جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شیرا موچی،لاری اڈے کے درخت تلے بجھ جانے والا چراغ،تحریر:ڈاکٹرشجاع اختر اعوان

نقطہ نظر

کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنی عادتوں، اپنے کردار اور اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی صورت میں لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ شیرا موچی بھی ایسا ہی ایک شخص تھا، جس نے ساری عمر محنت کی، دوستیاں نبھائیں اور بے زبان مخلوق سے محبت کرتے ہوئے خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

جمعے کا دن تھا۔ ابھی چند لمحے پہلے راقم الحروف نے شیرا موچی سے دعا سلام کی تھی۔ وہ اپنا سامان سمیٹ رہا تھا، جیسے ہر روز سمیٹتا تھا۔ کسی کو کیا خبر تھی کہ یہ چند لمحوں کی ملاقات آخری ثابت ہوگی۔ تھوڑی دیر بعد جب اسی جگہ سے دوبارہ گزر ہوا تو لوگوں کا ہجوم تھا، ایک ایمبولینس روانہ ہو رہی تھی اور خبر ملی کہ شیرا موچی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ زندگی بھر لوگوں کے جوتے مرمت کرنے والا یہ محنت کش اپنے سفرِ زندگی کی آخری منزل پر پہنچ چکا تھا۔

یہ خبر سن کر احساس ہوا کہ انسان بھی کتنا عجیب مسافر ہے۔ صبح روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے، شام کو واپس جانے کے منصوبے بناتا ہے، مگر اسے معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا دن اس کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔ شیرا بھی روزانہ کی طرح اپنا کام سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا، لیکن اس روز واپسی کا سفر ادھورا رہ گیا۔

شیر خان، جسے لوگ محبت سے شیرا موچی کہتے تھے، 1956ء میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام گل محمد تھا اور خاندان کا تعلق باجوڑ سے تھا۔ روزگار کی تلاش میں خاندان پہلے میانوالی اور پھر 1966ء میں اٹک آ پہنچا۔ اس وقت شیر خان کی عمر صرف دس برس تھی۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچے بستہ اٹھا کر اسکول جاتے ہیں، کتابوں سے دوستی کرتے ہیں اور کھیل کود میں اپنا بچپن گزارتے ہیں، لیکن شیر خان کے حصے میں کچھ اور ہی آیا۔ والدین نے اسے اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر لگا دیا۔ ننھے ہاتھوں میں قلم اور کتاب کے بجائے جوتوں کی پالش اور مرمت کا سامان آ گیا۔

یوں ایک بچے کا بچپن روزگار کی نذر ہو گیا۔ اس نے کمیٹی چوک میں جوتے پالش کرنے اور مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔ وقت گزرتا رہا، بچپن رخصت ہوا، لڑکپن جوانی میں بدلا اور پھر جوانی بھی ماضی کا قصہ بن گئی۔ وہ جوتوں پر برش پھیرتا رہا اور وقت اس کے چہرے پر اپنی تحریر لکھتا رہا۔

نوّے کی دہائی میں شیرا موچی نے اپنا کام کمیٹی چوک سے لاری اڈے پر منتقل کر لیا۔ یہاں اس کی ایک چھوٹی سی دنیا آباد ہو گئی۔ صبح اپنا پرانا سا بکس اٹھائے پہنچتا، سامان نکالتا، دری بچھاتا اور ایک درخت کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ یہی اس کی دکان تھی، یہی روزگار اور یہی اس کی محفل۔ کوئی گاہک آتا تو قریب پڑے پتھر پر بیٹھ جاتا۔ جوتوں کی مرمت کے ساتھ گپ شپ کا سلسلہ بھی چل نکلتا۔ اس کے پاس بیٹھنے کے لیے کسی خاص دعوت کی ضرورت نہ تھی۔ جو آ گیا، وہ اس کی محفل کا حصہ بن گیا۔

شیرا موچی ہنس مکھ، مہمان نواز، سخی اور یار باش انسان تھا۔ دن بھر میں چائے کے کئی کپ پی جاتا، سگریٹ پیتا اور دوستوں کو بھی چائے پلانے پر اصرار کرتا۔ کبھی کوئی آنے جانے والا اس کے پاس رک جاتا تو باتوں کا سلسلہ طویل ہو جاتا۔ قریب ہی تھانہ اور پولیس لائن ہونے کی وجہ سے پولیس ملازمین سے بھی اس کی خاصی دوستی تھی۔ وہ اس کے گاہک بھی تھے اور بیٹھک کے ساتھی بھی۔ لاری اڈے کی مصروف زندگی میں شیرا کی اپنی پہچان تھی۔ اس کے پاس دولت نہیں تھی، مگر دوستوں اور تعلقات کی کمی بھی نہ تھی۔

