ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سستا خون، مہنگا پانی،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

نقطہ نظر
raees anayat

دنیا کی عجیب منڈی ہے، جہاں انسان کی زندگی کی قیمت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ کبھی پانی کو زندگی کہا جاتا تھا، مگر آج کہیں یہی پانی دولت مندوں کی آسائش اور غریبوں کی مجبوری بن چکا ہے۔ دوسری طرف انسانی خون ہے، جو رشتوں کی حرارت، محبت کی پہچان اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج بعض حالات میں اس کی حرمت بھی مفادات، دشمنیوں اور بے حسی کے ہاتھوں پامال ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی تلخ حقیقت ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے کہ آخر ہم کس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، جہاں سستا خون، مہنگا پانی ہماری اجتماعی بے حسی کی تصویر بن گیا ہے؟پانی قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ یہ نہ امیر کا محتاج ہے، نہ غریب کی جاگیر؛ اس پر ہر جاندار کا حق ہے۔ مگر افسوس کہ صاف پانی، جو کبھی قدرت کی عام نعمت سمجھا جاتا تھا، آج کئی علاقوں میں خرید کر پینا پڑتا ہے۔ کہیں لوگ پانی کی ایک بالٹی کے لیے میلوں سفر کرتے ہیں، کہیں مائیں اپنے بچوں کی پیاس بجھانے کے لیے پریشان پھرتی ہیں اور کہیں صاف پانی کی عدم دستیابی بیماریوں کو دعوت دیتی ہے۔ دوسری طرف پانی کا بے دریغ استعمال، قدرتی وسائل کی بربادی اور منافع کی ہوس ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم نے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو بھی تجارت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے؟اس تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ دردناک ہے۔ انسانی خون کی ارزانی صرف گولی چلنے یا کسی انسان کے قتل ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ اس سوچ کا نام بھی ہے جس میں دوسرے کی زندگی کی اہمیت ختم ہو جائے۔ معمولی اختلاف پر دشمنی، ذرا سی بات پر تشدد، زمین کے چند ٹکڑوں کے لیے قتل و غارت اور ذاتی انا کی خاطر برسوں کے رشتوں کا خون کر دینا ہمارے معاشرتی رویوں پر سوالیہ نشان ہے۔ جس انسان کو قدرت نے اشرف المخلوقات بنایا، وہی انسان کبھی اپنے جیسے انسان کی جان لینے میں لمحہ بھر نہیں لگاتا۔ذرا ان گھروں کا تصور کیجیے جہاں کسی ماں کا بیٹا گھر سے نکلتا ہے تو وہ اس کی سلامتی کی دعا کرتی ہے، جہاں ایک باپ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتا ہے، جہاں بہن اپنے بھائی کی واپسی کی منتظر ہوتی ہے۔ جب کسی گھر سے جنازہ اٹھتا ہے تو صرف ایک جسم نہیں اٹھتا، اس گھر کی امیدیں، خواب اور خوشیاں بھی اس کے ساتھ رخصت ہو جاتی ہیں۔ کسی کے لیے وہ محض ایک خبر ہوتی ہے، مگر کسی خاندان کے لیے پوری دنیا اجڑ جانے کا نام ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر کیا حاصل کیا؟ بلند عمارتیں بنا لیں، سڑکیں کشادہ کر لیں، بازار روشن کر لیے، مگر کیا ہمارے دل بھی روشن ہوئے؟ اگر ایک طرف پانی کی قلت انسان کو بے بس کر دے اور دوسری طرف انسان ہی انسان کا خون بہانے لگے تو ہماری ترقی کے دعوے کس کام کے؟ اصل ترقی تو وہ ہے جہاں کسی پیاسے کو پانی کے لیے ذلیل نہ ہونا پڑے، کسی غریب کو علاج اور صاف پانی سے محروم نہ رکھا جائے اور کسی بے گناہ کی جان ذاتی مفاد یا انا کی نذر نہ ہو۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پانی بچانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، ہر شہری کا فرض ہے۔ نل کھلا چھوڑ دینا، پانی ضائع کرنا اور قدرتی وسائل کو بے دردی سے استعمال کرنا آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح دوسروں کی جان، عزت اور حقوق کا احترام محض نصیحت نہیں، ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ گھروں سے لے کر تعلیمی اداروں تک، اور فرد سے لے کر ریاست تک، ہمیں برداشت، انصاف اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔

آئیے! ہم اپنے رویوں کا محاسبہ کریں۔ کسی کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کا ایک گلاس پیش کریں، کسی ضرورت مند کی مدد کریں، اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں اور انسانی جان کی حرمت کو ہر مفاد سے بلند رکھیں۔ کیونکہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔یاد رکھیے، جس معاشرے میں پانی دولت کی بنیاد پر ملے اور خون نفرت کی بنیاد پر بہے، وہاں انسانیت شدید خطرے میں ہوتی ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ تعمیر کرنا ہے جہاں پانی ہر پیاسے کی دسترس میں ہو، خون کا ہر قطرہ قیمتی سمجھا جائے اور انسان کی پہچان اس کی دولت نہیں، اس کا کردار ہو۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ پانی کی قدر کیجیے، کیونکہ یہ زندگی ہے؛ اور انسانی خون کی حرمت پہچانیے، کیونکہ اس کے پیچھے کسی کی پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