تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوموں پر کڑا وقت آیا، جب بھی سرزمینِ وطن سیاسی انتشار، سماجی ناانصافی، جنگی تباہ کاریوں، غلامی کی زنجیروں یا انسانی المیوں سے دوچار ہوئی، اہلِ قلم نے اپنے لفظوں کو محض اظہارِ ذات کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ انہیں عہد کی آواز، قوم کے ضمیر اور مزاحمت کی علامت بنا دیا۔ ایسے میں شاعر کا قلم کبھی شمشیر بن کر ظلم کے سامنے کھڑا ہوا، کبھی چراغ بن کر مایوسی کے اندھیروں میں روشنی بانٹتا رہا اور کبھی مرہم بن کر زخمی دلوں کو حوصلہ دیتا رہا۔
شاعر محض خوب صورت الفاظ کا خالق نہیں ہوتا؛ وہ اپنے زمانے کی دھڑکنوں کو محسوس کرنے والا حساس انسان، معاشرتی رویوں کا مشاہدہ کرنے والا نقاد اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنے عہد کی تاریخ محفوظ کرنے والا گواہ بھی ہوتا ہے۔ اس کا کمال صرف یہ نہیں کہ وہ محبت، ہجر، وصال اور حسن کے قصے بیان کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ انسان کے دکھ کو محسوس کرے، محروموں کی بے بسی کو زبان دے، مظلوم کی خاموشی کو آواز میں بدلے اور معاشرے کو اس کے اصل چہرے سے روشناس کرائے۔
مگر آج ایک اہم سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے: جب دنیا ایک بار پھر سیاسی کشمکش، جنگوں، معاشی بدحالی، سماجی تقسیم، نفرت، عدم برداشت اور انسانی اقدار کے زوال سے گزر رہی ہے تو ہمارے شاعر کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ان کا قلم آج بھی قوم کی رہنمائی کر رہا ہے، یا شاعری کا بڑا حصہ ذاتی تشہیر، مشاعروں کی رونق، سوشل میڈیا کی داد اور وقتی شہرت کے دائرے میں محدود ہو کر رہ گیا ہے؟
یہ سوال کسی ایک شاعر یا پورے ادبی طبقے پر الزام نہیں، بلکہ اپنے عہد کے اہلِ قلم سے ایک سنجیدہ مکالمے کی دعوت ہے۔
تاریخ کے اوراق اور شاعر کی آواز
برصغیر کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شاعری نے سیاسی بیداری، قومی تشخص اور آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ انیسویں صدی میں بہادر شاہ ظفر کی شاعری نے زوال پذیر عہد کے کرب اور بے وطنی کے احساس کو محفوظ کیا۔ ان کے اشعار میں صرف ایک فرد کی محرومی نہیں، بلکہ ایک شکست خوردہ تہذیب کا نوحہ بھی سنائی دیتا ہے۔
علامہ محمد اقبال نے شاعری کو خودی، بیداری، عمل اور اجتماعی شعور کا وسیلہ بنایا۔ ان کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی شناخت، فکری خودمختاری اور مستقبل کے امکانات پر غور کرنے کی دعوت دی۔ اقبال کے ہاں شاعر محض خواب دیکھنے والا نہیں، بلکہ خواب کو مقصد اور مقصد کو عمل میں بدلنے کی ترغیب دینے والا رہنما ہے۔
اسی طرح حبیب جالب نے اپنے عہد کے سیاسی جبر اور غیر جمہوری رویوں کے خلاف مزاحمتی شاعری کی۔ ان کے لفظوں نے ان لوگوں کو زبان دی جو طاقت کے ایوانوں میں اپنی بات نہیں پہنچا سکتے تھے۔ فیض احمد فیض نے محبت اور انقلاب کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھا؛ ان کی شاعری میں محبوب کی یاد بھی ہے اور انسان کی آزادی کا خواب بھی۔
یہی وہ روایت ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ شاعر اپنے زمانے سے کٹ کر بڑا نہیں ہو سکتا۔ اس کی تخلیق کی معنویت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب وہ اپنے ذاتی تجربے کو اجتماعی احساس میں ڈھال دیتا ہے۔
