سے نہیں لگائی جا سکتی تھی۔ مسافر کے لیے اس طرح کا جواب صرف ایک مالی معاملہ نہیں رہتا بلکہ اسے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ شاید اس کی پریشانی کو اس اہمیت سے نہیں دیکھا جا رہا جس کا وہ مستحق ہے۔


آخرکار کئی جاننے والوں کی کوششوں اور سفارشوں کے ذریعے، مسلسل رابطوں اور کافی جدوجہد کے بعد ہمارا بیگ ہمیں واپس مل گیا۔ بیگ ہاتھ میں آیا تو یقیناً سکون محسوس ہوا، مگر اس پورے واقعے نے ایک سوال ضرور چھوڑ دیا کہ اگر کوئی عام مسافر ہو، جس کے پاس سفارش یا کسی جاننے والے کی مدد نہ ہو، تو وہ اپنی شکایت کے حل کے لیے کہاں جائے؟


یہاں مسئلہ صرف ایک بیگ کے گم ہونے کا نہیں بلکہ مسافر اور ایئرلائن کے درمیان اعتماد کا ہے۔ جب ہم بین الاقوامی سفر کے لیے ٹکٹ خریدتے ہیں تو ایئرلائن پر اعتماد کرتے ہیں۔ ہم اپنی رقم ادا کرتے ہیں، اپنی منزل کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنا سامان بھی اسی اعتماد کے ساتھ ان کے حوالے کرتے ہیں کہ وہ بحفاظت ہمارے پاس پہنچے گا۔ اگر سامان راستے میں گم ہو جائے تو ایئرلائن کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایک رسمی شکایت درج کر لے، بلکہ مسافر کو بروقت معلومات فراہم کرنا، اس کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا اور مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔


آج کے جدید دور میں جب دنیا ایک دوسرے سے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ قریب ہو چکی ہے، سفر کے ذرائع بھی جدید ہو گئے ہیں۔ ایئرپورٹس پر جدید نظام موجود ہیں، سامان کو ٹریک کرنے کی سہولیات موجود ہیں اور مسافر سے ہر مرحلے پر مختلف معلومات لی جاتی ہیں۔ ایسے میں سامان کی گمشدگی اگر ہو بھی جائے تو اس کی تلاش اور مسافر کو بروقت اطلاع دینے کا نظام بھی اتنا ہی مؤثر ہونا چاہیے۔


مسافر کے لیے سب سے تکلیف دہ بات صرف سامان کا نہ ملنا نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی شکایت لے کر ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک بھٹکتا رہے اور اسے واضح جواب نہ ملے۔ ایک مسافر سفر کے لیے اپنا وقت، پیسہ اور اعتماد صرف کرتا ہے۔ اس کے بدلے اسے صرف نشست اور منزل تک پہنچنے کی سہولت نہیں بلکہ ذمہ دارانہ خدمت بھی ملنی چاہیے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی پروازوں میں سامان کی حفاظت کو محض ایک انتظامی ذمہ داری نہ سمجھا جائے بلکہ اسے مسافر کے اعتماد کا حصہ سمجھا جائے۔ اگر کسی وجہ سے سامان گم ہو جائے تو مسافر کو مناسب اور بروقت معلومات دی جائیں، اس کی شکایت کو سنجیدگی سے سنا جائے اور معاوضے کے معاملات میں بھی انصاف اور شفافیت کو ملحوظ رکھا جائے۔


سفر انسان کو نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے، نئی یادیں دیتا ہے اور کبھی روحانی تجربات سے مالا مال کرتا ہے۔ لیکن اگر اسی سفر میں سامان گم ہو جائے اور پھر مسافر کی آواز بھی کہیں گم ہو جائے تو سفر کی خوشی ایک تلخ تجربے میں بدل سکتی ہے۔


ایئرلائنز کو یاد رکھنا چاہیے کہ مسافر کے ہاتھ میں صرف ٹکٹ نہیں ہوتا، اس کے ساتھ اس کا اعتماد بھی ہوتا ہے۔ سامان گم ہونے پر اگر بیگ واپس مل بھی جائے تو اعتماد واپس آنے میں وقت لگتا ہے۔ اسی لیے ضرورت صرف جدید طیاروں اور خوب صورت ایئرپورٹس کی نہیں، بلکہ ایسے ذمہ دار نظام کی بھی ہے جہاں مسافر کو یہ یقین ہو کہ اس کا سامان بھی محفوظ ہے اور اس کی آواز بھی سنی جائے گی۔