اس کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو جانوروں اور پرندوں سے محبت تھا۔ پرندوں کو دانہ ڈالنا، پودوں کو پانی دینا اور بلیوں کو دودھ پلانا اس کے معمولات میں شامل تھا۔ یہ محض عادتیں نہیں تھیں بلکہ اس کے نرم دل ہونے کی نشانیاں تھیں۔

کرونا کے دنوں میں جب لاری اڈا بند ہو گیا، ہوٹلوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے اور کاروبار ٹھپ ہو گئے تو وہاں رہنے والے درجنوں کتے اور بلیاں بھی بھوک کا شکار ہو گئے۔ ہوٹلوں سے ملنے والے بچے ہوئے کھانے پر پلنے والے یہ جانور اچانک خوراک سے محروم ہو گئے۔ ان کے جسم لاغر ہونے لگے اور وہ موت کے قریب پہنچنے لگے۔

ایسے مشکل وقت میں شیرا نے انہیں تنہا نہیں چھوڑا۔ اپنی محدود آمدنی سے دودھ خریدتا، اس میں پانی ملاتا، روٹی کے ٹکڑے بھگو کر نرم کرتا اور ان بھوکے جانوروں کو کھلاتا تاکہ ان کے جسم و جان کا رشتہ برقرار رہ سکے۔ خود اس کے پاس وسائل کم تھے، مگر دوسروں کی بھوک کا احساس اس کے دل میں بہت زیادہ تھا۔

ذرا سوچیے، ایک ایسا شخص جو خود ساری عمر محنت کرکے اپنا پیٹ پالتا رہا، وہ اپنی کمائی میں سے ان جانوروں کے لیے بھی حصہ نکالتا تھا جو اپنی بھوک بیان کرنے کے لیے زبان نہیں رکھتے تھے۔ نہ اسے کسی تعریف کی خواہش تھی، نہ کسی انعام کی امید۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ کوئی بھوکا جانور چند نوالے کھا کر زندہ رہ سکے۔

شیرا کے گھر میں ایک گائے بھی تھی جس کا اسے خاص خیال رہتا تھا۔ روزانہ شام چار بجے کے قریب وہ اپنا سامان سمیٹتا اور اسے سامنے طارق بنگش کی دکان پر رکھ دیتا۔ پھر حجام کی دکان پر جا کر منہ ہاتھ دھوتا اور گھر روانہ ہو جاتا تاکہ گائے کے چارے کا بندوبست کر سکے۔ دن بھر کے کام کے بعد بھی اسے اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی فکر رہتی تھی۔

وقت نے اس کے چہرے کو بھی بدل دیا۔ کبھی سرخ و سفید رنگت والا خوب صورت بچہ اب بڑھاپے میں داخل ہو چکا تھا۔ چہرے کی سرخی ماند پڑ گئی، جھریوں نے جگہ بنا لی، سر کے بال سفید ہو گئے اور داڑھی بکھرنے لگی۔ دوستوں کے اصرار پر اس نے بالوں اور داڑھی میں خضاب لگانا شروع کر دیا۔ شاید وہ اپنے بدلتے ہوئے حلیے میں جوانی کی کوئی جھلک باقی رکھنا چاہتا تھا، لیکن وقت کی رفتار کے سامنے کس کا بس چلتا ہے؟

1956ء میں پیدا ہونے والا شیر خان تقریباً ساٹھ برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کے انتقال کا دن جمعہ تھا۔ نمازِ جمعہ کی تیاری ہو رہی تھی جب راقم الحروف کی اس سے دعا سلام ہوئی۔ شیرا اپنا سامان سمیٹ رہا تھا۔ چند منٹ بعد جب دوبارہ اسی جگہ سے گزر ہوا تو لوگوں کا ہجوم دکھائی دیا۔ معلوم ہوا کہ وہ سامان سمیٹ کر حجام کی دکان پر گیا، غسل کیا، صاف کپڑے پہنے اور اچانک دل کا دورہ پڑنے سے گر پڑا۔ ریسکیو 1122 کو بلایا گیا۔ اہلکاروں نے موت کی تصدیق کر دی، تاہم مزید اطمینان کے لیے اسے ہسپتال بھی لے جایا گیا۔

یہ سب کچھ کتنی جلدی ہو گیا۔ ابھی وہ اسی جگہ موجود تھا جہاں برسوں سے بیٹھتا آیا تھا، مگر اب اس کی جگہ خالی تھی۔ وہ پرانا بکس، جوتوں کی پالش کا سامان اور درخت کا سایہ اپنی جگہ موجود تھے، لیکن ان کے درمیان بیٹھنے والا شخص ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا۔

کہتے ہیں کہ شیرا کے انتقال سے چند روز قبل اس کے بھائی کا بھی اسی طرح اچانک انتقال ہوا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ بھائی کی جدائی کا صدمہ شیرا کے لیے بہت گہرا تھا، تاہم اس کی موت کی اصل وجہ کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ اپنوں کی جدائی انسان کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