تحریکِ پاکستان اور شاعروں کا کردار
تحریکِ پاکستان کے دوران شاعری نے مسلمانوں کے جداگانہ تشخص، آزادی کی آرزو اور اجتماعی بیداری کے اظہار میں نمایاں حصہ لیا۔ علامہ اقبال کی فکری شاعری نے تصورِ خودی اور اجتماعی خود آگہی کو تقویت دی، جبکہ حفیظ جالندھری نے قومی اور ملی شاعری کے ذریعے عوامی جذبات کے اظہار میں حصہ لیا۔ دوسرے متعدد شعرا نے بھی اپنے اپنے انداز میں آزادی، اتحاد اور قربانی کے موضوعات کو اجاگر کیا۔
اس تاریخی تجربے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قومی تحریکیں صرف سیاسی تقریروں اور تنظیمی سرگرمیوں سے آگے نہیں بڑھتیں؛ انہیں ایسے الفاظ بھی درکار ہوتے ہیں جو لوگوں کے دلوں میں امید، مقصد اور وابستگی پیدا کریں۔
آج پاکستان کو درپیش مسائل مختلف نوعیت کے ہیں۔ معاشی دباؤ، بے روزگاری، طبقاتی فرق، تعلیمی محرومیاں، اداروں پر عدم اعتماد، سیاسی تقسیم اور سماجی بے چینی جیسے موضوعات ہمارے ادیبوں اور شاعروں کی توجہ کے متقاضی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معاصر شاعری ان مسائل کو اتنی گہرائی سے اپنی تخلیقی کائنات کا حصہ بنا رہی ہے کہ آنے والی نسلیں ہمارے عہد کو سمجھنے کے لیے اس سے رجوع کر سکیں؟
جنگ کے دنوں میں شاعر کی ذمہ داری
جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ اس کے اثرات گھروں، خاندانوں، بچوں، ماؤں، معیشت، تعلیم اور انسانی نفسیات تک پھیل جاتے ہیں۔ جنگ میں کسی کا بیٹا شہید ہوتا ہے، کوئی اپنے گھر سے بے دخل ہو جاتا ہے، کوئی زندگی بھر کے لیے جسمانی یا نفسیاتی زخم اٹھا لیتا ہے اور کوئی خوف کے سائے میں اپنا بچپن گزار دیتا ہے۔
ایسے حالات میں شاعر کی ذمہ داری محض جوشیلے نعرے تخلیق کرنا نہیں، بلکہ جنگ کے انسانی نتائج کو سمجھنا اور بیان کرنا بھی ہے۔ وہ وطن سے محبت کا پیغام دے، دفاع کرنے والوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرے، مگر ساتھ ہی بے گناہ شہریوں کی ہلاکت، بچوں کی بربادی، مہاجرین کی بے وطنی اور امن کی ضرورت کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنائے۔
حقیقی قومی شاعری وہ نہیں جو نفرت کو مزید بھڑکائے، بلکہ وہ ہے جو حوصلہ پیدا کرے، حقائق سے آنکھیں نہ چرائے اور انسانیت کو دشمنی کے شور میں گم نہ ہونے دے۔ شاعر کو اپنے لفظوں کی قوت کا احساس ہونا چاہیے، کیونکہ ایک شعر کبھی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دیتا ہے اور کبھی کسی معاشرے کے اجتماعی احساس کو نئی سمت عطا کرتا ہے۔
آج جب جنگی واقعات، انسانی المیے اور عالمی تنازعات لمحوں میں ہماری اسکرینوں تک پہنچ جاتے ہیں تو شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری ردِعمل سے آگے بڑھ کر حقیقت، انسانی وقار اور اخلاقی ذمہ داری کو بھی سامنے رکھے۔ جذبات ضروری ہیں، لیکن جذبات کے ساتھ بصیرت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
سماجی ناانصافی اور شاعر کا ضمیر
