ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وطن سے شرمندہ ہوں،تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

کبھی کبھی میں اپنے آپ سے ایک سوال کرتی ہوں کہ جس وطن پر مجھے فخر ہے، کیا میں نے اس کے شہری ہونے کا حق بھی ادا کیا ہے؟ پاکستان نے مجھے شناخت دی، ایک پرچم دیا، ایک آزاد سرزمین دی، مگر میں نے اس سرزمین کے لیے کیا کیا؟ کیا وطن سے محبت صرف قومی دنوں پر پرچم لہرانے، نعرے لگانے اور تقریریں کرنے کا نام ہے، یا اس کا تقاضا ہمارے کردار اور عمل سے بھی ہے؟

پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔ ہمارے بزرگوں نے ایک ایسے وطن کا خواب دیکھا تھا جہاں انصاف ہو، عزت ہو، برابری ہو اور ہر انسان کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ مگر آج جب ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو کئی سوالات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔ غربت، ناانصافی، بے روزگاری اور تعلیم کی عدم مساوات کے درمیان ہم ترقی کے خواب تو دیکھتے ہیں، لیکن اپنی ذمہ داریوں کا احساس اکثر بھول جاتے ہیں۔

ہم حکمرانوں سے جواب طلب کرتے ہیں، اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہیں اور معاشرتی خرابیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ سب ہمارا حق ہے، لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں بھی جھانکا؟ کیا ہم قانون کی پابندی کرتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیتے ہیں؟

ہمیں سڑکوں پر گندگی پسند نہیں، مگر صفائی کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم رشوت اور سفارش کو برا کہتے ہیں، لیکن اپنے کام کے لیے انہی راستوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بدل جائے، مگر اپنی عادتیں بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہی وہ تضاد ہے جو ہماری اجتماعی زندگی کو کمزور کر رہا ہے۔

مجھے شرمندگی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کسی غریب کو انصاف کے لیے بھٹکتے دیکھ کر ہم خاموش رہتے ہیں، جب کسی بچے کا مستقبل غربت کی نذر ہو جاتا ہے اور جب کسی مظلوم کی آواز محض اس لیے دبا دی جاتی ہے کہ اس کے پاس طاقت یا وسائل نہیں ہوتے۔ آخر ہم کس پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں، جہاں انسان کی قدر اس کے کردار کے بجائے اس کی حیثیت سے کی جائے؟

وطن سے محبت کا مطلب صرف اس کی خوب صورتی بیان کرنا نہیں، بلکہ اس کی خامیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا بھی ہے۔ ایک استاد کا دیانت داری سے پڑھانا، ایک قلم کار کا سچ لکھنا، ایک افسر کا انصاف کرنا، ایک والدین کا بچوں کی اچھی تربیت کرنا اور ایک عام شہری کا قانون کی پابندی کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ ملک کی تعمیر ہمیشہ بڑے عہدوں سے نہیں، چھوٹے مگر مخلصانہ اعمال سے بھی ہوتی ہے۔

میں اپنے وطن سے محبت کرتی ہوں، مگر یہ اعتراف بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ محبت کے دعوے کافی نہیں ہوتے۔ اگر میری آواز کسی مظلوم کے حق میں بلند نہیں ہوتی، میرا قلم کسی مثبت تبدیلی کا ذریعہ نہیں بنتا اور میرا کردار کسی دوسرے انسان کے لیے آسانی پیدا نہیں کرتا تو مجھے اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔

پاکستان کو صرف اچھے حکمرانوں کی نہیں، اچھے شہریوں کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو حب الوطنی کے قصے سنانے کے ساتھ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ اختلاف کے باوجود دوسروں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، حق دار کو اس کا حق کیسے دیا جاتا ہے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح کیسے دی جاتی ہے۔

آج میں اپنے آپ سے پوچھتی ہوں کہ پاکستان نے مجھے کیا دیا، یہ سوال کرنے سے پہلے میں نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ میں نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟


شاید اسی سوال میں میری شرمندگی بھی پوشیدہ ہے اور اصلاح کا راستہ بھی۔

میں نہیں چاہتی کہ میرا وطن صرف شکایتوں اور مایوسیوں کی پہچان بنے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی ذمہ داری پہچانے اور اپنے حصے کا کام دیانت داری سے کرے۔ کیونکہ پاکستان کی بہتری کسی ایک شخص یا ادارے کی ذمہ داری نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

میں وطن سے شرمندہ ہوں، اس لیے نہیں کہ میرا وطن کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ میں نے اس کی بہتری کے لیے اپنے حصے کا کردار شاید پوری طرح ادا نہیں کیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شرمندگی کو مایوسی نہیں، عمل میں بدلا جائے۔ یہی وطن سے سچی محبت ہے۔