شیرا کی زندگی میں دولت، شہرت یا بڑے عہدے نہیں تھے۔ اس کی زندگی محنت، سادگی، دوستی اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے عبارت تھی۔ اس نے بچپن سے کام شروع کیا اور عمر بھر اپنے ہاتھوں سے روزی کمائی۔ اس کی داستان ان بچوں کی یاد بھی دلاتی ہے جنہیں حالات تعلیم اور کھیل کے بجائے کم عمری میں مزدوری پر لگا دیتے ہیں۔ شیر خان بھی انہی بچوں میں سے ایک تھا، جس کا بچپن وقت سے پہلے ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب گیا۔

لیکن اس محرومی نے اس کے دل کی نرمی ختم نہیں کی۔ وہ دوستوں کو چائے پلاتا، لوگوں سے ہنسی مذاق کرتا اور بے زبان مخلوق کے لیے اپنے وسائل میں سے حصہ نکالتا تھا۔ یہی اس کی اصل پہچان تھی۔

آج لاری اڈے پر گاڑیاں پہلے کی طرح آتی جاتی ہوں گی۔ مسافروں کا شور، ہوٹلوں کی رونق اور روزگار کی بھاگ دوڑ بھی جاری ہوگی۔ ممکن ہے کسی دوسرے موچی نے اس جگہ بیٹھ کر جوتوں کی مرمت شروع کر دی ہو، لیکن شیرا کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا۔ ہر انسان اپنے انداز، اپنی عادتوں اور اپنے کردار کے باعث منفرد ہوتا ہے۔

کچھ لوگ دنیا سے جاتے ہوئے بڑی جائیدادیں چھوڑ جاتے ہیں، کچھ اپنے نام کے چرچے، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو صرف یادیں چھوڑتے ہیں۔ شیرا موچی نے بھی اپنے پیچھے کوئی محل یا دولت نہیں چھوڑی، مگر اس کی یاد میں ایک پرانا بکس، درخت تلے بچھی دری، چائے کے کپ، دوستوں کی محفل اور بھوکے جانوروں کے لیے دودھ میں بھگوئی ہوئی روٹی ضرور موجود ہے۔

شیرا موچی کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کی قدر اس کی دولت یا مرتبے سے نہیں، اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جوتوں کی مرمت کرتے گزارا، لیکن اپنے عمل سے دلوں کو جوڑنے کا کام بھی کرتا رہا۔ وہ خود زندگی کی سختیوں سے گزرا، مگر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

اس کے جانے کے بعد شاید لاری اڈے کے درخت تلے کوئی اس کی کمی محسوس کرے، کوئی اس کی چائے یاد کرے، کوئی اس کے قہقہوں کو اور کوئی اس کے ہاتھوں سے کھانا کھاتے جانوروں کو۔ یہی چھوٹی چھوٹی یادیں کسی انسان کو لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتی ہیں۔

شیرا موچی تقریباً ساٹھ برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ جس دن اس نے اپنا سامان سمیٹا، شاید اسے معلوم نہ تھا کہ اب وہ دوبارہ اس درخت تلے نہیں بیٹھے گا۔ اس کے بعد نہ وہ اپنے دوستوں کو چائے پلائے گا، نہ کسی گاہک سے ہنسی مذاق کرے گا اور نہ کسی بھوکے کتے یا بلی کے لیے دودھ خریدے گا۔

لیکن زندگی کی کتاب میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر ختم نہیں ہوتا۔ شیرا موچی بھی انہی میں سے ایک تھا۔ وہ ایک محنت کش انسان تھا، ایک دوست تھا، ایک نرم دل شخص تھا اور ان بے زبان جانوروں کے لیے امید کی ایک چھوٹی سی کرن تھا جنہیں دنیا اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔

اب لاری اڈے پر گاڑیاں چلتی رہیں گی، مسافر آتے جاتے رہیں گے، مگر درخت کے نیچے بیٹھا وہ شخص واپس نہیں آئے گا۔ اس کا بکس خاموش ہوگا، اس کی دری خالی ہوگی اور اس کی جگہ وقت کے ساتھ شاید کسی اور سے بھر جائے، لیکن شیرا کی یاد اس کے اپنے انداز میں باقی رہے گی۔

اللہ تعالیٰ شیر خان المعروف شیرا موچی کی مغفرت فرمائے، اس کی خطاؤں سے درگزر کرے، اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

کچھ لوگ زندگی بھر اپنے لیے جیتے ہیں، اور کچھ اپنی تنگ دستی کے باوجود دوسروں کے لیے بھی جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ شیرا موچی نے شاید دنیا کی نظر میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہ دیا ہو، مگر ایک بھوکے جانور کو کھانا کھلانا، کسی دوست کو چائے پلانا اور محنت سے رزق کمانا بھی زندگی کے وہ چراغ ہیں جو انسان کے جانے کے بعد دیر تک روشن رہتے ہیں۔