معاشرے میں جب امیر اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں، جب تعلیم اور علاج عام انسان کی پہنچ سے دور ہونے لگتے ہیں، جب محنت کرنے والا اپنی محنت کا صلہ حاصل نہیں کر پاتا، جب عورت کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور جب طاقت ور کے لیے قانون اور کمزور کے لیے قانون کا پیمانہ مختلف دکھائی دیتا ہے تو شاعر کی خاموشی بھی ایک اہم سوال بن جاتی ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شاعر ہر موضوع پر لکھنے کا پابند ہے۔ ادب کی دنیا میں ذاتی تجربے، جمالیاتی احساس، محبت، فطرت، روحانیت اور انفرادی کرب کی بھی اپنی جگہ ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اجتماعی زندگی کے بڑے المیے مسلسل نظرانداز ہونے لگیں اور شاعر اپنی تخلیقی آزادی کو صرف داد و تحسین کے حصول تک محدود کر دے۔
شاعر کو معاشرے کا جج بننے کی ضرورت نہیں، مگر وہ معاشرے کا بیدار ضمیر ضرور بن سکتا ہے۔ وہ سوال اٹھا سکتا ہے، انسانی رویوں کا تجزیہ کر سکتا ہے اور ان لوگوں کے تجربات کو ادب میں جگہ دے سکتا ہے جن کی آواز عام طور پر دب جاتی ہے۔
ایک حساس شاعر کے لیے کسی غریب کی خالی جیب، کسی ماں کی بے بسی، کسی مزدور کے تھکے ہوئے ہاتھ اور کسی بچے کی محرومی بھی اتنے ہی اہم موضوعات ہو سکتے ہیں جتنے محبت اور حسن کے روایتی استعارے۔
آج کا شاعر اور سوشل میڈیا کی دنیا
ڈیجیٹل دور نے شاعروں کو اظہار کے ایسے مواقع فراہم کیے ہیں جن کا تصور چند دہائیاں پہلے مشکل تھا۔ اب کسی شاعر کو اپنی تخلیق قارئین تک پہنچانے کے لیے لازماً کسی بڑے ناشر، ادبی رسالے یا مشاعرے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ایک اچھی نظم، ایک مؤثر غزل یا چند بامعنی سطریں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
یہ تبدیلی اپنی جگہ ایک بڑی سہولت ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ پسندیدگیوں، تبصروں، شیئرز اور فوری مقبولیت کی دوڑ نے بعض اوقات تخلیق کے معیار، فکری گہرائی اور فنی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ مختصر اور جذباتی عبارت کو بعض اوقات مکمل ادبی تخلیق کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے۔ غیر مستند اشعار معروف شعرا کے نام سے پھیلائے جاتے ہیں اور سطحی جملوں کو فلسفے کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال تمام شاعروں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ آج بھی ایسے اہلِ قلم موجود ہیں جو تحقیق، مطالعے، فنی ریاضت اور تخلیقی دیانت کو اہمیت دیتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں شاعر کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ مقبولیت اور معیار، دونوں کے درمیان توازن قائم رکھے۔
شاعر کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ اس کے کتنے پیروکار ہیں؛ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کی تخلیق قاری کے ذہن میں کون سا سوال پیدا کرتی ہے، اس کے احساس کو کتنی وسعت دیتی ہے اور وقت گزرنے کے بعد بھی کتنی معنویت برقرار رکھتی ہے۔
مشاعروں کی رونق یا فکر کی روشنی؟
مشاعرہ ہماری ادبی روایت کا اہم حصہ ہے۔ یہ شاعروں کو ایک دوسرے سے ملنے، اپنے کلام کو سامعین تک پہنچانے اور زبان و ادب کے فروغ کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ادبی تقریبات، کتابوں کی رونمائی اور شعری نشستیں بھی تخلیقی ماحول کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
لیکن جب کسی ادبی تقریب میں شاعر کی فکری اور فنی صلاحیت سے زیادہ اس کی شہرت، تعلقات، گروہ بندی یا تشہیری اہمیت زیرِ بحث آنے لگے تو ادب کا اصل مقصد متاثر ہوتا ہے۔ اگر مشاعرے کا معیار صرف فوری داد، مقبول مصرعے اور اسٹیج پر حاصل ہونے والی پذیرائی رہ جائے تو سنجیدہ شاعری کے لیے جگہ محدود ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ادبی ادارے نئے اور پرانے شاعروں کو ان کی تخلیقی صلاحیت کے مطابق مواقع دیں۔ کتابوں پر سنجیدہ گفتگو ہو، شاعری کی فنی خوبیاں اور کمزوریاں زیرِ بحث آئیں، تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور ادبی تعلقات کو تخلیقی معیار پر فوقیت نہ دی جائے۔
ادب کی محفل محض تعارف اور تصویروں کا مجموعہ نہیں ہونی چاہیے؛ اسے فکر، مکالمے اور تخلیق کی آبیاری کا وسیلہ بننا چاہیے۔
کیا آج کے شاعر خاموش ہیں؟
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ آج کا شاعر مکمل طور پر خاموش ہے۔ عصرِ حاضر میں بھی مختلف زبانوں کے شعرا سیاسی جبر، جنگ، عورت کے مسائل، طبقاتی ناہمواری، مذہبی و سماجی عدم برداشت، ماحولیات اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر لکھ رہے ہیں۔ اردو کے ساتھ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی اور دوسری علاقائی زبانوں میں بھی تخلیقی اظہار کی روایت موجود ہے۔
اصل سوال شاعروں کی تعداد یا ان کی موجودگی کا نہیں، بلکہ ان کے اثر، رسائی اور سماجی کردار کا ہے۔
کیا شاعر کی آواز ان لوگوں تک پہنچ رہی ہے جو کتابیں نہیں خرید سکتے؟ کیا ادبی ادارے محنت کش طبقے، دیہی معاشرے، خواتین اور نوجوانوں کے تجربات کو مناسب جگہ دے رہے ہیں؟ کیا نئی نسل کو شاعری سے جوڑنے کے لیے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور عوامی کتب خانوں میں مؤثر سرگرمیاں ہو رہی ہیں؟ کیا ہمارے ادبی حلقے اپنے اختلافات کے باوجود کسی مشترکہ انسانی مسئلے پر اکٹھے ہو سکتے ہیں؟
یہ سوال صرف شاعروں سے نہیں، پورے ادبی معاشرے سے ہیں۔ کیونکہ شاعر کی آواز کو زندہ رکھنے کے لیے قاری، ناشر، نقاد، استاد، ادبی تنظیم اور ثقافتی ادارے، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
شاعر کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
معاصر شاعر کی مشکلات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کتابوں کی محدود اشاعت، مطالعے کے لیے کم ہوتے مواقع، ادبی اداروں کے محدود وسائل، معاوضے کی غیر یقینی صورتِ حال اور تخلیقی کام کے ساتھ معاشی ذمہ داریوں کو نبھانا بہت سے اہلِ قلم کے لیے حقیقی مسائل ہیں۔
بعض شاعروں کے پاس خیال اور صلاحیت تو ہوتی ہے، مگر انہیں معیاری اشاعت، مناسب رہنمائی اور وسیع قارئین تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ بعض تخلیق کار معاشی دباؤ کے باعث ادب کو زیادہ وقت نہیں دے سکتے۔ خواتین لکھنے والوں کو بعض حالات میں سماجی رویوں اور اضافی ذمہ داریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس لیے صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ شاعر کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم شاعر کو وہ ماحول فراہم کر رہے ہیں جس میں وہ مطالعہ کر سکے، تحقیق کر سکے، تخلیق کر سکے اور معاشی پریشانیوں سے کسی حد تک آزاد ہو کر ادب کی خدمت جاری رکھ سکے؟
جس معاشرے میں کتاب کی قدر کم ہو، وہاں شاعر کی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے کتاب اور قاری کے درمیان فاصلے کم کرنا بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
شاعر کی آزادی اور اس کی اخلاقی ذمہ داری
شاعری کی بنیادی خصوصیات میں تخیل، آزادی اور انفرادی تجربے کی اہمیت مسلم ہے۔ شاعر کو کسی سیاسی جماعت، نظریے یا مخصوص سماجی ایجنڈے کا پابند بنا دینا تخلیقی آزادی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہر تخلیق سے فوری سیاسی یا سماجی پیغام کی توقع رکھنا بھی ادب کی وسعت کو محدود کرتا ہے۔
اس کے باوجود شاعر اپنے لفظوں کے اثرات سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ جھوٹی خبر، نفرت انگیز الزام، کسی طبقے کی تضحیک یا انسانی تکلیف کا غیر ذمہ دارانہ استعمال محض اس لیے درست نہیں ہو جاتا کہ اسے شاعرانہ اظہار کا نام دے دیا گیا ہے۔
ایک ذمہ دار شاعر سوال کرنے سے نہیں ڈرتا، مگر اپنے سوال کو علم اور شعور سے مضبوط کرتا ہے۔ وہ اختلاف کرتا ہے، مگر انسان کی تذلیل کو اختلاف کا لازمی حصہ نہیں سمجھتا۔ وہ اپنے عہد کی خرابیوں کو بیان کرتا ہے، مگر مایوسی کو اس قدر غالب نہیں آنے دیتا کہ امید کے تمام راستے بند دکھائی دینے لگیں۔
شاعر کا کام ہر مسئلے کا حل پیش کرنا نہیں؛ کبھی اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے سوال کو زندہ کر دے جسے معاشرہ بھول چکا ہو۔
نئی نسل اور شاعری کا مستقبل
نوجوان نسل کے پاس اظہار کے جدید ذرائع ہیں، مگر انہیں ادبی روایت، زبان کی نزاکت، مطالعے کی اہمیت اور فنی ریاضت سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ نئی شاعری کو محض پرانی روایت کی نقل بنانے کے بجائے روایت اور جدت کے درمیان بامعنی مکالمہ قائم کرنا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں میں مشاعروں کے ساتھ تخلیقی تحریر کی ورکشاپس، تنقیدی نشستیں، مطالعے کے حلقے اور مختلف زبانوں کے ادب سے تعارف کے پروگرام منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ بزرگ شعرا اپنے تجربات نئی نسل تک منتقل کریں اور نوجوان شاعر نئے سوالات اور نئے اسالیب کے ساتھ ادبی دنیا میں اپنا مقام بنائیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر معیاری شاعری، مستند کلام، ادبی گفتگو اور کتابوں کے تعارف کو فروغ دیا جائے۔ ادبی تنظیمیں ایسے پروگرام ترتیب دیں جن میں صرف معروف ناموں کو نہیں بلکہ باصلاحیت اور غیر معروف تخلیق کاروں کو بھی اظہار کا موقع ملے۔
شاعری کا مستقبل اسی وقت روشن ہوگا جب اسے محض ماضی کی عظمت کا حوالہ بنانے کے بجائے حال کی ضرورت اور مستقبل کی امید کے طور پر دیکھا جائے گا۔ شاعر کا اصل منصب
شاعر کا منصب نہ تو ہر وقت انقلاب کا نعرہ لگانا ہے اور نہ ہر حال میں خاموش رہنا۔ اس کا اصل منصب اپنے عہد کو سمجھنا، انسان کے تجربے کو محسوس کرنا، سچائی کی تلاش میں دیانت داری اختیار کرنا اور اپنے لفظوں کے ذریعے شعور کی نئی راہیں کھولنا ہے۔
کبھی ایک نظم کسی قوم کو اپنے ماضی سے روشناس کراتی ہے، کبھی ایک غزل کسی تنہا انسان کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے، کبھی ایک نظم جنگ کے خلاف انسانی ضمیر کی گواہی بن جاتی ہے اور کبھی چند مصرعے معاشرے کے ایسے تضاد کو بے نقاب کر دیتے ہیں جسے طویل تقریریں بھی واضح نہیں کر پاتیں۔
لیکن یہ اثر محض لفظوں کی خوب صورتی سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے گہرا مطالعہ، وسیع مشاہدہ، فکری دیانت، زبان پر قدرت اور انسان کے دکھ سے حقیقی وابستگی درکار ہوتی ہے۔
شاعر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کے لفظ اس کی ذات سے آگے بھی زندگی رکھتے ہیں۔ آج لکھا جانے والا شعر کل کسی طالب علم کی نصابی بحث، کسی محقق کی تاریخی دستاویز یا کسی دکھی انسان کے لیے امید کا چراغ بن سکتا ہے۔
آج کے شاعر کے سامنے چیلنج صرف یہ نہیں کہ وہ اچھا شعر کیسے کہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ تیز رفتار، منقسم اور بے چین دنیا میں اپنے لفظوں کی معنویت کیسے برقرار رکھے۔ اسے محبت بھی لکھنی ہے اور نفرت کے اسباب بھی سمجھنے ہیں؛ اسے حسن کی تعریف بھی کرنی ہے اور بدصورتی کے سماجی مظاہر سے بھی آنکھیں نہیں چرانی؛ اسے اپنی ذات کے دکھ کو بیان کرنے کے ساتھ دوسروں کے دکھ کے لیے بھی دل میں جگہ پیدا کرنی ہے۔
تاریخ نے اپنے زمانے کے شاعروں کو ان کے الفاظ، فکری جرأت اور تخلیقی خدمات کی بنیاد پر یاد رکھا ہے۔ ہمارے عہد کے شاعروں کے لیے بھی یہی اصل امتحان ہے۔ شہرت عارضی ہو سکتی ہے، مشاعروں کی داد وقت کے ساتھ خاموش پڑ سکتی ہے اور سوشل میڈیا کی مقبولیت چند دنوں میں بدل سکتی ہے، مگر سچائی، انسان دوستی اور فکری بصیرت سے پیدا ہونے والی تخلیق دیر تک زندہ رہتی ہے۔
ہمیں شاعروں سے یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہر سیاسی مسئلے پر لازماً بولیں یا ہر سماجی تنازع میں کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہمیں ان سے یہ امید ضرور رکھنی چاہیے کہ وہ انسانی وقار، فکری آزادی، سچائی اور انصاف کے بنیادی سوالات سے بے نیاز نہ ہوں۔
اور ہمیں خود بھی اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا: کیا ہم سنجیدہ شاعری پڑھتے ہیں؟ کیا ہم اہلِ قلم کی کتابیں خریدتے ہیں؟ کیا ہم اختلافِ رائے برداشت کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے درمیان موجود باصلاحیت شاعروں کو وہ احترام اور مواقع دیتے ہیں جن کے وہ مستحق ہیں؟
کیونکہ شاعر کی آواز صرف شاعر کی ذمہ داری سے بلند نہیں ہوتی؛ اسے سننے والے کان، سمجھنے والے ذہن اور قبول کرنے والے معاشرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
شاعر کو صرف داد نہیں، مطالعہ کرنے والے قاری کی ضرورت ہے؛ صرف اسٹیج نہیں، آزاد اظہار کا ماحول چاہیے؛ صرف تعارف نہیں، تخلیقی قدر شناسی درکار ہے۔
شاعر زندہ ہے، شاعری بھی زندہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کی آواز سننے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے؟
کیا ہم نے اپنے عہد کے شاعر کو صرف مشاعروں کا فن کار سمجھ لیا ہے، یا اسے اب بھی معاشرے کا حساس ضمیر تسلیم کرتے ہیں؟
تاریخ کے اگلے اوراق ابھی لکھے جا رہے ہیں۔ آنے والی نسلیں جب ہمارے زمانے کو پڑھیں گی تو وہ صرف یہ نہیں دیکھیں گی کہ اس دور میں کیا واقعات پیش آئے تھے، بلکہ یہ بھی جاننا چاہیں گی کہ اس زمانے کے اہلِ قلم نے ان واقعات کو کس نظر سے دیکھا، انسان کے دکھ کو کس طرح محسوس کیا اور اپنے حصے کی روشنی جلانے کے لیے کیا کیا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ شاعر اپنے قلم کی حرمت پہچانے، معاشرہ اس کی آواز کی قدر کرے اور ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ انسانی شعور، تہذیبی شناخت اور اجتماعی مکالمے کا زندہ وسیلہ سمجھا جائے۔
کیونکہ جب قومیں اپنے شاعروں کی آواز سننا چھوڑ دیتی ہیں تو صرف چند خوب صورت لفظ خاموش نہیں ہوتے، معاشرے کے احساس، تخیل اور خود احتسابی کا ایک اہم دروازہ بھی بند ہونے لگتا ہے
مزید پڑھیں






